پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر عارف علوی کا خطاب، اپوزیشن کا احتجاج، پیپلزپارٹی لاتعلق

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، صدر عارف علوی کا خطاب، اپوزیشن کا احتجاج، ...

سیاسی ڈائری

اسلام آباد سے ملک الیاس

گزشتہ دنوں ہونیوالی بارش کے باعث وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اورجڑواں شہر راولپنڈی کا موسم خوشگوار ہوگیا رات کو خنکی بڑھ گئی ہے جبکہ دن کو موسم بدستور گرم ہی ہے پیر کو پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس ہوا جس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خطاب کیا، صدر مملکت کاکہنا تھا کہ کرپشن کے ناسور نے ملکی اقتصادیات کو تباہ کردیا ہے اور عوام بے ایمانی سے تنگ آچکے ہیں، کرپشن پر قابو پانے کے لیے ہمیں احتساب کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،ہم مقروض قوم ہیں ہمیں قرض کی ادائیگی کے لیے قرض لینا پڑتا ہے، ہمارے مسائل کی سب سے بڑی وجہ گروہی مفادات اور کرپشن ہے،پاکستان کی شناخت سادگی اور بدعنوانیوں سے پاک نظام ہے، ہمیں اپنی زندگیوں میں سادگی کو اپنانا ہوگا،حکومت علما کرام کی مشاورت سے ایک متفقہ لائحہ عمل بنائے اور اس پرعمل کرے،بااختیار خواتین کے بغیر ملکی ترقی کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا،ہمارے مسائل سماجی ناہمواری اور غربت سے جڑے ہوئے ہیں، ہمیں ملک میں آبادی اور وسائل میں توازن پیدا کرنا ہوگا، ہمارے بچے ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہیں،پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے بھی مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں ، ہمارے ہاں پانی کا بے دریغ استعمال ہورہاہے،میں شجر کاری پر خصوصی توجہ دینا اور نئے ڈیم بھی بنانا ہوں گے۔ ہمیں آبپاشی کے جدید نظام کو فروغ دینا ہوگا۔

صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے سوا دیگر اپوزیشن جماعتوں نے عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی اور پارلیمانی کمیشن نہ بننے کے خلاف احتجاج کیا ۔ مسلم لیگ (ن) ، اے این پی ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی نے احتجاجاً مشترکہ اجلاس کابائیکاٹ کیا جب کہ پیپلز پارٹی اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق احتجاج کا حصہ نہ بنے اور ایوان میں موجود رہے ،ایم ایم اے کے سینیٹر عطاء الرحمان نے حکومت کیخلاف نعرے بھی لگائے ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دودفع اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لانے میں ناکام رہے اور اپوزیشن نے صدر مملکت کے خطاب کے بعد بات کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ۔ اجلاس میں بیگم کلثوم نواز کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔وفاقی مذہبی امور نور الحق قادری نے دعا کروائی ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف آرمی اسٹاف اور غیر ملکی سفرا سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔جب سپیکر قو می اسمبلی نے صدر مملکت کو خطاب کی دعوت دی تو مسلم لیگ (ن)کے ارکان نے خطاب سے قبل بات کرنے کی اجازت مانگی ،سپیکر قومی اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کو بات کرنے کی اجازت نہ دی اور کہا کہ پارلیمان کی روایات میں صدر کے خطاب سے قبل اپوزیشن کو بات کی اجازت نہیں دی جاتی ، قومی اسمبلی کا کل اجلاس ہے اپوزیشن اپنی بات قومی اسمبلی کے اجلاس میں کرے ۔ جس پر مسلم لیگ(ن)،ایم ایم اے ،پختونخوا ملی عوامی پارٹی ،اے این پی نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ واک آؤٹ کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مسلم لیگ (ن)کے سینئررہنماؤں خواجہ محمد آصف،سینیٹر پرویز رشید ، ایاز صادق، خرم دستگیر،رانا تنویر و دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے کہا ہے کہ آج ہم نے صدارتی خطاب سے پہلے سپیکر سے فلور مانگا ہمیں فلور اس لیے نہیں دیا گیا کہ قواعد اجازت نہیں دیتے لیکن ہم بتانا چاہتے تھے کہ ایسی مثال موجود ہے۔ شاہ محمود قریشی کو صدارتی خطاب سے پہلے سردار ایاز صادق نے بات کرنے کی اجازت دی تھی۔ ہماری بات کو نہیں سنا گیا اورمجبوراً ہمیں واک آؤٹ کرنا پڑا۔ ہم مختصر بات کرنا چاہتے تھے کہ وزیر اعظم کے انتخاب کے دن قائد ایوان نے یقین دلایا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی کے مسئلے پر پارلیمانی کمیشن تشکیل کیا جائے گا لیکن آج مہینہ ہوگیا ہے اور پارلیمانی کمیشن تشکیل نہیں دیا گیا۔ ہم انہیں وعدہ یاد دلانا چاہتے تھے اس کے علاوہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم پھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس مسئلے کو اٹھائیں گے ، آج کی بدمزگی کی ذمہ داری سرکاری جماعت پر آتی ہے۔ چالیس سیکنڈ بات کرنے کی اجازت دے دیتے۔صدرمملکت کے خطاب پرتبصرہ کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کاکہنا تھا کہ صدرمملکت نے اداروں کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں دیا،مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے بھی کسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا،مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرف جانے کے لئے ضروری ہے کہ سودی نظام کا خاتمہ ہو،حکومت نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیشن نہ بنا کر وعدہ خلافی کی ۔ صدر مملکت عارف علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ،پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اوروزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے شرکت نہ کی۔تحریک انصاف کے نارض رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے بھی مشترکہ اجلاس میں شرکت نہ کی۔حکومتی جماعت تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کی بھی مشترکہ اجلاس میں عدم دلچسپی نظر آئی ،پی ٹی آئی کے متعدد ارکان تاخیر سے ایوان میں آئے جبکہ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے بعد تحریک انصاف کے بھی متعدد ارکان صدر کا خطاب سننے کی بجائے گیلریوں میں چلے گئے ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت پیر کو احتساب عدالت میں ہوئی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر جرح کے دوران والیم 10 سے متعلق سوال پر پراسیکیوٹر نیب نے اعتراض اٹھا تے ہوئے کہا کہ والیم ٹین سپریم کورٹ میں سربمہر صورت میں موجود ہے، خواجہ حارث کو والیم ٹین سے متعلق سوالات کی اجازت نہ دی جائے، اگر خواجہ صاحب کو والیم 10 نہ ملنے کا اعتراض تھا تو اس کے حصول کی درخواست دیتے ۔اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کا وہ آرڈر کہاں ہے جس میں والیم ٹین کو سربمہر کر کے پبلک نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہو؟ ، گواہ نے دوران جرح ایم ایل ایز کا ذکر کیا اور بتایا کہ باہمی قانونی معاونت کے تحت لکھے گئے خطوط سربمہر والیم ٹین میں ہیں،جب جرح میں ذکر آ گیا تو اس متعلق میرا سوال بنتا ہے، کوئی چیز میرے خلاف استعمال ہو رہی ہے تو مجھے اس پر دفاع کا حق حاصل ہے۔ جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ نے نوازشریف کی سزا معطلی کی اپیل سننے کے خلاف نیب کی درخواستیں مسترد کر تے نیب پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی کی سرزنش کی اور ریمارکس دیئے کہ نیب اس طرح کی فضول درخواستیں کیوں دائر کرتا ہے؟ ہائیکورٹ نے بہتر سمجھا ہوگا کون سی درخواستوں کو پہلے سنناہے ۔

مزید : ایڈیشن 1