لاہور چیمبر آف کامرس کے سالانہ انتخابات

لاہور چیمبر آف کامرس کے سالانہ انتخابات

بیسویں صدی کے آغاز میں خطے کے صنعتکاروں کو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قیام کی ضرورت کا احساس ہوا ۔اُن کی کوششوں کی بدولت 1923ء میں چیمبر لین روڈ پر واقع نیشنل بینک آف انڈیا کی عمارت میں ناردرن انڈیا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا قیام عمل میں لایا گیا اور انڈین کمپنیز ایکٹ کے سیکشن 6کے تحت اسے باقاعدہ رجسٹرڈ کیا گیا۔1925ء میں میسرز سپیڈنگ اینڈ کو کے مسٹر ڈبلیو آر میکپھرسن اس کے پہلے صدر بنے جبکہ میسرز دی جنرل الیکٹرک کمپنی (انڈیا) کے مسٹرڈی جے ہارن اُن کے معاون تھے۔ پہلی منتخب شدہ ایگزیکٹو کمیٹی میں مسٹر پی ایچ گیسٹ، مسٹر ڈی مے ایرنڈل، مسٹر ایف رائے کروفٹ، ڈبلیو اون رابرٹس، مسٹر وی ایچ بولتھ، مسٹر ایچ جے رستم جی، مسٹر بھگت گووند داس اور مسٹر ایل راجہ رام شامل تھے۔

چیمبر آف کامرس کے قیام کی کوششیں 1922ء میں شروع ہوئیں۔ ابتدا میں اس کے ممبران کی تعداد 21تھی جو آنے والے سالوں میں تیزی سے بڑھی۔ چیمبر نے 1958ء میں ویسٹ پاکستان چیمبر آف کامرس کے آرٹیکل پر دستخط کیے۔ سال 1966ء میں دی ناردرن انڈیا چیمبر آف کامرس، ویسٹ پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان چیمبر آف کامرس نرسنداس بلڈنگ، لاہور ضم ہوگئے اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری معرض وجود میں آیا۔ لاہور چیمبر جو ابتدا میں کرائے کی عمارت میں قائم کیا گیا۔ اس کی موجودہ عمارت کا سنگِ بنیاد 22فروری 1975ء میں رکھا گیا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ بھی کیا گیا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ممبرشپ اس وقت 22 ہزار کے لگ بھگ ہوچکی ہے۔

اس عظیم الشان ادارے کے انتظامی معاملات 32 رُکنی ایگزیکٹو کمیٹی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جس کی سربراہی صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کرتے ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی ممبرز سالانہ الیکشن کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں،جبکہ ہر ایگزیکٹو کمیٹی کا دورِ انتخاب دو سال پر محیط ہوتا ہے۔ ممبران کی دو کیٹگریز ہیں جن میں کارپوریٹ کلاس اور ایسوسی ایٹ کلاس شامل ہیں۔ کارپوریٹ کلاس کے لئے سالانہ ٹرن اوور کی کم از کم حد پچاس لاکھ روپے جبکہ اس سے کم ٹرن اوور والے ایسوسی ایٹ کلاس ممبران کہلاتے ہیں۔

اگرچہ لاہور چیمبر کی باگ ڈور ہمیشہ فاؤنڈرز کے ہاتھ میں رہی، لیکن سال 2002ء میں دو گروپوں کا اتحاد عمل میں آیا۔اس سال لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پیاف فاؤنڈرز الائنس کو تشکیل پائے ہوئے 16سال مکمل ہوگئے۔ یہ الائنس سال 2002ء میں لاہور کی تاجر برادری کے دو بڑے گروپوں فاؤنڈرز اور پیاف کے اشتراک کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا۔پیاف فاؤنڈرز الائنس نے اتحاد کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے کامیابیوں کی نئی داستانیں رقم کیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا،جس کے لئے دونوں گروپوں کے رہنماؤں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ سال 2018ء میں اِس الائنس کو معرض وجود میں آئے 16سال کا طویل عرصہ بیت گیا، جس کے دوران الائنس نے بہت ساری کامیابیاں سمیٹیں۔

الائنس کے نمائندوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پلیٹ فارم سے امن و امان کی صورتحال، بجلی و گیس کے بحران، بجلی پٹرول گیس کی قیمتوں میں اضافے، معاشی چیلنجز، کاروبار دشمن چیلنجز، مارکیٹوں اور تاجر برادری کو درپیش مسائل کے خلاف نہ صرف بھرپور آواز بلند کی بلکہ ان کے حل کے لئے متعلقہ وزارتوں اور سرکاری محکموں سے رابطہ بھی کیا،جس کے بڑے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ ہر سال الائنس کے امیدواروں کا بھاری اکثریت سے کامیاب ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ تاجر برادری بھی پیاف فاؤنڈرز الائنس پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔ پیاف فاؤنڈرز الائنس ہر سال لاہور چیمبر میں باقاعدگی سے انتخابات کرواکر جمہوری اقدار کو زندہ رکھتا ہے۔ کافی عرصہ تک تو پیاف فاؤنڈرز الائنس بلامقابلہ یا پھر یکطرفہ طور پر انتخابات جیتتا آیا ہے، لیکن گذشتہ کچھ عرصہ سے بزنسمین فرنٹ پیاف فاؤنڈرز الائنس کے مدمقابل آرہا ہے، جو پیاف فاؤنڈرز الائنس کے ہی کچھ ناراض دوستوں نے تشکیل دیا تھا۔

اس سال کارپوریٹ اور ایسوسی ایٹ کلاس کے انتخابات بالترتیب 24اور 25 ستمبر کو منعقد ہورہے ہیں،جس کے لئے الائنس نے منجھے ہوئے صنعتکاروں اور معاشی ماہرین پر مشتمل پینل تشکیل دیا ہے،انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والے الماس حیدرجو لاہور چیمبر آف کامرس میں سینئر نائب صدر کے عہدے پر رہ چکے ہیں ، بھی الائنس کی کارپوریٹ کلاس کے امیدوار ہوں گے، اسی طرح ریٹیل سیکٹر کی نمائندگی کے لئے نویداللہ خان، ملٹی نیشنل سے وقار احمد، آبی وسائل پر خالد عثمان ، عاقب آصف اور خواجہ شہزاد ناصر آئندہ دو سال کے لئے لاہور چیمبر کی مجلس شوریٰ سے نمائندگی کریں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں کارپوریٹ کلاس کی 8 نشستوں پر سالانہ انتخابات 24 ستمبر کو ہوں گے، جبکہ 25 ستمبر کو ایسوسی ایٹ کلاس کے انتخابات کے بعد لاہور چیمبر کی قیادت تبدیل ہو جائے گی اور 30 ستمبر کو سالانہ اجلاس عام کے موقع پر موجودہ عہدیدار نو منتخب عہدیداروں کو ذمہ داریاں سونپ کر اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو جائیں گی۔

پیاف فاؤنڈر الائنس کی قیادت نے تمام ادوار میں کاروباری برادری کی بہترین انداز میں خدمت کی ہے، الائنس کی موجودہ قیادت نے پالیسی ایڈووکیسی، ممبران کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کو اعلیٰ فورمز تک پہنچاکر حل کروایا،جبکہ لاہور چیمبرکے ممبران کے لئے لیسکو، سمیڈا، نادرا، ایف بی آر، ٹریفک پولیس، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سہولیاتی مراکز قائم کئے گئے،چیمبر کے مطالبے پر مال روڈ اور دیگر سڑکوں کو احتجاج اور مظاہروں کے لئے بند کرنے پر پابندی عائد کی گئی،مقامی صنعتوں کو تحفظ دینے کے لئے چین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ رکوایا، مارکیٹوں میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور ٹریفک، بجلی، ٹیلیفون کے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ علاوہ ازیں ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال اور نوٹسز کے اجراء پر احتجاج اور تاجروں کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی روکنے اور بینک ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا،لہٰذا مذکورہ اقدامات کی بدولت پیاف فاؤنڈر الائنس کو ممبران کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے، جہاں سے اٹھنے والی آواز کی بازگشت اعلیٰ حکومتی ایوانوں میں سنی جاتی اور اس کی تجاویز پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔اِسی ادارے کی سربراہی کرنے والے بہت سے صنعتکار آگے جاکر وفاقی و صوبائی وزراء اور سرکاری اداروں کے سربراہان کی حیثیت سے سرکاری مشینری کا حصّہ بنے،لہٰذا برسراقتدار چاہے کوئی بھی آئے اسے واضح سمت متعین کرکے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا، کیونکہ کاروباری شعبہ اور معیشت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔

مزید : رائے /کالم