جبر اور جمہوریت (قسط نمبر6)

جبر اور جمہوریت (قسط نمبر6)

میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز غیر سیاسی خاتون ہونے کے باوجود سیاست میں کردار اکرنے پر مجبور ہوگئی تھیں ۔خاتون اوّل کے طور پر اپنے معمولات منصبی ادا کرنے کے باوجود وہ خالصتاًگھریلوخاتون تھیں لیکن12 اکتوبر1999کے فوجی انقلاب میں جنرل پرویز مشرف کے حکم پر جب میاں نواز شریف کووزارت عظمیٰ سے ہٹا کرانہیں انکے بھائی شہباز شریف سمیت طیارہ کیس میں جیل پہنچا دیا گیا تو چند ہی دنوں میں بیگم کلثوم نواز شریف نے گھر سے نکل کر سیاسی جدوجہد شروع کردی ۔انہوں نے کن حالات میں حکومت کے خلاف میدان سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ،وہ کیا گھڑیاں تھیں۔ان کے اہل خانہ اور جماعت پر کیا گزری ؟بیگم کلثوم نواز شریف نے بعد ازاں ان حالات کو انتہائی باریکی اور دردمندی سے ’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے نام سے کتاب میں قلم بند کیا تھا ۔بیگم کلثوم نوازکی یہ سیاسی جدوجہد انکے غیر معمولی کردار،دلیری اور جذبے کی داستان ہے کہ انہوں نے سنگین ترین حالات میں آمریت کو چیلنج کیا اور جمہوریت کی شمع روشن کئے رکھی ۔روزنامہ پاکستان میں اس کتاب کو قسط وار شائع کیا جارہا ہے ۔

ابھی میں لاہور پہنچی ہی تھی کہ مجھے علم ہوا کہ میری والدہ سخت علیل ہیں۔ یہ سن کر میرے ہاوتھ پاؤں سے جیسے جان ہی نکل گ ئی ہو اندیشوں اور وسوسوں نے ذہن پر قبضہ کرلیا۔ میں اپنی والدہ سے ملی تو ان کا چہرہ آنے والے جانگسل لمحات کی آمد کی پیش گوئی کرتا ہوا صاف محسوس ہورہا تھا۔ اسی رات ان کو دل کا دورہ پڑا اور ہم ان کو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے گئے۔ ابھی تو مجھ سے میرے والد کا سایہ شفقت جدا ہوا تھا کہ 15 دسمبر کو ماں کی مامتا سے بھی سدا کی جدائی ہوگئی اور میں اپنے آپ کو ان لمحوں میں اس بچے کی طرح محسوس کرنے لگی جو کارواں سے کسی جنگل، بیاباں میں بچھڑ جائے، ہم نے مشرف کے نمائندہ سے رابطہ کرکے کہا کہ میاں صاحب اور شہباز بھائی کو کم از کم جنازے میں ہی شرکت کرنے کی اجازت دے دو مگر ادھر سے سوائے سنگدالہ طرز عمل کے اور کچھ نہ تھا۔ چنانچہ ان دونوں حضرات کو جنازے میں شرکت سے محروم رکھا گیا مگر اپنی خجالت پر پردہ ڈالنے کی غرض سے جنازے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے شدید پابندیوں کے ساتھ دونوں بھائیوں کو یہ لوگ لے کر آگئے۔

پارٹی کو متحرک کرنے کی میری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ جن کی ہدایت میاں صاحب نے کی تھی اور جس کی تائید راجہ ظفر الحق صاحب کررہے تھے، پارٹی میں پھوٹ ڈالنے والے عناصر بھی مشرف کے قرب کا شرف حاصل کرنے کے لئے تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ خورشید قصوری کے گھر 20 دسمبر کو ان لوگوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ درفنطنی چھوڑی گئی کہ نواز شریف کو لچک دکھانے کا کہیں گے اور اسی اجلاس میں ایسا انداز اپنایا گیا کہ جس سے یہ تاثر قائم ہو کہ فوج کا 12 اکتوبر کا اقدام درست تھا۔

وقت اسی طرح گزرتا چلا گیا اسی دوران میں پاسپورٹ کی ضبطی کے سبب دیگر اہلخانہ کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کرنے سے محروم رہی۔ میری حد درجہ کوشش کے باوجود مجھے پاسپورٹ نہ مل سکا، عید آئی، جس میں نواز شریف اور میرے بیٹے حسین کو نماز عید بھی ادا نہ کرنے دی گئی۔

