محکمہ فوڈ کی غفلت ،گلی محلوں میں جعلی واٹر کمپنیوں اور غیر قانونی واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بھرمار

محکمہ فوڈ کی غفلت ،گلی محلوں میں جعلی واٹر کمپنیوں اور غیر قانونی واٹر ...

لاہور(اپنے نمائندے سے )صوبائی دارالحکومت میں جہاں بڑی بڑی منرل واٹر کمپنیاں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں وہیں پر محکمہ فوڈ و دیگر متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت کی وجہ سے لاہور کے گلی محلوں میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی واٹر فلٹریشن پلانٹس کھل گئے ہیں جو کہ عوام الناس میں ہیپاٹائٹس جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ صنعتی فاضل مادوں، سیورج کے غلیظ پانی اور کیمیکل فضلات کے باعث عام پانی پینے کے قابل نہیں رہا۔ آلودہ پانی پینے سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہونے کے خطرے کا تدارک کرنے کے لیے عوام اپنی خون پسینے کی کمائی سے مہنگے داموں منرل واٹر خریدنے پر مجبور ہیں تاکہ وہ خطرناک امراض سے بچے رہیں۔ لیکن غیررجسٹرڈ واٹر فلٹرز پلانٹس چند سکوں کے عوض عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں۔ کیلشیم، میگنیشیم ، سوڈیم وغیرہ جیسے منرلز کا اس پانی میں یا تو نام نشان تک نہیں ہوتا یا پھریہ اجزا مقررہ حد سے زیادہ مقدار میں شامل کر دیئے جاتے ہیں جوکہ دونوں صورتوں میں انسانی صحت کے لئے ضرر رساں ہیں۔ یاد رہے کہ اعلیٰ کوالٹی واٹر حاصل کرنے کے لیے فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ ساتھ آر۔ او پلانٹ کا ہونا بھی ضروری ہے لیکن اس سے مجموعی لاگت کوئی ڈیڑھ گنا تک بڑھ جاتی ہے۔ آر او پلانٹ بور بلکہ سمندر کے کھارے پانی کو بھی اعلیٰ درجے کے میٹھے پانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ منرل شامل کرنے کے بعد دراصل اس پانی کو منرل واٹر کہتے ہیں۔ جبکہ فلٹریشن پلانٹ پانی کو صرف صاف کرتا ہے کھارا پن دور نہیں کرتا۔ چند دن بعد اس کی نہ صرف رنگت تبدیل ہو سکتی ہے بلکہ اس میں کائی بھی جم سکتی ہے جبکہ ار۔ او پلانٹ کے پانی کی کوالٹی سالہا سال بعد بھی ویسی ہی رہتی ہے۔ ان نام نہاد واٹر فلٹریشن پلانٹس کے مالکان نہ صرف لوگوں کے صحت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں بلکہ واپڈا حکام کے ساتھ مل کر کمرشل میٹر کی بجائے گھریلو میٹر استعمال کر کے بجلی چوری کرنے کے جرم کے بھی مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔

جعلی واٹر

مزید : کراچی صفحہ اول