عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 72

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 72
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 72

  

مارسی کی یاد آتے ہی قاسم کے دل پر گھونسہ پڑا۔ اور وہ مارسی کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس دوران بریٹاکھانا لینے کے لئے چلی گئی اور قاسم اپنے کمرے میں بیٹھ کر بظاہر ایک کتاب کا مطالعہ کرنے لگا۔ لیکن درحقیقت وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ بریٹا کھانا لائی تو اس نے آتے ہی پوچھا۔

’’لیکن آپ نے یہ توبتایا نہیں کہ آپ آیا صوفیاء میں کسی شناسا کے بارے میں کیوں پوچھ رہے تھے؟‘‘

قاسم نے اسکا جواب پہلے ہی سوچ رہاتھا۔ اس نے کہا ’’میں دراصل اپنی ایک قیمتی چیز اس چرچ کو بطورنذرانہ دینا چاہتا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا نذرانہ کسی ایسے ہاتھ میں پہنچے جو ایماندار اور خداوند یسوع مسیح کے دین کا سچا پیروکار ہو۔لیکن آپ تو بتا رہی ہیں کہ یہاں سارے راہب بددیانت ہیں۔‘‘

’’نہیں نہیں!۔۔۔میں نے یہ کب کہا ہے۔ میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ ان میں معزز ڈیمونان ایماندار اور صاف ستھرے انسان ہیں۔ میں نے خود اس مقدس جنگ کے لئے اپنا سب سے قیمتی لاکٹ چرچ کی نذرکردیاہے اور معزز ڈیمونان بطریق ثانی کے ہاتھ پر ہی رکھا ہے ۔۔۔حالانکہ وہ لاکٹ مجھے جان سے زیادہ عزیز تھا۔ کیونکہ وہ مجھے میری ایک پیاری سہیلی نے دیا تھا ’’بریٹا نے سہیلی کاذکر کیا تو قاسمکے ذہن میں فوراً مریم کا خیال آیا۔ کیونکہ وہی بریٹاکے ساتھ والے گھر میں رہتی تھی۔ بوسنیاکی شہزادی ’’حمیرا‘‘ توجنگ کے بعد عباس کے گھر رہنے لگی تھی۔ وہ دل ہی دل میں مسکرا دیا۔ وہ یہی سوچ رہا تھاکہ بریٹا نے سوال کیا۔

’’لیکن آپ کیا نذرانہ دینا چاہتے ہیں ۔۔۔آپ نے تو جنگ کا خطرہ ٹلنے تک وہاں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔لائیے! مجھے دیجئے، آپ کا نذرانہ میں دے آؤں گی۔ میں خود مقدس باپ ڈیمونان کے ہاتھ پر رکھوں گی۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 71پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

صورتحال نہایت دلچسپ ہو چکی تھی۔ قاسم کی منصوبہ بندی اپنی ٹھیک ٹھیک نہج پرچل پڑی تھی۔ اب قاسم نے مزید راہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ اس نے کہا۔

’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ آپ لے جائیں گی تو مجھے اور بھی زیادہ اچھا لگے گا۔ کیونکہ ظاہر ہے آپ میرے نذرانے کو کسی ایماندار شخص کے ہاتھ پر ہی رکھیں گی۔‘‘

لیکن قاسم چرچ کو نذرانہ کہاں سے دیتا؟ اس کے پاس کوئی تحفہ ہوتا بھی۔۔۔تب بھی وہ اسے چرچ کی نذر ہرگزنہ کرتا۔ وہ قسطنطنیہ کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے آیا تھا تقویت دینے کے لئے نہیں۔

اس روز قاسم نے بریٹا کے ساتھ صرف اتنی باتیں کیں۔ اور پھر اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ جلد ہی اسے اپنا قیمتی تحفہ دکھا دے گا۔ ابھی قاسم کو اپنی منصوبہ بندی کے لئے بہت کچھ کرنا تھا۔ اسے دونوں کلیساؤں کی متحدہ مجلس کو سبوتاژ کرنے کے لئے ابھی بہت سے مہرے بدلنے تھے۔ ابھی تو وہ یہاں آیا ہی تھا۔ چنانچہ اس نے بریٹا کے ذہن میں کسی حد تک اپنی منصوبہ بندی ڈال دی۔ اب وہ بریٹا کو اپنے اعتمادمیں لے کر مزید قدم اٹھانا چاہتا تھا۔ اسنے رومیل ، بریٹا اور ان کے بچے کیس اتھ بہت زیادہ گھلنا ملنا شروع کر دیا۔ بریٹا اب قاسم کوبھائی کہہ کر پکارنے لگی۔ قاسم جب بھی باہر سے آتا، بریٹا اور سولٹن کے لئے نئے نئے کپڑے اور دوسری چیزیں خرید کر لاتا۔ رومیل اب قاسم کی پہلے سے بھی زیادہ عزت کرنے لگا تھا۔ اس نے قاسم کا نام رضا کاروں میں تو لکھوا دیا تھالیکن ابھی قاسم نے اپنے فوجی فرائض نہ سنبھالے تھے۔ قاسم نے خود کہا تھا کہ وہ کچھ دن قسطنطنیہ شہر اچھی طرح دیکھ لیناچاہتا ہے۔

’’آیا صوفیاء‘‘ کا ایک چکر لگانے کے بعد قاسم پھر اس طرف نہ گیا۔ وہ ابھی اپنے آپ کو مضبوط کئے بغیر ڈیمونان سے ٹکر نہیں لینا چاہتا تھا۔ چنانچہ اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونے کے لئے اس نے مزید معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ آیا صوفیاء کے تمام اندرونی نظام کوسمجھنا چاہتا تھا۔ وہ بازنطینی افواج کے ’’سپہ سالار نوٹاراس‘‘ کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور ارادوں سے اپنے سلطان کو باخبر رکھنا چاہتا تھا۔ وہ محاصرے سے پہلے فصیل شہر، ’’سینٹ رومانس‘‘ کا دروازہ، گولڈن ہارن کی بندرگاہ، اہل قسطنطنیہ کے رسد کے انتظامات اور گولڈن ہارن پر لٹکی وہ زنجیر دیکھنا چاہتا تھا جو گولڈن ہارن کو راستہ بند کر دیتی تھی۔ وہ ایک دو مرتبہ رومیل سے گولڈن ہارن کی عجوبۂ روزگار زنجیر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کر چکا تھا۔ اور پھر ایک روز رومیل اسے ایک فوجی کشتی میں بٹھا کرگولڈن ہارن کی زنجیر دکھانے لے گیا۔ قاسم نے یہ دیو ہیکل آہنی زنجیر دیکھی اور اس کے دونوں سروں کا گہری نظر سے جائزہ لیا۔ اسے یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ دوران محاصرہ اس زنجیر کو توڑنا ممکن نہیں تھا۔ شاید ’’اربان‘‘ کی توپ کا تیس انچ موٹا گولا اس کے ٹکڑے کردیتا۔ لیکن اس مقام پر کسی توپ کو لانا یا نصب کرنا ہی سرے سے ناممکن تھا۔ کیونکہ اربان کی توپیں نقل و حمل کے حوالے سے زیادہ اچھی نہیں تھیں۔ لہٰذا انہیں دوران جنگ ادھر سے ادھر حرکت دینا آسان نہ تھا۔ قاسم زنجیر توڑنے کا خیال دل سے نکال کرگھر واپس لوٹ آیا۔ لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دو دن میں اب تک حاصل ہونے والی تمام معلومات کی تفصیل ’’سلطان محمد خان‘‘ کی جانب روانہ کر دے گا۔ لیکن اس کے لئے اسکا ’’رومیلی حصار‘‘ جانا ضروری تھا۔

