قبرستان کمیٹی دیہاڑیاں لگانے لگی ، احاطے گرانے کی آڑ میں مقدس مقامات کی بے حرمتی ، چیف جسٹس گھناؤنے کھیل کا نوٹس لیں

قبرستان کمیٹی دیہاڑیاں لگانے لگی ، احاطے گرانے کی آڑ میں مقدس مقامات کی بے ...

لاہور(سروے رپورٹ: عامر بٹ) صوبائی دارالحکومت کی قدیم ترین رہائشی بستی مزنگ میں ایشیا کے سب سے بڑے قبرستان میانی صاحب کے گرد و نواح میں رہائش پذیر ہزاروں خواتین و حضرات ، مزارات و درباروں کے سجادہ نشین ،متولی اور عقیدت مندمقدس مقامات کی مسمار ی ، توہین و تضحیک اور گھروں کے غیر قانونی انہدام کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے ہیں ۔جنہوں نے قیام پاکستان سے قبل تعمیر شدہ جدی املاک کو بلڈوز کرنے اور خواتین و بچوں سمیت لاکھوں افراد سے چھت چھیننے کے خلاف بھرپور مظاہروں کا اعلان کیا ہے اور چیف جسٹس پاکستان سے اس غیر قانونی اقدام کا از خود نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے معاملے کے فوری حل کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔میانی صاحب میں لاوارث احاطے مسمار کرنے کی آڑ میں سینکڑوں قانونی مزارات ، مساجد ،رہائش گاہیں اور قبریں ڈھانے کے حوالے سے کئے گئے سروے کے دوران میانی صاحب کے قرب و جوار میں رہائش پذیر افراد اور وہاں ہزاروں کی تعداد میں آنے والے زائرین غیر قانونی اقدامات کے خلاف پھٹ پڑے ۔1898ء میں دل افروز روڈ مزنگ میں جدی جائیداد پر تعمیر ہونے والی درگاہ سید چراغ علی شاہ کے متولی سید موسیٰ رضا شاہ نے بتایا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی خرید کردہ اراضی 105کنال تھی جس میں 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران ایک مسجد بھی قائم کی گئی تھی جہاں بڑی تعداد میں لوگ پنجگانہ نماز ادا کرتے تھے ۔72کنال 3مرلے پر محیط اراضی میں سید چراغ علی شاہ کا مزار ، لنگر خانہ ، مسجد ،حجرے اور دیگر چھوٹی موٹی تعمیرات موجود تھیں جبکہ بعدازاں فوت ہونے والے ہمارے دیگر عزیز و اقارب کی قبریں بھی یہاں بنائی جاتی رہیں ۔اسی اراضی میں سابق جسٹس خواجہ محمد شریف کے والدین ،سابق سفیر لعل شاہ بخاری ، سابق نگران وزیر اعظم معین قریشی کی والدہ سمیت دیگرممتاز شخصیات بھی مدفون ہیں ۔یہ تمام اراضی سید چراغ علی شاہ کے آباؤ اجداد اور خانوادوں کی خرید کردہ ہے جس کا محکمہ مال میں باقاعدہ ریکارڈ بھی موجودہے ۔قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں انگریز افسروں سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی اس مقام کا دورہ کر کے قانونی حیثیت تسلیم کر چکے ہیں ۔سید موسیٰ رضا کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے قبرستان میانی صاحب کمیٹی کے افسران اور اہلکار ہماری جدی املاک کے حوالے سے غیر قانونی اقدامات کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ذاتی مفاد کی خاطر ہمیں ڈرانے کے ساتھ ساتھ گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر سادات کے گھرانوں کی بے حرمتی بھی کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قبرستان میانی صاحب کو اپنی اراضی میں سے 72کنال 3مرلے میں سے 65کنال دے چکے ہیں جہاں عام قبریں تعمیر ہیں ۔ سید چراغ علی شاہ کا مزار اور ملحقہ مقامات میں صرف 5یا 6کنال اراضی باقی ہے ہمیں اسے بھی بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ہم ہر سطح پر اپنے قانونی حق کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں دستاویزات بھی پیش کرتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی کوئی عدالتی یا انتظامی افسرہمارا موقف سننے کو تیار ہی نہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے درد مندانہ مطالبہ کیا کہ ہماری اس ظلم و زیادتی سے جان چھڑوائیں ۔ ملک کے ممتاز صوفی شاعر اور دانشور واصف علی واصف کے صاحبزادہ کاشف واصف نے گفتگو کے دوران کہا کہ یہ مزار ہر خاص و عام کے لئے عقیدت و تقدس کا مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند آتے ہیں ، سالہا سال سے ہمارا مزار ، مسجد ، لنگر خانہ اور دیگر مقامات قانونی حیثیت کے حامل ہیں لیکن قبرستان میانی صاحب کمیٹی نے اس مزار کا تقدس پامال کرتے ہوئے مسجد شہید کر دی جبکہ ملحقہ قبروں کی توہین کرتے ہوئے ظلم کی نئی داستانیں رقم کی گئیں ۔ صاحبزادہ کاشف کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام دستاویزات کئی بار کمیٹی افسران کے حوالے کی ہیں لیکن حالیہ اقدام کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اوپر سے بے تحاشہ دباؤ ہے اس وجہ سے کوئی قانونی نکتہ سننے کو تیار نہیں ۔باغ گل بیگم نیو مزنگ کے رہائشی سید فاخر علی شاہ نے سروے کے دوران کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی قبریں ، مزارات اور ملحقہ رہائشیں قیام پاکستان سے پہلے کی ہیں جن کی باقاعدہ قانونی حیثیت اور دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں لیکن قبرستان کمیٹی 1962ء کے نوٹیفیکیشن کو آڑ بنا کر آمرانہ اقدامات کر رہی ہے ہمیں بے گھر کیا جا رہا ہے ، مزارات ود یگر مقامات مقدسہ کی صریحاً توہین کی جا رہی ہے لیکن شنوائی کے لئے کوئی فورم موجود نہیں ۔ روشن خوشحال پاکستان کے چیئرمین رانا خورشید انورکہنا تھا کہ ہم عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے ہیں لیکن ہمیں اپنے حق سے مسلسل محروم کیا جا رہا ہے انہو ں نے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار سے مداخلت کی اپیل کی اور کہا کہ ہمیں صرف ان سے انصاف کی توقع ہے وہ قبرستان میانی صاحب کے گرد و نواح میں مزنگ کا دورہ کریں اور حالات کا خود مشاہدہ کر کے فیصلہ کریں ۔ جن متاثرہ خاندانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے یا ظلم کیا جا رہا ہے انہیں انصاف فراہم کر کے اپنے مشن کی تکمیل کریں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1