گیس کی قیمتوں میں اضافہ۔۔۔مہنگائی کے سونامی کا خطرہ

گیس کی قیمتوں میں اضافہ۔۔۔مہنگائی کے سونامی کا خطرہ

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گھریلو سمیت ہر قسم کے صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں 10سے لے کر 143فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ گھریلو صارفین کے سلیب بھی تین سے بڑھا کر سات کر دیئے گئے ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق آئندہ ماہ (اکتوبر) سے ہوگا۔ گھریلو، کمرشل، انڈسٹریل، پاور، فرٹیلائزر، سیمنٹ اور سی این جی سیکٹرز اضافے سے متاثر ہوں گے۔ اس اقدام کے ذریعے116ارب روپے حاصل ہوں گے جس میں سے 95ارب روپے گیس کمپنیوں کو چلے جائیں گے جبکہ حکومت کو جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 16ارب روپے ملیں گے۔پٹرولیم کے وزیر محمد سرور خان کا کہنا تھا جنہوں نے وزیراطلاعات فواد چودھری کے ساتھ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کا اعلان کیا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کیونکہ حکومت مہنگی گیس خرید کر سستے نرخوں پر آگے صارفین کو فروخت نہیں کرسکتی تھی انہوں نے کہا کہ 60فیصد آبادی سلنڈر گیس (ایل پی جی) استعمال کر رہی ہے جس کی قیمت میں 200روپے فی سلنڈر کمی کی گئی ہے۔23فیصد آبادی قدرتی گیس استعمال کرتی ہے جس کے لئے نرخوں میں اضافہ ہوگا۔

یہ تاجرانہ منطق اپنی جگہ کتنی بھی درست ہو کہ مہنگی گیس خرید کر سستی فروخت نہیں کی جا سکتی لیکن اس استدلال کی داد نہیں دی جا سکتی کہ اس فیصلے سے غریب لوگ متاثر نہیں ہوں گے کیونکہ جب قیمتوں میں اضافے کا سرکل مکمل ہوگا تو پتہ چلے گا کہ لاکھوں لوگ اس فیصلے سے براہ راست یا بالواسطہ اثر پذیر ہوں گے ۔گھریلو صارفین تو براہِ راست فیصلے کی زد میں آئیں گے۔کم گیس استعمال کرنے والوں پر کم اثر پڑے گا جبکہ جو صارفین گیس کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ان پر زیادہ اثر ہو گا تاہم یہ بات درست ہے کہ ایل پی جی کا سلنڈر سستا ہونے کے باوجود قدرتی گیس استعمال کرنے والے اب بھی فائدے میں رہیں گے اس لئے جہاں جہاں ممکن ہو گیس سپلائی نیٹ ورک کو وسعت دینی چاہیے لیکن تمام حکومتیں گیس کی سپلائی کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ ایسے علاقوں کو گیس دی جاتی رہی ہے جس کی سفارش کوئی ایم پی اے یا ایم این اے کرے، اب اگر یہ سلسلہ جاری رہے گا تو بھی بہت سے ایسے علاقے قدرتی گیس سے استفادہ کرنے سے محروم رہیں گے جنہیں ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل نہ ہو۔ایک اندازے کے مطابق 83لاکھ چھوٹے صارفین پر مہنگائی کا بوجھ تو براہ راست منتقل ہو گا، گاڑیوں میں استعمال ہونے والی سی این جی مہنگی ہو جائے گی تو ان گاڑیوں کے مالکان متاثر ہوں گے جو سی این جی پر چلتی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ جائیں گے۔

