محدود وسائل میں نئی ترقیاتی سکیموں کا اجرا بڑا چیلنج ہے،مخدوم ہاشم

محدود وسائل میں نئی ترقیاتی سکیموں کا اجرا بڑا چیلنج ہے،مخدوم ہاشم

لاہور(کامرس رپورٹر)معاشی بحران پر کنٹرول کے لیے صوبائی حکومت کو بھی وفاق کی طرز پر سخت فیصلے لینے ہوں گے۔گزشتہ حکومت سے محفوظ رہنے والے محدود وسائل میں نئی ترقیاتی سکیموں کا اجراء ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نبرد آزاما ہونے کے لیے کفایت شعاری کے کلچر کا فروغ اور ریسورس موبلائزیشن نا گزیر ہے ۔ صوبائی وزراء متعلقہ محکموں کی سالانہ ترقیاتی منصوبہ بندی کی تشکیل محاصل کو مد نظر رکھ کر کریں سابقہ حکومت کے جاری منصوبوں کی تکمیل کا فیصلہ بھی اسی فارمولا کے تحت کیا جائے گا ۔ ایسے منصوبے جن پر 10فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے جاری رکھے جائیں گے ۔ آئندہ دو دن میں عوامی نمائندوں کی ترجیحات اور موجودہ مالی صورتحال کے مطابق رواں مالی سال کی سالانہ ترقیاتی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے رواں مالی سال کیلئے سالانہ ترقیاتی منصوبہ بندی کی تیاری کے حوالے سے سٹریٹیجک کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کے دوران کیا ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ نئی حکومت کو رواں مالی سال کے ڈویلپمنٹ پلان کی تیاری میں اپنی ترجیحات کی درجہ بندی کرنا ہو گی۔ ابتدائی طور پر ایسی سکیموں کا انتخاب کیا جائے گاجن کی لاگت کم سے کم اور افادیت زیادہ سے زیادہ ہو۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے ایسے تمام منصوبے جو معیشت پر بوجھ بن رہے ہیں ترک کر دئیے جائیں گے اور ان کی جگہ عوامی سکیمیں متعارف کروائی جائیں گی ۔ سبسڈیز پر نظر ثانی کی جائے گی اور ان کا دائرہ کار متعین کیا جائے گا۔ جاری منصوبوں کے اخراجات میں چیک اینڈ بیلنس کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔ صنعت کے فروغ کے لیے جامع پالیسی وضع کی جائے گی۔ سٹریٹجک کمیٹی کے اجلاس میں صوبائی وزیر برائے صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیر تعلیم مراد راس ، وزیر صنعت اسلم اقبال، وزیر برائے ہائر ایجوکیشن ہمایوں یاسر، وزیر جنگلات سردار محمد سبطین اور چےئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حبیب الرحمان گیلانی سمیت متعلقہ محکموں کے وزراء اور سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی ۔

مزید : صفحہ آخر