چنانچہ قاسم نے سلطان کے نام پر ایک تفصیلی خط لکھا اور انتہائی برق رفتاری سے ’’رومیلی حصار‘‘ کے سفر پر روانہ ہوا۔ اب وہ ’’قسطنطنیہ‘‘ کی فوج کا ایک سپاہی تھا لہٰذا اسے کوئی فکر نہ تھی۔ وہ گولڈن ہارن کا راستہ چھوڑ کر شہرکے بڑے دروازے ’’سینٹ رومانس‘‘ سے خشکی کے راستے رومیلی حصار کی جانب چلا۔ رومیلی حصار ، قسطنطنیہ سے صرف پانچ میل دور تھا۔ چنانچہ قاسم علی الصبح روانہ ہوا اور دوپہر سے پہلے واپس آگیا۔ وہ تفصیلی خط کو ’’مصلح الدین آغا‘‘ کے سپرد کرآیا تھا۔

کچھ روز اسی طرح کی مصروفیات میں گزر گئے۔ اس دوران قاسم ، بریٹا کے ساتھ ایک بھائی کی حیثیت سے بہت زیادہ قربت پیدا کرچکا تھا۔ اب تو بریٹا اٹھتے بیٹھتے قاسم کا ہی ذکر کیا کرتی تھی۔ اورپھر ایک روز مذاق ہی مذاق میں بریٹا نے قاسم سے کہہ دیا۔

’’چھوڑو بھیا! تم تو ایسے بھائی ہو کر ابھی تک مجھے وہ تحفہ بھی نہیں دکھایا جس کا تم نے ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ تم اسے چرچ میں دینا چاہتے ہو۔‘‘

قاسم کو غالباً اسی دن کا انتظار تھا۔ اس نے فوراً کہا ’’ارے میری پیاری بہن! اس تحفے کی کیا قیمت۔ میں تو تم پراپنی جان بھی نثار کر سکتاہوں۔ لیکن ایک بات ہے میں وہ تحفہ جب بھی چرچ کی نذر کروں گا تو اپنے ہاتھ سے یہ فریضہ ادا کروں گا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم لوگ آج کل فادر ڈیمونان کوکھانے کی دعوت دیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو میں اپنا تحفہ بدست خود ان کی نذرکروں گا۔ تم جانتی ہو کہ میں ’’آیا صوفیاء‘‘ نہ جانے کا قول دے چکا ہوں۔ تم مقدس باپ کو اپنے گھر بلاؤ گی تو ہم ان سے برکت بھی لے لیں گے اور انہیں مقدس جنگ کے لئے تحائف بھی نذر کر دیں گے۔‘‘

قاسم کو یہ بات کہتے ہوئے توقع نہ تھی کہ اس طرح ہو جائے گا۔ لیکن وہ بریٹا کا جواب سن کر ششدر رہ گیا۔

’’ارے!۔۔۔یہ تو آپ نے بڑے کام کی بات کہہ دی۔ میں خود بہت عرصے سے یہ سوچ رہی تھی کہ کسی دن مقدس باپ کو اپنی دعوت پر بلاؤں۔ میں نے رومیل کے ساتھ بھی بات کی تھی۔ لیکن وہ فوجی ہے نا! ۔۔۔اسے مذہبی لوگوں کے ساتھ زیادہ دلچسپی نہیں۔۔۔لیکن مورگن! تم تو بہت زیادہ مذہی آدمی ہو۔۔۔ہے نا!‘‘

قاسم کا تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھ چکا تھا۔ وہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔ اب وہ ڈیمونان کو اپنی چالاکی کے ذریعے اس کے بل سے نکالنے میں کامیاب ہونے والا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح ڈیمونان سے مارسی کی کہانی اگلوا سکے۔ لیکن یہ بڑا سمجھداری کا کام تھا اور اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ پہلے بریٹا کوذہنی طور پر اچھی طرح تیار کرلیتا۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بریٹا کو مارسی کے بارے میں سب کچھ بتا دے گا۔ ظاہر ہے وہ بریٹا کو مارسی کے بارے میں صرف یہی کچھ بتا سکتا تھا کہ مارسی نامی ایک لڑکی کبھی اس کی محبت تھی جسے ’’ڈیمونان‘‘ کسی طرح اس سے چھین کرلے گیا تھا۔ وہ بریٹا کے سامنے ڈیمونان کا شکوہ بھی نہیں کرناچاہچتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹی موٹی کہانی بنانا شروع کردی۔(جاری ہے)

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 73 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح