با اختیار پارلیمینٹ، مضبوط جمہوریت

با اختیار پارلیمینٹ، مضبوط جمہوریت
با اختیار پارلیمینٹ، مضبوط جمہوریت

  

اچھی بات ہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں ارکان کے سوالات کا سامنا کیا اور جوابات دیئے۔ اس کا انہوں نے اپنی تقریر میں وعدہ بھی کیا تھا، جس پر عمل کرتے ہوئے وہ قومی اسمبلی میں پہنچے۔ ہماری دو دہائیوں کی گزشتہ سیاست اس حوالے سے متنازعہ رہی ہے کہ پارلیمینٹ کو اہمیت نہیں دی گئی۔ وزرائے اعظم جو درحقیقت ایوان کے قائد ہوتے ہیں، اس سے بچتے رہے اور وہاں آنا گویا اپنی توہین سمجھتے تھے۔وزیر اعظم کا پارلیمینٹ سے مضبوط تعلق نہ صرف پارلیمینٹ بلکہ خود وزیر اعظم کے لئے بھی طاقت کا باعث بنتا ہے۔ عمران خان نے پہلے دن سے اسمبلی کو اہمیت دے کر در حقیقت اپنے منصب کی اہمیت کو منوا لیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اسمبلی میں گئے تو اس سوال کا بھی انہیں جواب دینا پڑا جو بنگالیوں اور افغانوں کو پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کرنے کے حوالے سے کراچی میں دیئے گئے ان کے بیان پر پوچھا گیا۔ انہوں نے بڑی وضاحت سے یہ جواب دیا کہ انہوں نے ایک تجویز پیش کی ہے، کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ مقصد یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز سے یہ رائے لی جائے کہ ان لوگوں کا کرنا کیا ہے۔ ان کی تو اولادوں کی اولادیں بھی جوان ہو رہی ہیں، وہ ہماے شہروں، گلی محلوں اور اداروں میں گھوم رہے ہیں، مگر ان کی کوئی شناخت نہیں۔ انہیں نکالا بھی نہیں جا سکتا اور دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ڈھنگ کی ملازمت بھی نہیں ملتی۔ جس کی وجہ سے وہ جرائم کی طرف مائل ہو رہے ہیں، گویا وزیر اعظم عمران خان نے یہ مسئلہ عوام کی توجہ کے لئے رکھ دیا ہے، اس پر ضرور غور و فکر ہونا چاہئے، کیونکہ نظریں چرانے سے مسئلہ ختم نہیں ہو جائے گا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ اگر آپ کے درمیان رہ رہے ہیں اور آپ نے انہیں شہری ہونے کا درجہ نہیں دے رکھا تو پھر وہ کس طرح ملکی قوانین کی پابندی کریں گے؟ وزیر اعظم عمران خان اگر اس وقت ایوان میں موجود نہ ہوتے اور اپوزیشن اس پر سوال پوچھتی تو جواب نہ ملنے پر ہنگامہ ہو سکتا تھا، تاہم وزیر اعظم کی موجودگی کے باعث یہ بات واضح ہو گئی کہ حکومت اس پر فوری فیصلہ نہیں کرنا چاہتی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن قائد ایوان کی طرف سے پارلیمینٹ کو اہمیت دینے کے اس اقدام کی حمایت کرے اور خود بھی ایسا رویہ اختیار کرے جو قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوانوں میں قانون سازی کی روایت کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو۔ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کا بائیکاٹ کیا، جس کی کوئی منطق نظر نہیں آتی، کیونکہ صدر کے انتخابات میں سب نے حصہ لیا اور ووٹ بھی دیا۔ یا تو ووٹنگ کے وقت بائیکاٹ کیا ہوتا۔ تب تو ایک جواز تھا کہ اب ہم صدر مملکت کا خطاب بھی نہیں سنیں گے، بلا جواز ایک پارلیمانی روایت کو نقصان پہنچانا کسی بھی طرح جمہوریت کے لئے مفید قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اگر وزیر اعظم باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں تو اپوزیشن کو چاہئے کہ اس سے فائدہ اٹھائے اور حکومت کے اقدامات اور فیصلوں پر کڑی نظر رکھے۔اس رویئے کو تبدیل ہونا چاہئے کہ حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔

اپوزیشن نہ چل سکے تو حکومت بھی نہیں چلتی، اس لئے اگر اپوزیشن اسی کام میں لگی رہے کہ اس نے حکومت کو نہیں چلنے دینا تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ خود اپوزیشن بھی ایک جگہ جامد ہو گئی ہے۔ حکومت انتخابات میں دھاندلی کے ایشو پر پارلیمانی کمیشن بنانے پر آمادہ نظر آتی ہے یہ معاملہ حل ہو جاتا ہے تو پھر حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ملک میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ پچھلے دس برسوں کا سبق یہ ہے کہ اب جو اسمبلی بھی معرضِ وجود میں آئے گی، اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ ایوان کے اندر سے کوئی تبدیلی آتی ہے تو آئے، لیکن اسمبلی اور حکومت کو کسی غیر آئینی طریقے سے گھر بھیجنے کے دن اب نہیں رہے۔ اس لئے اب سیاست کے طور اطوار بھی بدلنے چاہئیں، یہ سوچ اب ختم ہونی چاہئے کہ اسمبلی یا حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔ اس سوچ کا کیا دھرا ہم کئی بار ماضی بعید میں بھگت چکے ہیں۔ ملک کو اس وقت بے شمار چیلنجز درپیش ہیں، اکیلی حکومت ان سے نہیں نمٹ سکتی۔ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے میں حکومت کی مخالفت ہی کرے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ حکومت کا ہر قدم غلط ہو۔

حکومت کے رویے سے لگتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ وہ محاذ آرائی سے گریزاں ہے اور اس کے کئی شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں، یوں بنیادی نکات پر اتفاقِ رائے کے بعد آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اپوزیشن حکومت کے ان اقدامات پر کوئی اعتراض کرے گی جو وہ سادگی اختیار کرنے کے سلسلے میں اٹھا چکی ہے۔ اپوزیشن ان باتوں میں نہ ہی الجھے تو بہتر ہے۔ البتہ اسے قانون سازی، شفاف احتساب، صوبوں کے حقوق، عام آدمی کو ریلیف اور دیگر بنیادی معاملات پر اپنا بھرپور کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔جہاں تک ڈیم بنانے کے ایشو کا تعلق ہے تو اسے ایک بار پارلیمینٹ میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے تاکہ اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد پوری تندہی سے اس کی تعمیر پر توجہ دی جا سکے۔ اصولی طور پر ڈیم بنانے کے حوالے سے کوئی اختلاف بنتا ہی نہیں ،کیونکہ یہ اب قوم کی زندگی کا مسئلہ ہے پانی کے ایشو پر توجہ نہ دی گئی تو اگلے چند برسوں میں حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔

اگر اختلاف اس نکتے پر ہے کہ ڈیم کے لئے چندہ کیوں اکٹھا کیا جا رہا ہے تو دوسرا حل بھی بتانا چاہئے کہ موجودہ دگرگوں معاشی حالات میں ڈیم کے لئے کھربوں روپے کہاں سے دیئے جا سکتے ہیں، چاہئے تو یہ کہ اپوزیشن بھی اس مہم میں شامل ہو جائے اور پوری قوم یکسو ہو کر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے فنڈز اکٹھے کرے۔ دنیا بھر میں موجود پاکستانی پہلے ہی اس کے لئے اپنی پوری آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، بد قسمتی سے پاکستان کے اندر کریڈٹ لینے اور نہ لینے دینے کی ایک کشمکش جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) بلا وجہ اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ ایک طرف مسلم لیگی یہ کہتے ہیں کہ بھاشا ڈیم کا آغاز نوازشریف نے کیا تھا اور زمین بھی خریدی تھی ،دوسری طرف احسن اقبال یہ بیان دیتے ہیں کہ حکومت ایک متنازعہ جگہ پر ڈیم بنا کر بھارت کو یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا موقع دے رہی ہے۔

اس قسم کے ابہام اور شکوک و شبہات پھیلانے کی کیا ضرورت ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جب اس ڈیم کی مہم کا آغاز کیا تھا تو سب خاموش تھے، لیکن جونہی وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کی اس مہم میں حکومت کی شمولیت کا اعلان کیا تو چندہ مہم کی مخالفت شروع کر دی گئی۔ میرا خیال ہے اس ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، بلکہ اس کے برعکس اپوزیشن قومی اسمبلی میں اس ڈیم بناؤ مہم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسے قومی مہم قرار دینے کی قرارداد پیش کرے تاکہ پوری دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستان میں ڈیم بنانے کے مسئلے پر پوری قوم ایک ہے تاکہ اگر اس حوالے سے کوئی عالمی سازش بھارت کے ایما پر پنپ بھی رہی ہے تو اس کا قلع قمع ہو سکے۔

مزید : رائے /کالم