بحری نظام میں ایٹمی میزائل نصب کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں ، نیول چیف

بحری نظام میں ایٹمی میزائل نصب کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں ، نیول چیف

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) پاکستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے تبایا ہے کہ پاکستان اپنے بحری نظام میں ایٹمی میزائل نصب کرنے کی پالیسی پر عمل کررہا ہے کیو نکہ بھارت نے اس سلسلے میں پہل کرکے ہمیں مجبور کردیا ہے کہ ہم بھی توازن پیدا کرنے کیلئے اپنی صلاحیت میں اضافہ کریں ۔ انہوں نے جنوبی ایشیاء کی صورت حال کا فوجی جائزہ پاکستانی سفارت خانے میں ایک خصوصی نیوز کانفرنس کے دوران پیش کیا ۔ ایڈمرل عباسی بحری طاقت کے بین الاقوامی سمپوزیم میں شرکت کیلئے امریکہ میں موجو د ہیں۔ ایڈمرل عباسی نے انکشاف کیا کہ پاکستانی بحریہ آئندہ سال فروری میں بین الاقوامی بحری مشقوں کا اہتمام کررہی ہے جس میں چین اور امریکہ کی بحریہ بھی شرکت کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بحری دفاع اور تحفظ کے شعبے میں اہم طاقتوں سے بھرپور تعاون کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے فوجی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات باہمی اخترام اور باہمی مفادات کی بنیاد پر التواء ہیں انہی اصولوں کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ افغانستان کے بارے میں پاکستان کے سرکاری موقف کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستانی بحریہ کے سربراہ نے بتایا کہ ہم قام امن کے لئے ان بین الاقوامی کو ششوں کے حامی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ امن مذاکرات کی قیادت افغانستان کی حکومت کرے کیونکہ افغانستان کے بحران کو صرف امن بات چیت کے ذریعے ہی حل کیاجا سکتا ہے ایڈمرل عباسی نے بتایا کہ پاکستان مشترکہ ٹاسک فورس 151کا ایک سرگرم رکن سے جو بحری قزاقی اور منشیات کے ناجائز کاروبار کی روک تھام کیلئے قائم کی گئی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ امریکہ نے پاکستان کی سکیورٹی امداد میں جو کمی کی ہے وہ خوش آئند بات نہیں ہے لیکن یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کی بناء پر امریکہ سے تعلقات خراب ہوجائیں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لئے یہ امداد اتنی ناگزیر نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے اپنے وسائل اتنے ناکافی نہیں ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر