عثمان بزدار کو ثابت کرنا ہوگا وہ مکمل کمانڈ کیساتھ صوبہ چلا رہے ہیں

عثمان بزدار کو ثابت کرنا ہوگا وہ مکمل کمانڈ کیساتھ صوبہ چلا رہے ہیں
عثمان بزدار کو ثابت کرنا ہوگا وہ مکمل کمانڈ کیساتھ صوبہ چلا رہے ہیں

  

تجزیہ : ایثار رانا

یقیناًوزیر اعلیٰ عثمان بزدار کیلئے سپریم کورٹ میں میں طلبی اور معافی ایک نیا تجربہ ہے۔ امید ہے وہ اس تجربے سے بہت کچھ سیکھیں گے انہیں اس بات کا ضرور اندازہ ہوا ہو گا کہ ان کا ہر قدم نپا تلا اور احتیاط کا تقاضا کرتا ہے انہیں یہ تاثر ختم کرنا ہو گا کہ وہ کوئی مجبور وزیر اعلیٰ ہیں اور انہیں جو چاہے اپنی مرضی سے چلا لے یہ تاثر ختم کرنا بہت ضروری ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتے وہ پاکستان کے نصف سے زیادہ کے وزیر اعلیٰ ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں اس عہدے پر بہت ہیوی ویٹ لوگ رہے ہیں اور ان کا پروفائل بہت سادہ سا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ نوکر شاہی انہیں بہت ’’ایزی‘‘ لے رہی ہے اب یہ وزیر اعلیٰ بزدار کا کام ہے کہ وہ اپنی اتھارٹی قائم کریں اور اوپر سے نیچے تک سب کو یہ پیغام دیں کہ غلطی کی گنجائش نہیں جب تک ایک آدھے کو وہ اس کی غلطی کی سزا نہیں دینگے انہیں بیورو کریسی سنجیدہ نہیں لے گی اس طرح انہیں اپنی میڈیا پلاننگ بہتر کرنا ہو گی اب تک وہ ایک پریس ریلیز وزیر اعلیٰ ہیں۔ وہی حادثات اور ان پر وہی روایتی سرکاری ہینڈ آؤٹ وہ یہ یاد رکھیں ان کی کارکردگی کا مقابلہ پاکستان کے کامیاب ترین وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے کیا جائیگا۔ انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ ان کی لاٹری نہیں نکلی بلکہ وہ میرٹ پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔ انہیں خود کو ایک کامیاب مضبوط اور ذہین ایڈمنسٹریٹر ثابت کرنا ہے اور یہ ایک اچھی میڈیا ٹیم کے بغیر ممکن نہیں، پنجاب کے عوام دل والے ہیں انہیں عوامی انداز بہت بھاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بزدار عوام میں نکلیں میڈیا کے ڈرامے بازی سے نکل کر سچ میں ان کی اشک سوئی کریں ان کے دکھوں کا مداوا کریں اس کیلئے لاہور گوجرانوالہ یا گجرات فیصل آباد جانے کی ضرورت نہیں۔ دور دراز گاؤں دیہات ان کے منتظر ہیں۔ ان کے پاس اپنی سادگی اور شرافت سے عوام کا دل جیتنے کا تاریخی موقع ہے۔ ماضی میں منتخب ارکان اسمبلی وزرائے اعلیٰ سے صرف ہاتھ ملانے کیلئے قطاروں اور بنگلوں کے باہر کھڑے پائے جاتے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلیٰ تمام کی عزت نفس محفوظ رکھتے ہوئے ایک کار آمد ٹیم بنائیں ایک آخری بات اس بار کابینہ میں چودھری پرویز الٰہی جیسے مدبر اور منجھے ہوئے سیاستدان کے ساتھ علیم خان جیسے تجربہ کار وزیر موجود ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو یہ تاثر یقینی بنانا ہے کہ وہ خود چلا رہے ہیں اور مکمل کمانڈ کے ساتھ چلا رہے ہیں۔

مزید : تجزیہ