بے مراد قومیں

بے مراد قومیں
بے مراد قومیں

  

اس حسینہ کا نام Antonia Maino تھا۔اس نے اٹلی کے ایک گاؤں میں ایک معمولی ٹھیکیدار کے گھر آنکھ کھولی۔ اس کا باپ دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلر کی فوجوں کے ساتھ سویت یونین کے خلاف لڑتا رہا۔The Varsity Restaurant نامی ایک یونانی ریستورانت میں ایک معمولی سی Waitress نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کے تاریخ اسے کہاں لے جائے گی۔یہ حسینہ ایک بھارتی نژاد پائلٹ کے عشق میں گرفتار ہوگئی۔ پائلٹ اسے بیاہ کر ہندوستان لے آیا اور پھر تاریخ نے ایسے موڑ لئے کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کی سب سے طاقتور خاتون بن گئی۔ اس کا شوہر راجیو گاندھی سیاست سے بھاگتا تھا۔1980ء میں پائلٹ راجیو کے بھائی سنجے گاندھی کی ایک جہاز حادثے میں موت ہوگئی اور یوں راجیو کو سیاست میں آنا پڑا۔1984ء میں بھارت کی وزیرِ اعظم ، راجیو کی ماں اندرا گاندھی کو ہلاک کردیا گیا اور یوں راجیوبھارت کا کم عمر ترین وزیر اعظم بن گیا۔1991ء میں تامل ٹائگرز سے تعلق رکھنے والی اکا دھنو نے راجیو پر خود کش حملہ کرکے اسے بھی ختم کردیا اور یوںAntonia Maino المعروف سونیا گاندھی کو بھی لاکھ انکار کے باوجود کانگریس پارٹی کی ناکامیاں دیکھ کر 1997 ء میں عملی سیاست میں آنا پڑا۔آج سونیا گاندھی ،اور اس کے بچے راہول اور پریانکا بھارت کے بانی لیڈر جواہر لال نہرو اور اس کی پارٹی کے وارث ہیں۔یہ ساری تاریخ پاکستان کے بھٹو خاندان سے ملتی جلتی ہے۔سب سے بڑی مماثلت حب الوطنی اور خون کی ہے۔

سر شاہ نواز بھٹو کو سیاست کا وسیع تجربہ تھا۔۔اسی تجربے نے انہیں اسکندر مرزا جیسا دوست دیا جو لاڑکانہ میں ان کے گھر ایوب خان کو لایا کرتا تھا۔یوں سر شاہ نواز بھٹو کی ایوب خان سے بھی دوستی ہوگئی۔شاہ نواز کے تین بیٹے تھے۔پہلا اسکندر علی سات سال کی عمر میں نمونیا سے مرگیا اور دوسرا امداد علی 1953ء میں جگر کے عارضہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔یوں راجیو کی طرح شاہ نواز کا تیسرا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو جس نے جوانی تعلیم حاصل کرتے ملک سے باہر گزاری تھی شاہ نواز کا جانشین بن گیا۔تعلیم کے دوران راجیو کی ہی طرح ذوالفقار بھی ایک ایرانی نژاد کرد لڑکی نصرت اصفہانی کو دل دے بیٹھا تھا۔یوں سونیا گاندھی کی طرح نصرت اصفہانی عرف بیگم نصرت بھٹو بھی پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے تاریخ کی طرف سے نازل کی گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اسکندر مرزا کی کیبینٹ کی رکن کی حیثیت سے سیاست میں داخل ہوئے اور پھر پاکستانی سیاست نے شاہ نواز کے اس تیسرے سپوت کے روپ میں دنیا کا ذہین ترین لیڈر دیکھا۔

وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے آپریشن جبرالٹر کے نتیجے میں 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے خالق کا الزام بھی تاریخ بھٹو پر ہی لگاتی ہے۔یہی بھٹو معاہدہ تاشقند کے بعد ایک آمر کے سامنے ڈٹ جاتا ہے اور 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھتا ہے۔ادھر مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان اور مغربی پاکستا ن میں پاکستان پیپلز پارٹی 1970 ء کے انتخابات جیت جاتی ہے تو طاقتوں کا توازن خراب ہونے سے ملک ٹوٹ جاتا ہے۔یوں تاریخ ایوب خان، یحی خان،مجیب الرحمان کے ساتھ ساتھ بھٹو پر بھی ملک توڑنے کا الزام لگاتی ہے۔مگر آنے والے سالوں میں بھٹو بھارت سے 93000 قیدی اور 5000 مربع میل علاقہ چھڑوا کر، ایٹم بم کی بنیاد ڈال کر اور 1973 ء کا آئین دے کر حب الوطنی ثابت کردیتا ہے۔مگر پھر ملتان کے ایک کور کمانڈر ضیاالحق کو ترقی دے کر خود کو پھانسی کے پھندے تک لے جاتا ہے۔نصرت بھٹو ، بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی صورت میں ذوالفقار کی حقیقی پرچھائیں اس قوم کو دیتی ہیں،مگر اسے بھی اس کے بھائیوں مرتضٰی اور شاہنواز کی طرح 2007 ء میں ختم کردیا جاتا ہے اور آج پاکستان پیپلز پارٹی کے وارث ذوالفقار علی بھٹو کا نواسا بلاول بھٹو اور نواسیاں آصفہ اور بختاوراور ان کا داماد آصف علی زرداری ہیں۔

