تفہیم اقبال:جوابِ شکوہ (8)

تفہیم اقبال:جوابِ شکوہ (8)
تفہیم اقبال:جوابِ شکوہ (8)

  

بند نمبر(27)

امّتیں گلشنِ ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیں

اور محرومِ ثمر بھی ہیں، خزاں دیدہ بھی ہیں

سینکڑوں نخل میں کاہیدہ بھی، بالیدہ بھی ہیں

سینکڑوں بطنِ چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیں

نخلِ اسلام نمونہ ہے برومندی کا

پھل ہے یہ سینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کا

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

گلشنِ ہستی (زندگی کا باغ یعنی زندگی)۔۔۔ثمر چیدہ(پھلدار، پھل چننے والی ) محرومِ ثمر(جس پر پھل نہ آئے)۔۔۔ خزاں دیدہ(جس پر خزاں چھائی ہوئی ہو)۔۔۔ نخل(درخت)۔۔۔ کاہیدہ(چھوٹے قد کے) ۔۔۔بالیدہ(بڑے قد کے)۔۔۔ بطنِ چمن (باغ کا پیٹ یعنی باغ کی سطح زمین کا وہ زیریں حصہ جس میں بیج بوتے یا پودے دباتے ہیں۔)۔۔۔پوشیدہ(چھپے ہوئے)۔۔۔ نخلِ اسلام (اسلام کا درخت)۔۔۔ برومندی (آہستہ آہستہ پھلدار ہونا اور فروغ پانا)

اب اس بند کی تشریح:

ایسی قومیں دُنیا میں اور بھی ہیں جنہوں نے زندگی کے باغ سے پھل حاصل کئے۔ اور کئی وہ بھی ہیں جو بے ثمر رہیں اور جن پر خزاں کا موسم طاری رہا۔۔۔ اس گلشنِ ہستی میں چھوٹے بڑے بہت سے درخت ہیں۔ بعض کی بلندی کم ہے اور بعض نہایت بلند ہیں۔ سینکڑوں درخت ایسے بھی ہیں جو ابھی زمین کے پیٹ میں تو موجود ہیں لیکن باہر نہیں پھوٹے۔۔۔ اسلام ایک ایسا درخت ہے جو برو مندی کا نمونہ ہے۔ یعنی یہ آہستہ آہستہ پھلا پھولا اور بڑھا ہے۔ سینکڑوں برس تک اس کی آبیاری کی گئی ہے،اس کو سینچا گیا ہے، اس کی رکھوالی کی گئی ہے اور تب جا کر یہ پھل پھول لایا اور بارور ہوا ہے۔

اس بند میں شاعر نے شاعرانہ صناعی میں کمال دکھایا ہے اور اسلام کی ابتدا سے لے کر آج تک کی نشوونما کا نقشہ ایسے الفاظ میں کھینچا ہے جن کا تعلق باغ اور باغ سے متعلق مختلف چیزوں سے ہے۔مثلاً گلشن، ثمر، خزاں، نخل، کاہیدہ، بالیدہ، چمن، برو مندی، اور چمن بندی وغیرہ۔۔۔ چشمِ ظاہر بیں، شاعر کی اس صناعی سے اس وقت تک باخبر نہیں ہوتی جب تک اس کی توجہ اس طرف نہ دلائی جائے۔۔۔۔

ایک دو الفاظ کی مزید تشریح شائد بعض قارئین کے لئے معلومات افزائی کا باعث ہو گی۔۔۔ فارسی زبان میں کاہیدن اور بالیدن دو باہم متضاد مصادرِ ہیں جن کا ترجمہ گھٹنا اور بڑھنا کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں مصادر بالخصوص اصنافِ چمن بندی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پودے یا درخت کے بڑھنے کو بالیدن کہا جاتا ہے جس کا حاصل مصدر بالیدگی ہے اور کاہیدن کا مطلب کسی پودے کا پست قد ہونا ہے جس کا حاصل مصدر کاہش ہے۔ شعراء اسی لئے بلند قامت سرو کے لئے ’’بالیدہ‘‘ اور پست قد سرو کے لئے ’’کاہیدہ‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ۔۔۔ اسی طرح برو مند ہونے کا مطلب پھلنا پھولنا، بڑا ہونا، بڑھنا یا برگ و بار لانا ہے۔ لیکن ’’برو مندی‘‘ کا اصل مطلب بالخصوص’’ چمن کا پھلنا پھولنا‘‘ ہے، نشوونما کے باقی مراحل اور ان کے مطالب ثانوی حیثیت رکھتے اور کبھی کبھی ہی استعمال میں آتے ہیں۔ اور آخر میں ’’چمن بندی‘‘ پر غور کیجئے۔ اس ایک لفظ میں وہ تمام کاوشیں اور کوششیں شامل ہیں جو کسی باغبان کو بیج کاشت کرنے، گھاس لگانے،گھاس کاٹنے اور نکالنے، آبیاری کرنے اور نازک پودوں کو دھوپ اور بارانی آندھیوں سے بچا بچا کر کسی عام سے پلاٹ کو ہرا بھرا اور مہکتا چہکتا گلستان بنانے کے لئے کرنی پڑتی ہیں۔اقبال کا مدعا(خدا کی زبان سے) یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اسلام کا ’’درخت‘‘ (نخل) آہستہ آہستہ پروان چڑھا ہے او یہ سینکڑوں برسوں کی چمن بندی کا حاصل ہے۔

اسی قبیل کا ایک بند مسدس حالی میں بھی ہے، جس میں لالہ و گل سے منسلک تراکیب، ہر مصرعہ میں موجود ہیں:

گلستاں میں جوبن گل و یاسمن کا

سماں زلفِ سُنبل کی تاب و شکن کا

قدِ دلبربا سرو اور نارون کا

رخِ جانفرا لالہ و نسترن کا

غریبوں کی محنت کی ہے رنگ و بو سب

کمیروں کے خوں سے ہیں یہ تازہ رو سب

]کمیر اس مزدور کو کہتے ہیں جو باغبان کے ماتحت کام کرتا ہے[۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر28)

پاک ہے گردِ وطن سے سرِداماں تیرا

تو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیرا

قافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیرا

غیرِ یک بانگِ درا، کچھ نہیں ساماں تیرا

نخلِ شمع استی و در شعلہ دَوَد ریش�ۂ تو

عاقبت سوز بَود، سایۂ اندیشۂ تو

اس بند کے مشکل الفاظ اور ان کے معانی:

گَردِ وطن(وطن کا گَرد و غبار)۔۔۔سِردا ماں (دامن کا سِرا، پّلو) ۔۔۔ کنعاں(وہ جگہ جہاں حضرت یوسف پیدا ہوئے،حضرت یوسف کا وطنِ مالوف۔۔۔) مصر(جہاں حضرت یوسف نے پرورش پائی اور پھر عزیزِ مصر بھی بنے)۔۔۔ بانگِ درا (پرانے زمانے میں لوگ اکیلے نہیں بلکہ قافلوں کی صورت میں مل کر سفر کیا کرتے تھے۔ان قافلوں کے آگے آگے چند لوگ گھنٹیاں بجاتے ہوئے چلا کرتے تھے۔ قافلے سے ان لوگوں کا فاصلہ ایک آدھ کلو میٹر سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔گھنٹیاں بجانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ آس پاس کے گاؤں اور قصبوں کے لوگ خبردار ہو جایا کرتے تھے کہ قافلہ آ رہا ہے۔اس قافلے کے ساتھ مالِ تجارت بھی ہوتا تھا۔ آبادی کی کثرت و قلت کے حساب سے قافلہ کسی جگہ پراپنے دورانِ قیام کا فیصلہ کیا کرتا تھا اور لوگ خرید و فروخت کر لیا کرتے تھا۔ ’’درا‘‘ قافلے کے آگے آگے بجنے بجانے والی گھنٹی کو کہا جاتا تھا۔۔۔۔ بانگِ درا کا مطلب ہے ’’درا کی آواز‘‘)۔۔۔غیرِ یک بانگِ درا (گھنٹی کی آواز کے علاوہ)

خدا وند کریم اپنے مسلمان بندوں سے مخاطب ہے:’’ تمہارے دامن پر وطن پرستی کی کوئی گرد اڑ کر نہیں پڑی۔ تم وہ اُمت ہو کہ اس کرہ‘ ارض کا ہر قطعہ تمہارا مسکن ہے اور تم اس کے مالک ہو۔۔۔ تم لوگ وہ یوسف ہو کہ روئے زمین کا ہر مصر، گویا تمہارے لئے کنعان ہے۔جس جگہ بھی جاؤ گے وہی تمہارا وطنِ مالوف بن جائے گا:

ہر مُلک، ملک ماست کہ ملک خدائے ماست

تم مسلمان ایک ایسی قوم ہوجس کی مثال اس قافلے سے دی جا سکتی ہے جو کبھی منتشر نہیں ہوتا، بلکہ اکٹھا رہتا ہے اور اس قافلے میں بانگِ درا کے علاوہ کوئی دوسرا سازوو سامان بھی نہیں ہوتا۔ اس مصرع کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان قوم، مال و زر کی پروا نہیں کرتی۔۔۔ اس کا سارا سرو سامان اور مال و اسباب صرف وہ بانگِ درا ہے ،جو تمہارے قافلے کے آگے آگے سفر کرتی اور اعلان کرتی سنائی دیتی ہے کہ وہ دیکھو مسلمان چلے آ رہے ہیں جن کے پاس کوئی مالِ تجارت نہیں۔ اگر ہے تو صرف یہ کہ ان کا مشن آوازۂ حق بلند کرنا ہے۔

درجِ بالا چار مصرعوں کے بعد فارسی کے دو مصرعے(ایک شعر) ہیں جن میں شاعرانہ فصاحت و بلاغت کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے۔ پروردگارِ عالم فرما رہا ہے:’’تیری مثال اس شمع سے دی جا سکتی ہے۔جس کواگر ایک درخت(نخل)فرض کر لیا جائے تو تمہارے سر کے اوپر جو شعلہ جل رہا ہے وہ اس دھاگے کی طرح ہے جو شمع کے عین درمیان میں پرویا ہوتا ہے اور جو شعلے کو اس وقت تک فروزاں رکھتا ہے جب تک پوری موم بتی جل نہیں جاتی۔۔۔(دَ وَد فعلِ مضارع ہے جس کا مصدر’’دویدن‘‘ ہے یعنی دوڑنا یا ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک بھاگ کر جانا)۔۔۔ دوسرے مصرع کا معنی ہے ’’ تمہاری فکرگویا ایک سایۂ عاقبت سوز ہے‘‘۔ یعنی جس طرح موم بتی اندھیرے کو چیر کر روشنی پھیلا دیتی ہے اسی طرح تیری سوچ بھی ’’عاقبت سوز‘‘ ہے۔ عاقبت کا ایک مفہوم تو موت کے بعد کی زندگی ہے۔لیکن اس کا دوسرا معنی ظلمت یا اندھیرا بھی ہے۔ خدا فرما رہا ہے کہ تمہاری فکر ظلمت سوز ہے اور تاریکی کو روشنی میں تبدیل کر دیتی ہے۔

’’ نخلِ شمع‘‘ کا استعارہ بہت بلیغ ہے۔ شمع (موم بتی) کا سراپا ایک بالکل سیدھے درخت کی مانند ہے جس کے بیچوں بیچ ایک سفید رنگ کی بتی (Wick) رکھی ہوتی ہے۔ یہ بتی اور شعلہ تاریکیوں کو روشنیوں میں تبدیل کر دیتا ہے،یعنی ’’ظلمت سوز‘‘ ہے!۔۔۔

(بند نمبر29)

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے

نشّۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

ہے عیاں، یورشِ تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے، کعبے کو صنم خانے سے

کشت�ئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہے

عصرِ نو رات ہے، دھندلا سا ستارہ تو ہے

اس بند کے مشکل الفاظ اور ان کے معانی:

نش�ۂ مے (شراب کا نشہ)۔۔۔ پیمانہ(وہ پیالہ یا گلاس جس میں شراب پی جاتی ہے)۔۔۔ یورشِ تاتار(تاتاریوں کی یلغار، منگولوں کا حملہ)۔۔۔ صنم خانہ(جس جگہ بت رکھے جاتے اور ان کی پرستش کی جاتی ہے) عصرِ نو(نیا زمانہ)۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب اس بند کی تشریح:

خدا اپنے شکوہ گزار بندے کو دلاسا دے رہا ہے اور کہہ رہاہے:’’ملکِ ایران اگر مٹ بھی جائے تو تُو باقی رہے گا۔ ایران تو ایک پیالہ ہے، ایک جام ہے اور تُو اس میں انڈیلی جانے والی شراب ہے جس کا نشہ جام میں گر کر بھی باقی رہتا ہے۔وطنِ کوئی بھی ہو وہ گویا شراب کا پیالہ ہے اور مسلمان، شرابِ ناب ہے۔ وہ ایک ایسی شراب کی طرح ہے جو ہرشکل کے پیمانے میں گِر کر اسی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اس کے نشے میں کوئی فرق نہیں آتا۔۔۔۔ تم نے چنگیز خان کی یلغار کی داستان پڑھ رکھی ہے ناں! چنگیز خان اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کا کوئی دین نہ تھا۔لیکن اس کے پوتے ہلاکو خاں کی اولاد جب اسلام لے آئی تو گویا تاتاریوں کے صنم خانے سے کعبے کے محافظ مل گئے۔‘‘

یہی کچھ اسلام کے اولین دور میں بھی ہوا تھا۔وہی عرب قبائل جو بتوں کو پوجتے تھے، لات و عزّیٰ کی پرستش کیا کرتے تھے اور اپنے بتوں کی حفاظت کرتے کرتے موت تک کو گلے لگا لیا کرتے تھے،وہ جب اسلام کے سایۂ عاطفت میں آئے توبت خانے کے وہی کٹر محافظ، اسلام اور توحید کے کٹر جاں نثار بن گئے۔ اقبال نے ایران کی مثال اس لئے دی ہے کہ چنگیز خان نے منگولیا سے نکل کر جس عظیم سلطنت کوسب سے پہلے برباد کر دیا تھا وہ سلطنتِ خوارزم کہلاتی تھی اور علاؤالدین خوارزم شاہ اور جلال الدین خوارزم کو چنگیز کے تاتاریوں نے شکست دی تھی۔۔۔بند کے آخری شعر میں خدا فرما رہا ہے: ’’تُو زمانے میں کشتیئ حق کا سہارا ہے۔ تیری وجہ سے اسلام کی ناؤ کبھی نہیں ڈوبے گی۔ تُو تو وہ دھندلا سا ستارہ ہے جو موجودہ دور کی سیاہ رات کو دن کی روشنی میں تبدیل کر دیتا ہے اور جس کا اُجالا پھیل کر سارے آفاق کو منور کر دیتا ہے۔‘‘

مزید : رائے /کالم