وزیر اعظم عمران خان یہ کام کرنا جانتے ہیں کہ ۔۔۔

وزیر اعظم عمران خان یہ کام کرنا جانتے ہیں کہ ۔۔۔
وزیر اعظم عمران خان یہ کام کرنا جانتے ہیں کہ ۔۔۔

  

پاکستان کے صوبہ سندھ اور دوسرے حصوں میں قحط سالی کے پیش نظر حکومت پاکستان اور عد الت عالیہ کے چیف جسٹس نے فوری طور پر ڈیم بنانے کے لئے قوم سے پُر زور سفارش کی ہے۔ لیکن اس بات کا کریڈٹ چیف جسٹس صاحب کو جاتا ہے کہ انہوں نے اس اہم ضرورت کو محسوس کیا اور اپنی طرف سے ڈیم بنانے کے لئے نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ عوام سے چندہ جمع کرنے کے لئے اپیل بھی کی۔ اِس پر عوام میں بہت لے دے ہوئی۔ چیف جسٹس اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا یا گیا۔۔ لیکن چیف جسٹس نے تمام تر تنقید کا برُدباری سے مُقابلہ کیا۔ انہوں نے اِس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ڈیم بنانا عدلیہ کا بنیادی کام نہیں لیکن اگر حکومت اور ادارے مُلک کے فکر مند نہ ہوں تو کسی نہ کسی ادارے کو تو آگے آنا پڑے گا تاکہ وُہ مُلک کو در پیش قحط سالی کو ختم کرکے مُلک کی ز مین کو بنجر بننے سے روک سکیں۔تاہم عدلیہ کے چیف جسٹس نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد اس مسئلہ کو اہم سمجھ کر عمران خان کو مطلع کیا اور دونوں کے باہمی مشورے سے ڈیم فنڈ کے لئے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی۔

عوام سے چندہ جمع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مُلک کو ڈیم کی تعمیر کے لئے دوسرے ممالک سے قرضہ نہ لینا پڑے۔ کیونکہ پاکستان پہلے ہی خطیررقم کا مقروض ہے۔ قرض دینے والے ادارے پاکستان کو آسان شرح سوُد پر قرضہ دینے کے لئے رضامند نہیں۔ مُسلم لیگ ن کی حکومت نے ایڈ ہاک بنیادوں پر بھاری شرح سُود پر قرضے لیکر مُلک کو ایسی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے کہ قرض کے گرداب سے نکلنے کے لئے کئی سالوں تک اقتصادی پلاننگ کی اشد ضرورت ہے۔ قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے خوُ ش کُن وعدوں کی بجائے حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اُن کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ مُسلم لیگ ن کی حکومت نے اور پیپلز پارٹی نے اپنے اپنے ادوارِ حکومت میں کیا کیا گُل کھلائے ہیں؟۔ چرب زبانی اور جھوٹ سے سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ تو دیا جاسکتا ہے لیکن جھوٹے وعدے مُلک کو اقتصادی طور پر مستحکم نہیں کر سکتے۔ عام آدمی کو بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ مقروض آدمی اپنی رائے کا کھُل کر اظہار نہیں کر سکتا۔ بڑے ممالک ترقی پذیر ممالک کو اپنے اثر ور سوخ سے قرض دلوا کر اپنے مرضی کے طابع کر لیتے ہیں۔ موجودہ صورتِ حال بھی بیان کی ہوئی صورتِ حال سے مُختلف نہیں۔ آئی ایف جیسے اداروں سے قرض لینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم امریکہ کی خوشنُودی حاصل کریں۔ امریکہ پاکستان کو قرض دلوانے کے بدلے ایسے مُطالبات منوانا چاہتا ہے جو کہ سیاسی طور پر ہمارے مُلک کی آزادی کے لئے مُہلک ثابت ہونگے۔

