ای او بی آئی ورکروں کی پنشن اور وزیر خزانہ

ای او بی آئی ورکروں کی پنشن اور وزیر خزانہ
ای او بی آئی ورکروں کی پنشن اور وزیر خزانہ

  

ایک اخباری اطلاع کے مطابق ای او بی آئی انتظامیہ نے کفائت شعاری پالیسی یکسر نظر انداز کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا خواب چکنا چور کر دیا ہے اس کی یہ ادنیٰ مثال ہے کہ افسران کے سپرد (Cultus) کلٹس کی بجائے پر تعیش ڈبل ہیوی ڈیوٹی گاڑیاں کر دی ہیں۔

اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن (Oldage Benifit Institution) کے نام کے ساتھ ایمپلائز (Employee) بھی لگا ہوا ہے اور اخبار کے مطابق چیئرمین کی زیرہدایت یہ انتظام کیا گیا ہے کہ عمران خان کی کفایت شعاری پالیسی کا دھڑن تختہ اعلانیہ کیا جا سکے چیئرمین صاحب سابقہ وزیراعظم کے پرنسپل سٹاف آفیسر مشہور و معروف بیورو کریٹ فواد حسن فواد کے قریبی عزیز بھی ہیں۔ اس ادارے میں ’’جھٹکے‘‘ کی پالیسی نئی نہیں ہے کہ مزدوروں کی تنخواہ سے کاٹی گئی ماہانہ رقوم جمع ہونے سے یہ ادارہ 1976ء میں وجود میں آیا تھا اور ہر سال اتنی بڑی رقم اس ادارے کے پاس جمع ہوتی ہے کہ جس کا شمار نہیں۔ اربوں میں رقوم آتی ہیں اور اربوں روپے ہی اس رقم کا منافع ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ ادارہ جس مقصد کے لئے قائم کیا گیا تھا اس کی روح کے مطابق کبھی عمل نہیں ہوا۔

ساٹھ سال کی عمر ہوجانے پر ورکر کو برائے نام رقم بطور پنشن بہزار احسانات ادا کی جاتی ہے اور کم سے کم پنشن صرف پانچ ہزار دو سو پچاس روپے ہے اور یہ کم از کم پنشن پچھلے چار سال سے جامد صورت اختیار کر چکی ہے اس کے باوجود اس خود مختار ادارے کے سابق چیئرمین نے اربوں کا گھپلا کیا اور اس کو ابھی تک منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا اور سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی پنشن کی مقدار کے ساتھ ساتھ بازگشت سنی جاتی ہے۔

پچھلی حکومت کے وزیرخزانہ (اسحاق ڈار) نے چار سال تک کسی بجٹ میں بھی دیگر پنشنروں کے ساتھ ورکروں کا نام نہ لیا۔ سرکاری پنشنروں کی پچھتر سال ہونے پر پنشن دگنی کرنے کے متعلق تو سنا جاتا ہے لیکن ورکرز کی پنشن 5250/- ہی چلی آ رہی ہے۔

حالانکہ ان پنشنروں کی رقم بڑھانے سے بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جنرل مشرف کی صدارت کے دوران بھی ایک وفاقی وزیر اس ادارے کی ایک خطیر رقم لے کر کراچی بھاگ گیا تھا اور وہ وہاں جا کر (شاید) قتل ہو گیا تھا اور اربوں روپے کا معاملہ دبا دیا گیا تھا۔مزدوروں کی کمائی پر ملک کی دوسری کیفیات کی طرح کہ ٹیکس کا پیسہ اڑایا جاتا رہا ہے۔

اس ادارہ پر حکومت کا ڈائریکٹ کنٹرول نہیں۔ اس لئے افسروں کے اللے تللے دیکھنے والے ہیں۔ اور پنشن کی عمر پرپہنچنے والے بوڑھے ورکر جب اس ادارے کے پاس پنشن بک بنوانے کے لئے ’’حاضر‘‘ ہوتے ہیں تو افسران کی رعونت قابل دید ہوتی ہے جو انفارمیشن ورکر کے آجر ادارہ کو مہیا کرنی چاہئیں وہ جدول، سرٹیفکیٹ، تصدیق تمام کام ورکر کے ذمہ ہوتا ہے۔

اور اتنی خرابیوں کے بعد کم از کم پنشن 5250/- دے کر احسانِ عظیم کیا جاتا ہے۔ اتنی ’’بڑی‘‘ رقم سے کیا علاج ہو؟ کیا گھر کی کفالت کرے؟ کیا مکان کا کرایہ دے؟ جائے تو جائے کہاں۔۔۔؟ اس ادارہ نے رقم کا خاطر خواہ استعمال کرنے اور نوکر شاہی کے فائدے کے لئے دیگر اداروں میں سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے لیکن اس سب کا پھل ورکر کونہیں مل رہا ہے۔

وزیر خزانہ جناب اسد عمر صاحب آپ کہاں ہیں؟ فیکٹری ورکر پنشنرز کے معاملے پر ایک نگاہِ غلط انداز ڈال لیجئے اور لاکھوں پنشنرز کی دعائیں لیجئے۔ کیا آپ بھی سابقہ وزیر خزانہ کے متکبرانہ رویئے پر چل پڑیں گے؟

مزید : رائے /کالم