جندول ،سٹیٹ ملازمین کا گھروں کی مسماری کیخلاف احتجاج کا اعلان

جندول ،سٹیٹ ملازمین کا گھروں کی مسماری کیخلاف احتجاج کا اعلان

جندول نمائندہ(نمائندہ پاکستان) جندول کی سابق اسٹیٹ ملازمین نے گھروں اور املاک کے مسماری کے خلاف ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے گھیراؤ اور بوریا بستر ساتھ لیجاکر پارلیمٹ ہاوس کے سامنے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے ، گذشتہ روز صدبرکلی میں سابق اسٹیٹ ملازمین نے املاک کی مسماری کے خلاف احتجاج کیا اور انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ احتجاجی کے شرکاء سے سابق سٹیٹ ملازمین دونوں اضلاع دیر بالا و پائین کے صدر عبد الستار خان ، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سربلند خان ، بہادر خان ، سلطنت خان ، سید پاچہ ، بخت بلند ،لطیف اللہ و دیگر نے خطاب کیا مشران نے کہا کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر خاص مقصد کیلئے دیر پائین میں تعینات ہوا ہے انہوں نے کہا کہ 1980سے ہمارے زیر قبضہ زمینوں کا فیصلہ لینڈ کمیشن نے ہمارے حق میں دیا ہے تھا۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصہ سے ہم ان زمینوں پر تعمیرات اور کاشتکاریاں کرتے چلے آ رہے ہیں مگر کسی نے تنگ نہیں کیا تاہم اب جب کوئی فرد اپنی زمین پر آبادی تعمیر کرتا ہے تو لیوی اور تحصیلدار وہا پہنچ کر آبادیاں مسمار کر دیتے ہیں جس سے غریب عوام کا لاکھوں کا نقصان ہو جاتا ہے تاہم اگر زمین مالک انتظامیہ کے افسران کا جیب بھر دیں تو اگلے دن اسی جگہ پھر سے تعمیراتی کام شروع کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جہاں غریب عوام کیلئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا ہے وہا حکومت کو بدنام کرنے کیلئے موجودہ انتظامیہ لوگوں کے تیار گھر مسمار کر کے عوام کو مشتعل کرنے پر مجبور کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم 20ستمبر کو ثمرباغ 23ستمبر کو معیار اور30ستمبر کو منڈا میں احتجاج کرینگے اور اس کے بعد لاکھوں لوگ اپنے گھر بار خالی چھوڑ کر بوریاں بستر سمیت ڈپٹی کمشنر کے دفتر کا گھیراوں کر کے وہا پر دھرنہ دینگے ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے جلد از جلد لینڈ کمیشن کے فیصلہ کے مطابق مذکورہ زمینیں ہمیں الاٹ نہ کئے تو عوام کا سمندر مین روڈ پر پیدل چل کر پشاور پارلیمنٹ ہاوس کا رخ کریگا ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ جائیداد پر جہاں پہلے ہمارے مشران نے قربانیاں دی ہیں اب ہم بھی اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج زمینوں کے الاٹمنٹ تک جاری رہیگا اور اگر اس دوران پھر سے انتظامیہ نے عوام یا ان کے گھروں کو چھیڑنے کی کوشش کی تو کسی قسم کے نقصان کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر