حکومت کا بیرون ملک نان کیریئر سفارتکارتبدیل نہ کرنے کا فیصلہ

حکومت کا بیرون ملک نان کیریئر سفارتکارتبدیل نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد( آن لائن) وفاقی حکومت نے بیرون ملک تعینات نان کیریئر سفارت کاروں کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکردگی کی بنیاد پر چند ماہ میں انہیں ہٹانے یا رکھنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے نا ن کیرئیرسفارتکاروں کو کام جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ دفترخارجہ کے اہم ذرائع کے مطابق بیرونی ممالک میں سابق حکومت کی جانب سے تعینات کردہ نان کیر یئرسفارت کاروں کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چند ماہ تک انکی کارکردگی کو جانچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اہم حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند ماہ کے دوران انکی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اپنی خدمات جاری رکھنے یا ہٹانے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔پاکستان مسلم لیگ (ن ) نے سابقہ دور حکومت کے دوران 21ممالک میں سیاسی بنیادوں پر سفارت کاروں کو تعینات کیا ۔ جن میں سے تین اہم سفارتکاروں کی تعیناتیاں شامل ہیں۔ امریکہ میں تعینات علی جہانگیر صدیقی ، کینیڈا میں تعینات ہائی کمشنر طارق عظیم اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی کی سیاسی تقرری کی گئی ۔علی جہانگیر صدیقی نے سابق حکومت ختم ہونے سے صرف تین ہفتے پہلے اپنی دستاویزات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کی تھیں ۔ پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کے دوران علی جہانگیر صدیقی کی تعینات پر شدید واویلا کیا تھا اور حکومت کے فیصلے کو بھی عدالت میں چیلنج بھی کیا گیا تھا۔جس کے بعد یوں لگتا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت سنبھالنے کے فورا بعد علی جہانگیر صدیقی سمیت تمام سیاسی تعینات سفارت کاروں کو فورا تبدیل کردے گا۔ جبکہ اقوام متحدہ میں تعینات ملیحہ لودھی نے الیکشن کے بعد بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی تھی ، جسے ذاتی ملاقات قراردیا جارہا تھا۔ جبکہ بعض ممالک میں تعینات نان کیریئر سفارت کاروں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہونے کے فورا بعد رضاکارانہ طور پر اپنے استعفی دے دیے تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں اپنی پہلی تقریر کے دوران کہا تھا کہ حکومت عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی ۔

نان کیئرئر سفارتکار

مزید : کراچی صفحہ اول