عمران خان امریکہ اور اُس کے عزائم سے بخوبی واقف ہے۔ وُہ امریکہ کی سفارش پر قرضہ حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ وُہ پہلے بھی عوام سے چندہ جمع کرکے اپنی والدہ کے نام پر کینسر ہسپتال بنا چُکے ہیں۔ وُہ عوام کے جذبات سے واقف ہیں۔ اُن کو علم ہے کہ عوام کو اگر حقائق سے آگاہ کیا جائے تو عوام ہر صورت میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔ لیکن شرط یہ ہے چندے کی رقم کا حساب کتاب شفاف انداز میں رکھا جائے۔ قوم عمران خان اور چیف جسٹس کی بہت عزت کرتی ہے۔ وُہ اُن کی اپیل پر اپنے وسائل سے بڑھ کر مدد کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن اگر کس بھی مقام پر عوام کویہ اندازہ ہوُا کہ اُن سے دھوکہ ہوا ہے تو عوام حکومت کو گرانے اور حکام کو تہس نہس کرنے میں دیر بھی نہیں لگائیں گے۔ لیکن ہمیں اُمید ہے کہ عمران خان کی حکومت ایسا نہیں کرے گی۔ کیونکہ موجودہ حکومت کی عوام میں مقبولیت کا راز یہی ہے کی عوام عمران خاں کو ایماندار لیڈر کے طور تسلیم کرتے ہیں۔ اُنکو اُمید ہے کہ عمران خان مال و دولت کی خاطر اپنی عزت کو مٹی میں نہیں ملائے گا۔ لیکن خوش آئیند بات یہ ہے کہ عدلیہ بھی اِس فنڈ کی حفاظت کے لئے پُوری طرح کم بستہ ہے۔

عمران خان کی کراچی آمد پر لوگوں نے اپنی بساط سے کہیں زیادہ پیسہ ڈیم فنڈ میں دیا ہے۔ عمران خان کی ایمانداری آج کے ز مانہ میں ایک ایسا وصف ہے جو دُنیا میں خال خال ہی ملتا ہے۔ علاوہ ازیں، اُن کی شخصیت کا نمایا ں پہلو یہ بھی ہے کہ وُہ مُشکل حالات میں ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اُنکی کوشش ہے کہ پاکستانی قوم کودوسر ی قوموں کی طرح با وقار انداز میں جینے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ لوگوں کو اپنے مُلک میں آزادی حاصل ہو اور عوام اپنی مرضی سے اپنے مُفادات میں فیصلے کر سکیں۔ یہ تب تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک ہم دوسرے مُلکوں کے قرض سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ نئی حکومت کے وزیر خزانہ عُمر اسد نے بغیر لگی لپٹی رکھے اسمبلی میں حقیقت بیان کر دی ہے۔ انہوں نے مُسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں لئے جانے والے قرضوں کی تفصیل ایوان میں پیش کر دی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو مُلک کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے وقتی طور پر ٹیکس لگانے پڑیں گے۔ یہ بد قسمتی ہے کہ نئی حکومت کو ایسا کرنا پڑے گا۔ لیکن عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ اُن پر اضافی بوجھ محدود مدت کے لئے ڈالا جائے گا، عمران خان صاحب کی شدید خواہش ہے کی غریب اور محدود آمدنی والے حضرات پر کم سیکم ٹیکس لگایا جائے۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ پہلی حکومتوں نے مہنگی شرح سُود پر جو قر ضے لے رکھے ہیں۔ ان کی ماہانہ قسطیں ادار کرنے کے لئے حکومت کے پاس پیسے نہیں۔ دوسرے مُلکوں سے قرضہ لینے کے لئے ہمیں یہ بتانا ہوگا کہ ہم اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹیکس کی وصولی کے لئے سنجیدہ ہیں۔لوٹی ہوئے دولت کو واپس لانے کے لئے مُقدر بھر کوشش کر رہے ہیں۔ بر طانیہ کے ہوم سیکریٹری کا دورہ اِس لحاظ سے کامیاب سجھا جائے گا کہ پاکستان اور برطانیہ نے کرپشن کا پیسہ ایک دوسرے کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب پاکستان کے لئے یہ ممکن ہو سکے گا کہ وُہ برطانیہ میں ناجائز طور پر دھن لے جانے والے حضرات کے خلاف قانونی کاروائی کرکے نہ صرف رقم واپس پاکستان لا سکتا بلکہ وُہ اُن افراد سے ٹیکس بھی وصول کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، کارروائی کو مختصر اور ہنگامی بنیادوں پر تیز کرنے کے لئے دونوں ممالک میں ایک ایک رابطہ افسر مقرر کیا جائے گا۔ جس کے پاس تمام کیسوں کاریکارڈ موجود ہوگا اور یہ رابط افسر اپنے طور پر اپنے اپنے مُلک کے اداروں سے جواب طلب کرکے دوسرے مُلک کو بہم پہنچائے گا۔ قانونی اور فنی اعتبار پر یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔مجرموں پر ہاتھ ڈالنے کے لئے قانونی معاہدے کی ضرورت تھی۔ لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت کو دھن واپس لانے میں آسانی ہوگی۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