واپڈاپن بجلی گھروں میں پیداوار ساڑھے 7ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی

واپڈاپن بجلی گھروں میں پیداوار ساڑھے 7ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی

لاہور(کامرس رپورٹر)واپڈا پن بجلی گھروں سے گزشتہ دو روز میں پیک آورز کے دوران بجلی کی ریکارڈ پیداوار ہوئی اور ملک میں پہلی مرتبہ پن بجلی کی پیداوار ساڑھے سات ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کرگئی۔بجلی کی پیداوار کے اعدادو شمار کے مطابق 16ستمبر کو واپڈا پن بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار سات ہزار 571جبکہ 17ستمبر کو سات ہزار 513میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔ پن بجلی کی یہ پیداوار گزشتہ سال کی نسبت تقریباً ایک ہزار میگاواٹ زیادہ ہے۔ پن بجلی کی پیداوار میں یہ اضافہ تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے بجلی کی پیداوار کے آغاز کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ تربیلا ڈیم سے پانی کے اخراج اور دریائے نیلم میں پانی کی دستیابی کے مطابق اس وقت تر بیلا چوتھے توسیعی منصوبے کے دو یونٹ جبکہ نیلم جہلم پراجیکٹ کا ایک یونٹ قومی گرڈ کو بجلی فراہم کررہے ہیں۔گزشتہ روز پیک آورز کے دوران پن بجلی کی پیداوار کی تفصیلات کے مطابق تربیلا ہائیڈل پاور سٹیشن سے تین ہزار 461میگاواٹ ، تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے سے 770 میگاواٹ ، غازی بروتھا سے ایک ہزار 450میگاواٹ ، منگلا سے 920 میگاواٹ ، وارسک سے 185میگاواٹ ، نیلم جہلم سے 243میگاواٹ جبکہ دیگر پن بجلی گھروں سے 484میگاواٹ بجلی قومی نظام کو مہیا کی گئی۔واپڈا کے 19پن بجلی گھر ہیں ، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت چھ ہزار 902میگاواٹ ہے۔ مذکورہ 19پن بجلی گھروں کے علاوہ واپڈا نے 2018ء میں تین مزید پن بجلی منصوبوں کو مکمل کیا ہے ۔ دو ہزار 487میگاواٹ مجموعی صلاحیت کے ان تین منصوبوں میں تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ ، نیلم جہلم اور گولن گول شامل ہیں۔ یہ تینوں منصوبے ڈیفیکٹ لائی ایبلیٹی پیریڈ(Defect Liability Period) میں ہیں۔

اور سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے تحت بجلی پیدا کررہے ہیں جبکہ ان منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی قومی نظام میں شامل ہورہی ہے۔

مزید : علاقائی