قرضے کا پھندہ اور امریکی سفارتکاری

قرضے کا پھندہ اور امریکی سفارتکاری
قرضے کا پھندہ اور امریکی سفارتکاری

  

’’قرضے کا پھندہ سفارتکاری‘‘ کیا ہوتی ہے؟ پہلے ’’قرضے کا پھندہ‘‘ جانتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ بھارت یعنی ہندوؤں کے دیش میں مہاجن ہوا کرتے تھے، ساہوکار بھی کہلاتے تھے وہ گاؤں کے لوگوں کی چھوٹی موٹی ضروریات پورا کرنے کے لئے انہیں قرضے دیاکرتے تھے۔ یہ قرضے کسی ’’اثاثے‘‘ کے عوض یعنی ’’ضمانت‘‘ کے ساتھ ہوتے تھے۔ غریب کسان کبھی اپنی بیوی کے سونے چاندی کے زیورات کبھی دھاتی برتن، کبھی زمین کے ملکیتی کاغذ رہن رکھ کر ساھوکار یا مہاجن سے قرض لیتے تھے۔سودا ادا کرتے رہتے، پھر وقت مقررہ پر جب اصل زر واپس نہیں کر پاتے تو اپنی ملکیت سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔ ہندو ساھوکار اور لالے اس طرح اصل زر سے کئی گنا زیادہ مقروض سے وصول کر لینے کے باوجود اس کی ملکیت پر قابض ہو جاتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان، برٹش انڈیا میں لالوں اور ساھوکاروں کے مقروض بھی تھے اور اپنی حیثیت بھی گنوا بیٹھتے تھے۔ مسلمانوں کی بدتر معاشی حالت کے بہت سے اسباب میں یہ نظام بھی ایک اہم عامل تھا۔ ہندوؤں سے علیحدگی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے لئے ہندی مسلمانوں کے مطالبے کے پس پردہ یہ عامل بھی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ آزاد ریاست کے قیام سے یہ امیدیں وابستہ تھیں کہ انہیں اس سودی شکنجے سے نجات مل جائے گی۔ ’’قرض کا پھندہ‘‘ ٹل جائے گا۔ دوسری طرف سودی نظام کو یہودی چلاتے تھے۔ نبی کریمﷺ کے دور بعثت میں یہودی قرضے کا جال پھیلائے ہوئے تھے۔ ان کی مالی حیثیت بھی مستحکم تھی اور سماجی طور پر بھی طاقتور تھے۔ انہوں نے اپنی اس حیثیت کو اسلامی ریاست کے خلاف خوب استعمال کیا اور حق کا راستہ روکنے کی بھرپور کاوشیں کیں۔

جنگِ عظیم اول کے دوران انہوں نے برطانوی سامراج کی دل کھول کر مدد کی۔ حکومت برطانیہ کو قرض دیا، جنگی اخراجات اٹھائے اور پھر اپنی ’’موعود ریاست‘‘ یعنی اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی۔انہوں نے امریکہ میں بھی ’’نظام زر‘‘ قائم کیا اور اس کے ذریعے ابھرتی ہوئی عالمی ریاست پر قابض ہو گئے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اقوام مغرب، یعنی عیسائی دنیا میں معیشت پر یہودی چھائے ہوئے ہیں۔ عددی اعتبار سے کم ترین ہونے کے باوجود عیسائی دنیا ان کے ’’پنجہ قدرت‘‘ میں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انہی یہودیوں نے جھٹلایا تھا، انہی یہودیوں نے ان کے پیغام حق کی تکذیب کی، انہیں تکلیفیں پہنچائیں اور بالآخر انہیں سولی پر چڑھا دیا۔ پھر یہودی اللہ کے غیظ و غضب کا شکار ہوئے ، ان کی عظیم ریاست اسرائیل مکمل تباہی و بربادی کا شکار ہو گئی۔

اللہ نے انہیں سیادت کے منصب سے معزول کر دیا۔ ان کی عظمت کا نشان ھیکل سلیمانی بھی پیوند خاک ہوا۔ یہ قوم 2500سالوں تک آوارگی کا شکار رہی۔حتیٰ کہ انہوں نے عیسائی دنیا میں نقب لگا کر انہیں اپنی حمایت پر راضی کیا۔ الہامی پیغام میں تبدیلیاں کیں اور اپنے اوپر عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھانے کے الزام کا بھی صفایا کر دیا۔ برطانیہ نے 1948ء میں یہودی ریاست قائم کی اور امریکہ نے اس کی حفاظت و تعمیر کا ذمہ لیا۔ یہودیوں نے اپنی صدیوں پرانی خصلت کے تحت سودی نظام کا جال پھیلایا اور امریکی نظام زر و دولت پر قابض ہو گئے۔ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک، پیرس کلب وغیرہ جیسے دیوہیکل ادارے قائم کئے۔ دنیا کو قرضوں کے جال میں پھنسایا۔ انہوں نے یہ سب کچھ کیسے کیا، اس کے اثرات کیا ہیں۔ دنیا ان کے قبضے میں کیسے آئی وغیرہ جیسے سوالات کا جواب آسان نہیں ہے۔ کالم کی تنگی دامان اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ان پر بحث کی جائے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ دنیا ،سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں ہے۔ دنیا کے تمام وسائل گنتی کی دیوہیکل بین البراعظمی کارپوریشنوں کے قبضے میں ہیں اور ان کے مالک یہودی ہیں جو نہ صرف ذرائع پیداوار اور نظام تقسیم پر مکمل دسترس و قدرت رکھتے ہیں، بلکہ ان کی سمت متعین کرنے میں بھی حتمی کردار ادا کرتے ہیں۔

جس وقت مہاتیر محمد کی قیادت میں ملائیشیا ایشین ٹائیگر بنا تھا اس وقت ایک یہودی سرمایہ کار جارج سورس نے کہا تھا کہ ’’میں اس ٹائیگر کو بلی بنا دوں گا‘‘۔۔۔ پھر ہم نے دیکھا ساؤتھ ایشین ایشیائی ممالک کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بحران پیدا ہوا اور وہ برف کی سلوں کی طرح پگھلنے لگیں۔ ملائیشیا ٹائیگر کے مقام سے گرتا گرتا بلی بن گیا، گزری نصف صدی کے دوران ان عالمی زرعی و مالیاتی اداروں نے عالمی معیشت پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ ادارے تعمیر و ترقی کے نام پر چھوٹے بڑے ممالک کو اپنی شرائط پر قرضے دیتے ہیں اور پھر ان سے ایسے فیصلے کراتے ہیں، جن سے عالمی زرعی و مالیاتی اداروں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ ان کی پالیسیاں آگے بڑھتی ہیں جو ممالک یا قومیں ان کی پالیسیوں پر صاد نہیں کرتیں، ان پر حلقہ تنگ کیا جاتا ہے۔ سیاسی دباؤ ڈالا جاتا ہے، اقتصادی مشکلات میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ ماضی قریب و بعید کی تاریخ کا مطالعہ کر لیں۔ آپ کو ایک بھی ایسا ملک نہیں ملے گا، جس نے قرضے لے کر ترقی کا سفر طے کیا ہو، کیونکہ قرضے اور ان کی شرائط اور پھر سود و اصل زر کی واپسی جیسے امور کے ساتھ ترقی ہو ہی نہیں سکتی، جس طرح ماضی بعید میں ہندوساھوکار ہی فائدے میں رہتا تھا۔

قرضہ حاصل کرنے والا، صرف ایک بار ہی فیصلہ کر سکتا تھا کہ وہ قرض لے یا نہیں۔ قرض لینے کے بعد وہ قرض خواہ کے آھنی شکنجے میں جکڑا جاتا تھا۔ بالکل اسی طرح جس ملک نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ وہ قرضہ لے گا۔ پھر اس پر عالمی ساھوکاروں کا شکنجہ فٹ ہو جاتا ہے جس سے نکلنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔پاکستان کی مثال دیکھ لیں۔ ہماری معیشت عالمی ساھوکاروں کے ساتھ وابستہ ہے۔ ہماری سیاست امریکہ کے ساتھ منسلک ہے۔ ہم اپنے قیام کے روزِ اول ہی سے امریکی حلیف بنے رہے ہیں۔انہوں نے ہم پر قرضوں کا دروازہ کھولا۔ ہم نے صرف ایک بار ہی فیصلہ کیا کہ ’’قرضہ لیں گے‘‘ پھر ہم آگے بھی بڑھتے چلے گئے۔ 70سال گزر چکے ہیں۔ گزرے ایک مہینے کے دوران نئی حکومت کے ’’ملکی اقتصادیات‘‘ بارے بیانات کا مطالعہ کریں تو بڑی ہولناک صورت حال نظر آتی ہے۔ ہم 92ارب ڈالر سے زائد عالمی قرضے کا بوجھ سنبھالے ہوئے ہیں جو ہماری معیشت کے 70/80 فیصد کے برابر ہے۔ طے شدہ ضوابط کے مطابق یہ حد 45فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ گویا قرضہ لینے کے حوالے سے ہم ’’سرخ نشان‘‘ بھی عبور کر چکے ہیں۔

ہمیں اپنی اقتصادیات کو جاری رکھنے کے لئے 10/12 ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔ ہمارے لئے دستیاب ذرائع معدوم نظر آ رہے ہیں۔ ہمیں ایک بار پھر پرانے قرض خواہوں کے پاس ہی جانا پڑے گا۔ آئی ایم ایف یہودیوں کا ادارہ ہے، جس میں زیادہ تر وسائل امریکی حکومت مہیا کرتی ہے۔امریکہ قرض اور امداد کو سفارتکاری کے ایک ٹول یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یعنی اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں کردار ادا کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ امریکی و اتحادی افواج جو کام گزرے 17سالوں میں نہیں کر سکی ہیں، وہ کام اکیلے پاکستان کو کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ امریکی طالبان کو شکست نہیں دے سکے ہیں، ان کی ہمت اور قوتِ ارادی کو کمزور نہیں کر سکے ہیں۔

طالبان، امریکیوں کو حملہ آور اور افغان حکومت کو غاصبوں کا ساتھی سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے لئے آمادہ نہیں ۔ امریکی پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے اور شرکت اقتدار پر راضی کرے۔ اس حوالے سے پاکستان پر ’’قرضوں اور امداد‘‘ کے ذریعے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ امریکی ہمارے 800ملین ڈالر دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے فوجی افسران کی تربیت کے پروگرام پر بھی قدغن لگائی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ذریعے بھی ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اسے ہی ’’قرضے کا پھندہ سفارت کاری ‘‘ کہا جاتا ہے۔

امریکہ، ایک سپریم عالمی طاقت ہے، جس کی معیشت ، معاشرت، سیاست اور تہذیب و تمدن دنیا کے لئے مثالی ہے۔ یہ نظام سرمایہ داری اور سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔ زر اور زر معاشرے کی ماہیت میں شامل ہے اور سود اس نظام میں رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کی مانند ہے، جسے یہودی منظم کرتے ہیں، اس نظام زر کے اصل خوشہ چیں یہودی ہیں جو سودی نظام کے اندر اور اطراف میں بیٹھے ہوئے ہیں، وہی اس کے خالق ہیں، وہی اس کے ناظم ہیں اور وہی اس سے منفعت حاصل کرنے والے ہیں۔

امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی بالادستی کے لئے اقوام کی تعمیر و ترقی کے نام پر قرضوں کا جال پھیلایا۔ ادارے بنائے اور ان کے ذریعے کھل کھلا کر قرضے دیئے۔ ان قرضوں کا مقصد اقوام پر اپنی بالادستی قائم کرتا تھا۔ اس پورے نظام کے پیچھے یہودی ذہن کارفرما تھا اور اب تک یہودی ہی اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ اس طرح نہ صرف انہوں نے امریکہ کے اعصابی مراکز پر اپنی گرفت مضبوط کی اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا، بلکہ اسرائیل کی تعمیر و ترقی اور گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہیں ہموار کرنا شروع کر دیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مقروض امریکی حکومت ہے۔ قرض خواہ یہودی ہیں، جبکہ قرض دار امریکی حکومت ہے۔ امریکی پالیسی ساز اداروں پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔

امریکی اداروں میں بننے والی پالیسیاں یہودی مفاداست کی عکاس ہوتی ہیں۔ ذرا یروشلم کا مسئلہ دیکھیں۔ پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ یروشلم یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کا مشترکہ شہر ہے، لیکن اسرائیل نے اسے اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے۔ امریکہ نے سلامتی کونسل کے 14ممبر ممالک کی مخالفت کے باوجود نہ صرف اسرائیل کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے، بلکہ اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرکے یہودی مطالبے اور غلط ایکشن پر صاد بھی کر دیا ہے۔ اب یہودی یکسوئی کے ساتھ گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے ہیکل سلیمانی کی تیسری تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عالمِ اسلام بالعموم اور ایٹمی ریاست پاکستان بالخصوص قرضوں کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ امریکہ ’’قرضوں کا پھندہ‘‘ اپنی سفارتکاری کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

ہم سے اپنے تمام ’’ناجائز مطالبات‘‘ منوانے کے لئے ہماری کمزور اقتصادی پوزیشن کو استعمال کر رہا ہے۔ ہم چوں چراں کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ہماری اقتصادیات قرضوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی معاشیات کو جاری ساری رکھنے کے لئے درکار 10/12ارب ڈالر درکار ہیں جو آئی ایم ایف سے لینے ہیں۔ آئی ایم ایف امریکی اشارہ ابرد کاغلام ہے۔ اسے ’’قرضوں کا پھندہ‘‘ کہتے ہیں، جسے امریکہ اپنی ’’سفارتکاری‘‘ کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

مزید : رائے /کالم