صنعتی سیکٹر کے لئے بھی گیس مہنگی کی گئی ہے اس کا اثر بھی بالآخر ان اشیاء کے صارفین پر پڑے گا، سیمنٹ سیکٹر کے لئے گیس کے نرخ بڑھائے گئے ہیں تو ظاہر ہے سیمنٹ کے صارفین ہی اس کی ادائیگی کریں گے، سریا بھی مہنگا ہو جائے گا کیونکہ سٹیل ملوں کو بھی گیس کی زیادہ ادائیگی کرنی ہو گی۔ کھاد کا خام مال تو ہے ہی قدرتی گیس، اس لئے اب اگر کھاد مہنگی تیار ہو گی تو فروخت بھی مہنگے داموں ہوگی، کھاد کا خریدار زمیندار ہے جو پہلے ہی مہنگی کھادوں کا شکوہ سنج ہے زرعی مداخل کی قیمتیں بڑھنے سے اس کی زرعی پیداوار کی قیمتیں بھی بڑھیں گی جن کی ادائیگی بھی بالآخر ان لوگوں نے کرنی ہے جو ان اشیاء کو استعمال کریں گے۔ پنکھے، ایئرکولر اور واٹر کولر بھی مہنگے ہو جائیں گے جو تندور سوئی گیس سے جلتے ہیں وہاں سے روٹی خریدنے والے عام صارفین کو اب روٹی مہنگی ملے گی کیونکہ اس سے پہلے آٹے کی قیمت بھی بڑھ چکی ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو گا چونکہ تمام کھانے گیس کے چولہوں پر ہی تیار ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اپنے اس موقف کو درست سمجھتی ہے کہ مہنگی گیس خرید کر سستی فروخت نہیں کی جا سکتی تو ایک عام صنعت کار جو کاروبار ہی منافع کمانے کے لئے کر رہا ہوتا ہے۔ وہ کس طرح مہنگی تیار ہونے والی اشیاء کم نرخوں پر بیچے گا؟ بلکہ اس کی کوشش تو یہ ہوگی کہ اسے گیس کے جتنے زائد اخراجات ادا کرنے پڑیں گے وہ ان میں اضافہ کرکے آگے صارفین کو منتقل کرے، اس لئے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر گیس کی قیمت بڑھا کر 116ارب روپے اضافی جمع کئے جائیں گے تو بڑھی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہونے والا ہر تاجر اور صنعت کار جب قیمتیں بڑھائے گا تو عین ممکن ہے یہ بوجھ ڈیڑھ دو گنا زیادہ ہو کر عام صارفین تک منتقل ہو اس لئے مہنگائی کا ایک پورا سرکل چلے گا جو بالآخر ایک طوفان بلکہ سونامی کی شکل اختیار کرلے گا۔ گزشتہ کئی برس سے گیس کی قیمت نہیں بڑھائی گئی تھی بلکہ سبسڈی کی رقم بتدریج کم کی جا رہی تھی جس سے صارفین پر بوجھ مرحلہ وار منتقل ہوتا تھا اب ’’مشکل فیصلہ ‘‘ کرکے ایک دم بڑا بوجھ ہر قسم کے گیس صارفین پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پھر بھی اگر یہ امید کی جا رہی ہے کہ مہنگائی نہیں بڑھے گی تو اسے خوش فہمی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟

بجلی کی طرح گیس بھی چوری ہوتی ہے۔ بجلی کمپنیاں چوری روکنے کے لئے مختلف قسم کے اقدامات کرتی رہتی ہیں اگرچہ یہ سلسلہ پوری طرح سے رک تو نہیں سکا بلکہ کہیں کہیں تو چوری کے ساتھ سینہ زوری بھی ہوتی ہے اور براہ راست کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے جو ویسے بھی ایک رسکی کام ہے لیکن یہ سلسلہ روکا نہیں جا سکا البتہ سمارٹ میٹر متعارف کرائے جا رہے ہیں اور پائلٹ پراجیکٹ کے ذریعے ان میٹروں کی تنصیب کا آغاز کیا جا چکا ہے لیکن کیا گیس کمپنیاں بھی گیس چوری روکنے کے لئے اقدامات کر رہی ہیں اس سلسلے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ گیس کے بڑے صارفین عملے کے ساتھ مل کر ہی یہ دھندا کرتے ہیں چونکہ گیس کے تمام پائپ زیر زمین ہوتے ہیں ۔ اس لئے عملے کی مدد کے بغیر گیس چوری نہیں ہو سکتی لیکن یہ چوری روکنے کے لئے بھی اگر کوئی اقدامات کئے جا رہے ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں تاکہ معلوم ہو کہ اس سلسلے میں بھی کچھ کیا جا رہا ہے، اگر گیس چوری کا سلسلہ رک جاتا تو بھی قیمتیں زیادہ شرح سے بڑھانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اب جبکہ قیمتیں بڑھیں گی تو خدشہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ چوری میں بھی اضافہ ہو جائے گا اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے جس سونامی کی لہر اٹھے گی اس کا مقابلہ طفل تسلیوں سے نہیں ہو سکتا ۔مہنگائی کے اثرات سے اسی صورت محفوظ رہا جا سکتا ہے جب لوگوں کی قوتِ خرید میں بھی اضافہ ہو لیکن عام آدمی اپنی مرضی سے قوتِ خرید میں اضافہ نہیں کر سکتا۔سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں تنخواہیں جس شرح سے بڑھتی ہیں، مہنگائی اس سے کئی گنا رفتار سے بڑھ جاتی ہے ایسے میں لوگوں کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے، جو لوگ بیروزگاری کا شکار ہیں ان کے مسائل تو دوچند ہو جاتے ہیں موجودہ حکومت نے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کر رکھا ہے اس جانب کوئی پیش رفت تو جب ہوگی اس وقت دیکھا جائے گافی الحال تو مہنگائی کے سونامی کا ’’خیرمقدم‘‘ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

مزید : رائے /اداریہ