25 جنوری کے ایام بھی میں کبھی نہ بھلاسکوں گی کیونکہ25 تاریخ کو ایک اجلاس ماڈل ٹاؤن میں ہوا۔ جس میں صابر شاہ اور تہمینہ دولتانہ نے مجھے مجلس عاملہ کا رکن بنانے کی باضابطہ تجویز پیش کی۔ اس تجویز کا سبب یہ تھا کہ میں وہ واحد فرد تھی جس کی میاں صاحب سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ میری مجلس عاملہ کے رکن کی حیثیت سے تقرری کرنے سے میاں صاحب اور پارٹی کے درمیان مشاورت کے لئے بہت سہولت پیدا ہوجائے گی۔ مجلس عاملہ کے رکن کی حیثیت سے میں اس مینڈیٹ کو بھرپور استعمال کرسکوں گی جو مجھے میاں نواز شریف صاحب اور رابطہ کمیٹی کے سربراہ راجہ ظفر الحق صاحب کی طرف سے حاصل تھا۔ ابھی یہ تجویز زیر غور ہی تھی کہ کچھ ارکان کو اپنا کھیل بگڑتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ چودھری شجاعت اور خورشید قصوری وغیرہ نے یکدم انتہائی مخالفانہ رویہ اختیار کرلیا۔ گویا کہ انہوں نے کوئی ایسی تجویز پیش کردی تھی جو پارٹی آئین سے مطابقت نہ رکھتی ہو۔ انہوں نے کچھ ردوکدے کے ساتھ یہ کہا کہ اگر بیگم صاحبہ (میں) چاہیں تو خصوصی مندوب کے طور پر آسکتی ہیں مگر کچھ کہنے کا انداز ایسا تھا کہ مجھے اپنا استقبال خوشدلی کے ساتھ ہونے کی کوئی توقع نہ تھی۔ اگلے دن جب مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا تو بض افراد نے میرے کل کے اجلاس پر سخت تنقید کی حالانکہ وہ اجلاس کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہ تھا اور اس میں مَیں نے ان گنت بار کی طرح ان شوشوں کی بھی تردید کی کہ مجھے پارٹی کا صدر بنایا جارہا ہے۔

جنوری کے آخر میں ہی پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن گزرا جب پرویز مشرف نے پارلیمنٹ کے بعد عدلیہ کی پیٹھ میں بھی چھرا گھونپ دیا۔ عدلیہ کے تمام ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا حکم دیا گیا۔ انکار کرنے کی پاداش میں چیف جسٹس آف پاکستان، عدالت عظمیٰ کے 9 اور عدالت عالیہ کے 7 ججوں کو برطرف کردیا گیا۔ چیف جسٹس کو پہلے لالچ دیا گیا مگر جب وہ کسی لالچ میں نہ آئے تو ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا کہ ان کو ان کی رہائش گاہ سے باہر جانے سے منع کردیا گیا۔ مبادا وہ کوئی ایسا اقدام کرنے کے قابل ہوجائیں جس سے پرویز کی آمریت کو کوئی خطرہ لاحق ہوجائے۔ جب اس سارے تکلیف دہ واقعہ کی خبر نواز شریف صاحب کو ہوئی تو انہوں نے مجھے انتہائی دل گرفتہ انداز میں کہا کہ اگر ان لوگوں کو نہ روکا گیا تو ایک ایک کرکے یہ ملک کی تمام جڑوں کو کھوکھلا کردیں گے اور خدانخواستہ ایک اور 16 دسمبر 1971ء ہمارامقدر بن جائے گا۔

7فروری کو ماڈل ٹاؤن میں ذوالفقار کھوسہ، سعد رفیق، تہمینہ دولتانہ سمیت متعدد افراد سے میں نے ملاقات کی اور مختلف امور پر نواز شریف صاحب کا پیغام ان تک پہنچایا۔ 9 فروری کو کراچی میں مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بھی تھا جس میں ان ارکان نے میری موجودگی کو بہت ضروری قرار دیا مگر لاہور کے اجلاس کی سردمہری اور بات بے بات مخالفت کے سبب میں نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کررکھا تھا مگر ان احباب اور بھائی سرانجام خان کے اصرار پر میں نے کراچی کے اجلاس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ میں نے بھائی سرانجام کو کہا کہ ان تمام کو بتادیجئے کہ نہ تو میں پارٹی صدارت کی خواہش رکھتی ہوں اور نہ ہی پارٹی پر کوئی اجارہ داری ہمیں درکار ہے۔ آج بھی پاکستان کی غالب اکثریت نواز شریف کے ساتھ ہے۔ میں ان کا صرف پیغام لے کر آرہی ہوں۔ سرانجام خان نے جواب میں کہا کہ بیگم صاحبہ! ہمارا فرض اذان دینا ہے کوئی جماعت میں شامل ہو نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ آپ ضرور تشریف لائیے گا تاکہ ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔

چنانچہ 9 فروری کو میں مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے کراچی پہنچی۔ دوران اجلاس جب مجھے گفتگو کرنے کے لئے کہا گیا تو میں نے چند منٹ کی گفتگو کی اور نواز شریف صاحب کا یہ پیغام پہنچایا کہ آگے بڑھیں اور جہدوجہد کریں۔ اس اجلاس میں ہی فیصلہ کیا گیا کہ GDA سے آئین اور جمہوریت کی بالادستی اور بحالی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنانے کے لئے رابطہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی کے جلد قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ یاد رہے کہ GDA کا حصہ پی پی پی بھی تھی مگر اس وقت مجلس عاملہ کے اس فیصلہ پر کہ GDA سے آئین او رجمہوریت کی بحالی و بالا دستی کے لئے گفتگو کی جائے، کوئی اختلاف سامنے نہ آیا کیونکہ مسلم لیگ نے پہلے دن ہی اپنے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کرلیا تھا کہ ہم ہر اس قوت کو ساتھ لے کر چلیں گے جو کہ آئین اور جمہوریت کی بات کرے گی۔

دوسری طرف میاں اظہر، اعجاز الحق اور خورشید قصوری نے 11 فروری کو کھانے پر ملاقات کی۔ ان تمام ملاقاتوں اور اس کے بعد پیش کئے جانے والے تاثر کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ہم پرویز مشرف کی بی ٹیم بن سکتے ہیں اور مسلم لیگ میں آمریت کی حسب خواہش پھوٹ ڈالنے کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ ان میں اعجاز الحق کا کردار سب سے دلچسپ تھا بلکہ آج بھی ہے۔ وہ آمریت کی طرف سے ذرا سی آس دلانے پر قیادت کے نمبر ون مخالف ہوجاتے تھے مگر جب انہیں ٹھینگا دکھانے والے حالات پیدا ہونے لگتے تو وہ دوبارہ نواز شریف کی شان میں قصیدہ پڑھنا شروع کردیتے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا ہے کہ اعجاز الحق 12 اکتوبر کے فوراً بعد اچانک نواز شریف صاحب کے مخالف ہوگئے اور طرح طرح کے بار بار پینترے بدلتے رہے۔ مثلاً ادھر پارٹی قیادت کے خلاف بیانات دئیے اور اس کی تبدیلی کی خبریں دیں۔ پھر ذرا سی آمریت کی بے رخی کے بعد وہ اچانک ہمارے ہمدرد ہوجاتے۔ مثال کے طور پر انہوں نے 22 جنوری 2000ء کو ایک آن ریکارڈ بیان میں کہا کہ ’’25 اور 30 تاریخ کے پارٹی اجلاسوں میں پارٹی قیادت زیر بحث نہیں ہوگی کیونکہ نواز شریف کی موجودگی میں اس سلسلے میں بحث کی کو ئی ضرورت نہیں۔ نواز شریف نے مسلم لیگ کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ ان کی کوششوں سے آج مسلم لیگ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ مسلم لیگ اپنے قائد کو تمام من گھڑت کیسوں سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی کیونکہ مسلم لیگی قائدین کا تحفظ دراصل پاکستان کا تحفظ ہے۔‘‘

پھر وہ چند دن بعد ہی دوبارہ قیادت کی تبدیلی کی باتیں کرنے لگے۔

ان کی قیادت کی تبدیلی کی باتیں دراصل اس سہانے خواب کی وجہ سے تھیں جو ان کو دکھایا گیا تھا کہ آپ کو اقتدار سونپ دیا جائے گا۔ اسی وجہ سے اپنی تمام تر خدمات کے ساتھ پھر آمریت کے ساتھ کھڑے نظر آتے۔ 17 فروری کو انہوں نے مشرف کے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کے پیکج کی بات کی کہ پارلیمنٹ اپنی پامالی پر مہر تصدیق ثبت کردے پھر چند دن پہلے تک نواز شریف کے دفاع کو پاکستان کا دفاع قرار دینے والے اعجاز الحق نے اپنا نیا انکشاف سنایا کہ ’’قوم صرف نواز شریف کی کوتاہیوں کی سزا بھگت رہی ہے‘‘ بہ الفاظ دیگر انہوں نے یہ تسلیم کرلیا کہ مشرف کا اقتدار قوم کے لئے سزا ہے مگر یہ اور بات ہے کہ اس کا سبب نواز شریف نہیں بلکہ بعض اقتدار پرست افراد ہیں جنہوں نے آج بھی اپنا مفاد آمریت میں تلاش کررکھا ہے۔

جہاں میں بدستور پارٹی کے مختلف عہدیداروں کو قیادت کے پیغامات اور خیالات سے آگاہ کررہی تھی وہیں پر میرا ذہن یوتھ ونگ کے ایک باقاعدہ اجلاس کے انعقاد کی جانب بھی تھا۔ چنانچہ 21 فروری کو مسلم لیگ ہاؤس میں یوتھ ونگ کے اجلاس میں شرکت کی اور ان کے سامنے میاں صاحب کا ماضی الضمیر پیش کیا تاکہ قوم کے یہ بچے جان سکیں کہ موجودہ حالات میں بھی قیادت اصولوں پر کسی تجارت کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس سے اگلے دن مسلم لیگ ہاؤس میں ہی صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان کا ایک اجلاس ہوا، جس میں تمام ارکان تو نہ آئے مگر آنے والے اکثر افراد کی زبان پر یہ الفاظ ضرور موجود تھے کہ اگر میاں صاحب حکم دیں تو ہم فوراً احتجاجی تحریک کا آغاز کردیں مگر میاں صاحب کی یہ ہدایت تھی کہ چاہے حالات بدتر سے بدترین کیوں نہ ہوجائیں مگر ہمیں ریاستی اداروں اور غاصبوں کے درمیان حد فاصل کا خیال رکھنا ہے اور ہمارا ٹکراؤ غاصبوں سے ہے ریاستی اداروں سے نہیں۔( جاری ہے)

مزید : رائے /اداریہ