اخترمینگل کا مہاجرین کو شہریت دینے کے معاملے پر واک آؤٹ

اخترمینگل کا مہاجرین کو شہریت دینے کے معاملے پر واک آؤٹ

اسلام آباد(آئی این پی )قومی اسمبلی میں حکومتی اتحادی بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کو حکومت کی جانب سے مہاجرین کو شہریت دینے سے متعلق تسلی بخش جواب نہ دینے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا اور کہا کہ حکومت کا ہمارے ساتھ 6نکاتی معاہدہ ہے،جس میں افغان مہاجرین کی جلد از جلد واپسی بھی شامل ہے،اگر حکومت نے اس معاہدے پر عمل نہیں کرنا تو ہمارا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مہاجرین کے بچوں کو شہریت دینے کا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا، 1951کے قانون کے تحت جو یہاں پیدا ہوتے ہیں شہریت ان کا حق ہے، بنگا لی یہاں 45سے 50سال سے رہ ہے ہیں، ان کا استحصال ہورہا ہے، نہ ان کو شہریت ملتی ہے اور نہ وہ واپس جاتے ہیں، ان کی نسلیں بڑھ چکی ہیں ، انسانیت کے تقاضے پر کہہ رہا ہوں کہ وہ انسان ہیں اگر آج ان کا فیصلہ نہیں ہوا تو کب کریں گے؟ ۔،عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین ہیں آپ مہاجرین کو زبردستی نہیں بھیج سکتے اس لیے مہاجرین کے جو یہاں پیدا ہوئے ان کے لیے کوئی پالیسی بنانا پڑے گی، یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، قوم کو کبھی نہ کبھی ان کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کے اندر اسٹریٹ کرائم بڑھنے کی وجہ یہی ہے کہ جو یہاں پیدا ہوئے انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں، ان کے بچے اسکول نہیں جاسکتے، ہماری ہر سوسائٹی میں یہ شدید مسائل آنے والے ہیں۔اس موقع پر سردار اختر مینگل نے دوبارہ بات کرنا چاہی تو سپیکر اسد قیصر نے انہیں بات کرنے کی اجازات نہ دی جس پر سردار اختر مینگل نے وزیر اعظم کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔اس موقع پر ایم ایم اے اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی احتجاج کیا مگر سپیکر نے کسی کو بولنے کی اجاز ت نہ دی ۔

مزید : صفحہ اول