تارکین وطن کی ووٹنگ رجسٹریشن میں عدم دلچسپی!

تارکین وطن کی ووٹنگ رجسٹریشن میں عدم دلچسپی!

پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے پاکستانی تارکین وطن کو ملکی انتخابات میں رائے دہی کی سہولت بہم پہنچانے کے لئے پہلی ہی کوشش ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کمیشن نے نادرا کے تعاون سے ایک سافٹ ویئر تیار کرایا جس کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے خود کو بطور ووٹر رجسٹرکروا سکتے ہیں اور وہ انٹرنیٹ کے ہی ذریعہ اپنا ووٹ استعمال کر سکیں گے اس سلسلے میں خاصی پبلسٹی کی گئی کہ تارکین وطن خود کو رجسٹر کرالیں۔ لیکن تا حال قابل ذکر تعداد نے ایسا نہیں کیا۔ اطلاعات کے مطابق رجسٹریشن کے اہل پانچ لاکھ 20 ہزار افراد ہیں اور اب تک صرف 7 ہزار 4 سو نے رجسٹریشن کرائی حالانکہ آخری تاریخ میں دو تین مرتبہ توسیع کی گئی۔اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رائے دہی کا حق اس صورت میں تو حاصل ہے کہ ان کا ووٹ ان کے آبائی علاقے میں درج ہو اور وہ خود آکر ووٹ دے سکتے ہیں۔ تاہم بیرون ملک رہتے ہوئے ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ وہ اپنی رائے ووٹ کے ذریعے ظاہر کر سکیں۔ ان پاکستانیوں کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ان کو بھی ووٹنگ کا حق دیا جائے۔ جو پاکستانی تارکین وطن یہ مطالبہ کر رہے تھے ان میں سے اکثریت کا تعلق بھی تحریک انصاف سے ہے اور تحریک انصاف بھی آواز اٹھاتی رہی ہے۔ بلکہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا تو خود وزیر اعظم عمران خان نے بھی وعدہ کیا تھا کہ برسر اقتدار آکر یہ حق دیں گے ادھر عدالت عظمیٰ نے بھی ہدایت کر دی چنانچہ الیکشن کمیشن نے نادرا سے رجوع کیا اور الیکٹرونک ووٹنگ کے لئے سافٹ ویئر تیار کرنے کو کہا۔ کثیر سرمائے سے یہ عمل مکمل ہوا تو الیکشن کمیشن نے اکتوبر میں ہونے والے ضمنی انتخابات ہی میں اس حق رائے دہی کے استعمال کا فیصلہ کر لیا اور غیر ممالک میں مقیم حق دار پاکستانیوں کو پہلی فرصت میں رجسٹریشن کے لئے کہا۔ اس کا نتیجہ مایوس کن ہے۔اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں جلدی کی گئی اور یہ خیال نہیں کیا گیا کہ جو پاکستانی بیرونی ممالک میں روز گار کے حوالے سے مقیم ہیں ان کی بھاری اکثریت ایسے سافٹ ویئر کے استعمال کا شعور ہی نہیں رکھتی اور کمپیوٹر/ انٹرنیٹ سے مانوس افراد کم ہی ہوں گے، ان پاکستانیوں کی زیادہ تعداد بھی کم پڑھے لکھے مزدور پیشہ حضرات ہیں اور اول تو ان کے پاس کمپیوٹر/ لیپ ٹاپ ہی نہیں ہیں اور دوسرے ان کا استعمال بھی نہیں آتا۔اس صورت حال سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس سب کے لئے جلد بازی سے کام لیا گیا اور تا حال کثیر سرمائے سے تیار نظام کارآمد ثابت نہیں ہو سکا، ساڑھے پانچ لاکھ میں سے صرف ساڑھے سات ہزار کے قریب رجسٹریشن تو کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اب یہی امکان نظر آتا ہے کہ انہی رجسٹرڈ اراکین اور رائے دہندگان پر ہی بھروسہ کیا جائے اور ضمنی انتخابات میں الیکٹرانک ٹیکنالوجی سے رائے دہی کا تجربہ کر لیا جائے۔ اور پھر اسے اگلے عام انتخابات تک موخر کیا جائے اس دوران بہتر انتظامات اور تکنیک کو زیادہ مفید بنا کر رجسٹریشن اور اس کے بعد ووٹ ڈلوانے کے نظام کو فول پروف اور پاپولر بنا لیا جائے۔ اس دوران ملک کے اندر ای ووٹنگ کے نظام پر بھی کام دوبارہ شروع کیا جائے۔ جسے آزما کر چھوڑ دیا گیا حالانکہ جو خامیاں نظر آئیں ان کو دور کر کے یہ سلسلہ باقاعدہ بحال ہو سکتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