پارلیمانی کمیشن کا قیام اچھا فیصلہ ہے ، ٹرمز آف ریفرنس بھی کمیشن خود بنائے گا

پارلیمانی کمیشن کا قیام اچھا فیصلہ ہے ، ٹرمز آف ریفرنس بھی کمیشن خود بنائے گا
پارلیمانی کمیشن کا قیام اچھا فیصلہ ہے ، ٹرمز آف ریفرنس بھی کمیشن خود بنائے گا

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کا یہ مطالبہ بالآخر مان لیا ہے کہ انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لئے ایک پارلیمانی کمیشن بنایا جائے گا، جس میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو مساوی نمائندگی دی جائے گی، تاہم ابھی تک کمیشن کے چیئرمین کے بارے میں طے نہیں کیا گیا، چیئرمین کا نام وزیراعظم کی مشاورت کے بعد حتمی شکل اختیار کرے گا۔ اگرچہ چیئرمین کا تعلق حکمران جماعت سے ہی ہوگا اور اپوزیشن اس پر معترض نہیں، لیکن اگر اس سلسلے میں بھی مشاورت کرلی جائے تو اپوزیشن مطمئن ہوگی۔ اگرچہ مشاورت کے اس عمل کے بارے میں اپوزیشن کے ماضی قریب کے تجربات تو کوئی اچھے نہیں رہے۔ تاہم اب اگر پارلیمانی کمیشن بنانے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو بہتر ہے اس ضمن میں اپوزیشن کو خواہ مخواہ اعتراض کا موقع نہ دیا جائے۔ یہ کمیشن اپنی تشکیل کے بعد ٹرمز آف ریفرنس بھی خود ہی طے کرے گا اور یہ بھی دیکھے گا کہ اسے کس کس الزام کی تحقیقات کرنی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے الیکشن کے حوالے سے جو الزامات اب تک سامنے آئے ہیں اور جن کا تذکرہ بھی تفصیل سے ہوتا رہا ہے، اس میں سب سے بڑا یہ تھا کہ چھ بجے پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد گنتی کے وقت امیدواروں کے ایجنٹوں کو باہر نکال دیا گیا اور گنتی ان کی غیر حاضری میں کی گئی، یہ الزام اس لحاظ سے سنجیدہ ہے کہ امیدوار کا ایجنٹ ہی وہ واحد شخص ہوتا ہے جو گنتی پر کسی قسم کے اعتراض کی صورت میں یہ معاملہ گنتی کرنے والے عملے کے سامنے رکھتا ہے، یہ ایجنٹ یہ بھی دیکھتا ہے کہ جو ووٹ مسترد کئے جا رہے ہیں، کیا ان کا استرداد درست ہے یا کسی خاص امیدوار کی حمایت یا مخالفت کے لئے اس حربے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ انتخابات میں مجموعی طور پر سترہ لاکھ ووٹ مسترد ہوئے۔ غالباً ہماری انتخابی تاریخ میں کبھی اتنی بڑی تعداد میں ووٹ مسترد نہیں کئے گئے، عام طور پر جس امیدوار کا ووٹ مسترد ہوتا ہے، اس کے ایجنٹ کو بتایا جاتا ہے یا پھر وہ خود معلوم کرتا ہے کہ ووٹ کس وجہ سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہی وہ معاملہ ہے جس کے پردے میں کسی کے حق یا مخالفت میں ’’دھاندلی‘‘ کی جاسکتی ہے۔ بعض امیدواروں نے تو یہ الزام بھی لگایا کہ ان کے ووٹ غیر معمولی تعداد میں مسترد کئے گئے اور جیتنے والے امیدوار نے بہت کم فرق سے کامیابی حاصل کی یعنی وہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر کسی امیدوار کے ووٹ اتنی بڑی تعداد میں مسترد نہ ہوتے تو مخالف امیدوار کا جیتنا مشکل تھا۔ لاہور کے حلقے میں خواجہ سعد رفیق نے یہ معاملہ اٹھایا، پہلے ان کے مسترد شدہ ووٹ دوبارہ گِنے گئے تو مد مقابل عمران خان کے ووٹ کم ہوگئے۔ پھر جب ان کی درخواست پر سارے ووٹوں کی گنتی دوبارہ شروع ہوئی تو ابھی پانچ تھیلے ہی کھلے تھے کہ سعد رفیق کے ووٹ بڑھنا شروع ہوگئے، اس دوران سپریم کورٹ کے حکم سے دوبارہ گنتی کا عمل روک دیا گیا، اب یہ معاملہ الیکشن ٹربیونل کے روبرو ہے اور دیکھنا ہوگا کہ مسترد شدہ ووٹوں کی حقیقت کیا ہے، اسی طرح ایک امیدوار نے الزام لگایا کہ اس کے جو ووٹ دوہرے نشان کی وجہ سے مسترد ہوئے، ان دونوں کی سیاہی کا رنگ بھی مختلف ہے، اگر یہ الزام درست ہے اور کمیشن کے روبرو ایسی کوئی شہادت پیش کر دی جاتی ہے تو پھر یہ سوال اٹھے گا کہ کیا ووٹ مسترد کرنے کے لئے کسی منصوبہ بندی کے تحت دہرے نشان لگائے گئے، ووٹوں کے استرداد اور پولنگ ایجنٹوں کے گنتی کے وقت موجود نہ ہونے کی شکایات کے ساتھ ساتھ بعض پریزائیڈنگ افسروں تک نے یہ کہا کہ گنتی ان کے سامنے نہیں کی گئی، یہ انتہائی سنگین الزام ہے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ اگر یہ پریزائیڈنگ افسر نہیں تھاجس کے سامنے گنتی ہوئی تو پھر گنتی ہو کیسے گئی؟ یہ شکایت بھی رہی کہ پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے بعد فارم 45 نہیں دئیے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹ وہاں تھے ہی نہیں، وہ خود چلے گئے تھے یا نکال دئیے گئے تھے تو فارم 45 کس کو دئیے جاتے؟ ویسے ہر الیکشن میں یہ ہوتا ہے کہ گنتی مکمل ہونے کے بعد پولنگ ایجنٹ ایسا فارم ساتھ لے کر ہی جاتے ہیں کیونکہ امیدوار کے پاس اس فارم کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں ہوتا کہ گنتی اس کے سامنے ہوئی اور نتیجہ یہ برآمد ہوا، الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ ایجنٹ خود ہی اپنے امیدواروں کی ہار دیکھ کر گھر چلے گئے تھے، یہ تو الیکشن عمل کی تکمیل کے بعد ووٹوں کی گنتی کا احوال تھا، رات بارہ بجے تک ٹھیک کام کرنے والا آر ٹی ایس سسٹم اچانک کیوں بیٹھ گیا۔ نادرا، جس نے یہ سسٹم بنایا، کا موقف ہے کہ جس وقت الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ٹی وی پر آکر اعلان کیا کہ سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، آر ٹی ایس اس وقت بھی کام کر رہا تھا، نادرا کا موقف ہے آر ٹی ایس اور ریزلٹ مینجمنٹ سسٹم دو الگ الگ پروگرام ہیں۔ نادرا صرف آر ٹی ایس کا ذمے دار ہے۔ ریزلٹ مینجمنٹ سسٹم کا تعلق الیکشن کمیشن سے ہے اور وہی اس کے بارے میں جوابدہ ہے۔ انتخابی نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر کی بھی شکایت رہی اور کئی دن تک بعض حلقوں کا نتیجہ معلوم نہ ہوسکا، یہ اور ایسی بہت سی دوسری شکایات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ پارلیمانی کمیشن ایسے ٹی او آرز بنائے جن کی روشنی اور رہنمائی میں کام کرکے یہ معلوم ہوسکے کہ کیا اپوزیشن کے الزامات میں کوئی جان ہے یا یہ صرف ہارنے والوں کا پروپیگنڈہ ہے جو عام طور پر دھاندلی کا الزام ہی لگاتے ہیں اور پاکستان کے ہر الیکشن میں یہ الزام دہرایا گیا۔ 2013ء کے الیکشن پر دھاندلی کا الزام عمران خان نے تواتر کے ساتھ لگایا اور جب جوڈیشل کمیشن نے یہ قرار دیا کہ ان انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تو پھر بھی وہ یہ الزام دہراتے رہے۔ اس لئے اب یہ بہت ضروری ہے کہ پارلیمانی کمیشن دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات غیر جانبداری اور شفاف طریقے سے کرے، تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اپوزیشن کے الزامات میں صداقت کا عنصر کتنا ہے اور پروپیگنڈے کا عمل دخل کہاں تک ہے؟

ٹرمز آف ریفرنس

مزید : تجزیہ