اس ساری گاندھی بھٹو تاریخ میں خون کے ساتھ ایک اور چیز بھی نظر آتی ہے، قربانی اور اس کے بدلے میں قوم کی بے حسی۔ذوالفقار علی بھٹو کو غدار کہا گیا جب کے اس نے آنے والے وقت میں ثابت کیا کہ وہ شدید محب وطن شخص تھا۔راجیو کو بھی سکھوں کے خلاف فسادات کروانے پر ملک دشمن کہا گیا مگر وہ بھی محب وطن تھا۔مجیب الرحمان کو بھی غدار کہا گیا مگر وہ اپنی بنگال قوم کے ساتھ بہت محبت کرتا تھا۔یوں راجیو بھی قتل ہوگیا، بھٹو کو بھی پھانسی ہوگئی اور مجیب الرحمان کو بھی اس کے خاندان سمیت مار دیا گیا۔ان تینوں کے ختم ہونے کے بعد قوم کی طرف سے نہ تو غم کا مظاہرہ کیا گیا اور نہ ہی اس بات کا احساس نسلوں کو منتقل کیا گیا کہ بنگلہ دیش، بھارت،پاکستان نے اپنے محب وطن لیڈروں کے ساتھ کیا کیا؟ پاکستانی قوم نے بھٹو کے بعد اس کی پرچھائیں بھی کھو دی مگر بے حسی ختم نہ ہوئی اور بھارتی قوم نے بھی اندرا کے بعد راجیو کو مروا دیا مگر بے حسی ختم نہ ہوئی۔بنگلہ دیشی قوم نے بھی مجیب الرحمان کو ختم کرنے والے جنرل ضیا الرحمن کی بیگم کو ملک کا وزیر اعظم بنا کر مجیب الرحمان کی بیٹی شیخ حسینہ کے سامنے لاکھڑا کیا مگر بے حسی ختم نہ ہوئی۔ الغرض آج یہ قومیں وہی کاٹ رہی ہیں جو انہوں نے اپنی بے حسی سے بویا ہے۔

آج جب تاریخ کی کتب کے اوراق پلٹتا ہوں تو روح کانپ جاتی ہے۔راولپنڈی جیل کی ایک کال کوٹھری کی دیوراوں پر نقش آہوں اور سسکیوں کی گونج مجھے اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ مردہ اور بے حس قومیں اپنے محسنوں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہیں جو جرمن قوم نے ہٹلر، روسی قوم نے سٹالن، عراقیوں نے صدام حسین ،شامیوں نے بشار الالسد،مصریوں نے حسنی مبارک اور مرسی،لبنانیوں نے کرنل قذافی،فلسطینیوں نے یاسر عرفات،ہندوستانیوں نے اندرا اور راجیو گاندھی،بنگالیوں نے مجیب الرحمان اور پاکستانیوں نے لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا۔ایک میچ جیت کر سونے میں تولنے اور ایک میچ ہارنے پر گھروں کو آگ لگانے والی قومیں نہ تو چین جیسی ترقی کر سکتی ہیں اور نہ ہی امریکہ جیسی طاقت پا سکتی ہیں۔چین نے ماؤز تنگ کو اور امریکہ نے روزویلٹ ، بش اور اوباما سمیت اپنے ہرلیڈر کو سر آنکھوں پر بٹھایا کہ جس نے ان کو جینا سکھایا مگر ہم نے کیا کیا؟؟

آج ایک اور محب وطن غداری کے داغ لئے کٹہرے میں کھڑا ہے۔اگر وہ غدار ہے توتھر میں بھوک سے مرتے بچے اْس وقت کیوں پیٹ بھر کر ٹھنڈی ریت پر پر سکون کی نیند سویا کرتے تھے۔تب ان کی ماؤں کے جسموں میں ان کے لئے دودھ بھی تھا اور تپتے صحراؤں کے ٹبوں میں ابر کا پانی بھی۔بے حس اور بے مراد قومیں ہمیشہ ہی بامراد لیڈروں کو ختم کرتی یا کرواتی آئی ہیں۔آئیں مل کر اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہیں جو ہم نے بہادر شاہ ظفر کو رنگون بھیج کر شروع کیا تھا۔ہم تب بھی بے حس تھے،ہم آج بھی بے حس ہیں۔ہم تب بھی بے مراد تھے ، ہم آج بھی بے مراد ہیں۔خود کو نہیں بدل سکے ،تبدیلی کیا خاک لائیں گے ۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