بچوں کے اغوا کی خبریں بے بنیا ،خوف پھیلایا جا رہا ہے :کراچی پولیس چیف

بچوں کے اغوا کی خبریں بے بنیا ،خوف پھیلایا جا رہا ہے :کراچی پولیس چیف

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے کہا ہے کہ شہر میں کچھ دنوں سے بچوں کے اغوا کے حوالے سے بے بنیاد خبریں پھیلا کر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔نیپئر تھانے کی حدود میں تیسری منزل سے خاتون کی گو دسے بچہ گم ہونے کی رپورٹ کو منفی انداز میں شائع کیا گیا جبکہ تفتیش میں ماں کے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے ۔اس حوالے سے میڈیا ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پولیس کی مدد کرے اور مثبت رپورٹس شائع کی جائیں تاکہ معاشرے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ شہر میں 5 فیصد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں برمی اور بنگالی افراد ملوث ہیں ۔منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بڑے بڑے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے منگل کو کراچی پولیس آفس میں سی پی ایل سی چیف زبیر حبیب اور روشنی فاؤنڈیشن کے خلیل احمد نینی تال والا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں میڈیا کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے ۔ ذرا سی دیر میں خبر معاشرے پر اثر اندا ز ہوتی ہے ۔ لاپتہ بچوں کے حوالے سے آج کل شہر میں افواہوں کا راج ہے ۔ ۔ اس حوالے سے کراچی پولیس ، سی پی ایل سی اور روشنی ہیلپ لائن کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سال جنوری سے ستمبر تک 146 بچے لاپتہ ہوئے ہیں ،جن میں سے 8 بچوں کو اغواء برائے تاوان کے سلسلے میں اغواء کیا گیا تھا اور تمام کے تمام بچوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے ۔ 22 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ تین ملزمان مقابلے میں مارے بھی گئے ۔ دیگر 126 بچے گھروں کو واپس آ چکے ہیں اور 20 بچے ابھی لاپتہ ہیں ۔ بچوں کے لاپتہ ہونے کی مختلف اسباب ہیں جن میں پیار، اسکول یا مدرسے کے پریشر، گھر میں ماں باپ کی لڑائیاں اور ان کو زبردستی مزدوری کروانا شامل ہے۔ ان میں سے کئی بچوں کا دماغی توازن درست نہیں تھا۔ جو بچے اغوا ہوئے ان کے بھی مختلف اسباب تھے ان میں گھر کے نوکروں کا ملوث ہونا، گداگری کے لئے، تاوان کے لئے شامل ہیں۔ کراچی میں قائم تینوں وومین پولیس اسٹیشن میں سی آر پی سی یونٹ قائم کردیا ہے جہاں پر 1138 کی ہیلپ لائین قائم کر دی گئی ہے جہاں پر بچوں کے حوالے سے شکایات درج کی جاسکتی ہیں ۔ ماں باپ بچوں کو اسکول چھوڑ کر آتے ہیں اور بعض دفعہ ضروری کام میں لگ جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے بچہ اسکول سے خود گھر آنے کی کوشش میں راستہ بھول جاتا ہے ۔ گذشتہ دنوں جو 8 بچے اغواء ہوئے ان میں گھر کے ملازم ، گھر کے ڈرائیور یا کاروباری رنجش اور پیسے کی غرض سے بچوں کو اغواء کیا گیا تھا ۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا کہ اس حوالے سے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ (ون ونڈو آپریشن )قائم کیا گیا ہے ۔ گھروں سے لاپتہ ہونے والے بچوں کے بارے میں سندھ پولیس روشنی ہیلپ لائن اور سی پی ایل سی مشترکہ طور پر تفتیش کرکے اس بات کا تعین کرے گی کہ بچے گھروں غائب ہونے کے کیا اسباب ہیں ۔ اس سلسلے میں سندھ گورنمنٹ کی تین وومن تھانوں میں چائلڈ پروٹیکشن کا یونٹ کا ڈیسک کام کرے گا ۔ بچوں کے اغواء کے حوالے سے پولیس کو تفتیش کے لیے جدید تربیت فراہم کی جائے گی کیونکہ اغواء برائے تاوان اور بچوں کے گھروں سے بھاگنے کے حوالے سے طریقہ کار مختلف ہوتا ہے یا پھر بچے گھروں کا راستہ بھول جاتے ہیں ۔ اس حوالے سے میڈیا ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پولیس کی مدد کرے اور مثبت رپورٹس شائع کی جائیں تاکہ معاشرے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو ۔ گذشتہ دنوں ملیر سے گم ہونے والا بچہ 24 گھنٹے میں گھر واپس آ گیا اور اس نے بتایا کہ وہ گھر سے کچھ رقم لے کر غائب ہوا تھا ۔ پیسے ختم ہونے کی صورت میں واپس آگیا جبکہ میڈیا میں اس واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ۔ اسی طرح لیاری کے علاقے نیپئر تھانے کی حدود میں تیسری منزل سے خاتون کی گو دسے بچہ گم ہونے کی رپورٹ کو بھی منفی انداز میں شائع کیا گیا جبکہ تفتیش میں ماں کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا کہ شہر میں 5 فیصد اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں برمی اور بنگالی افراد ملوث ہوتے ہیں جبکہ منشیات فروشوں کی وجہ سے نوجوان منشیات کی عادت کو پورا کرنے کے لیے اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کرتے ہیں ۔ ہم منشیات فروشوں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کرنے جا رہے ہیں ۔ منشیات فروش اچھائی کے لبادے میں نوجوان نسل کی رگوں میں زہر بھر رہے ہیں ۔ منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد بڑے بڑے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر