’عمر سیف صاحب، آئی ایس آئی کا سربراہ بننے پر مبارک ہو‘ پاکستانی سوشل میڈیا پر آئی ٹی بورڈ کے سربراہ عمر سیف کو یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ جان کر ہر پاکستانی کو ہنسی آجائے گی

’عمر سیف صاحب، آئی ایس آئی کا سربراہ بننے پر مبارک ہو‘ پاکستانی سوشل میڈیا ...
’عمر سیف صاحب، آئی ایس آئی کا سربراہ بننے پر مبارک ہو‘ پاکستانی سوشل میڈیا پر آئی ٹی بورڈ کے سربراہ عمر سیف کو یہ کیوں کہہ رہے ہیں؟ جان کر ہر پاکستانی کو ہنسی آجائے گی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹر عمر سیف مشہور آدمی ہیں۔ وہ آئی ٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کی سربراہی بھی اُن کے پاس ہے، مگر وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کب سے بن گئے؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر تو ہر کوئی انہیں آئی آیس آئی کا سربراہ بننے پر مبارکباد دے رہا ہے، اور اس کی وجہ اُن کی اپنی ایک ٹویٹ ہے۔انہوں نے اس ٹویٹ میں ایک بھارتی فلم کا کلپ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے ”ارفع ٹیکنالوجی پارک سرحد پار بھی دھوم مچارہا ہے۔ ویسے، بالی ووڈ کو بہتر سکرپٹ رائٹرز کی ضرورت ہے۔“

اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ویڈیو کلپ میں لاہور کے ارفع کریم ٹاور کو پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ہیڈکوارٹرز دکھایا گیا ہے۔ اب اگر ارفع کریم ٹاور، جس میں آئی ٹی یونیورسٹی اور ٹیکنالوجی پارک واقع ہے، آئی ایس آئی کا ہیڈ کوارٹرز ہے تو پھر آئی ایس آئی کے سربراہ تو ڈاکٹر عمر سیف ہی ہوئے نا!

ڈاکٹر عمر سیف کی اس ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر خوب قہقہے بکھیرے ہیں، اور خصوصاً انہیں ازراہ تفنن ملنے والی مبارکبادیں سب کو محظوظ کر رہی ہیں۔

ٹویٹر صارف ذیشان اعوان کا کہنا تھا ”سر، آئی ایس آئی چیف بننے پر مبارکباد!“

وسیم جاوید نے لکھا ”آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر، ہاہا ہا۔۔ عمر سیف آئی ایس آئی کے سربراہ!“

ٹویٹر صارف شاہد اقبال نے لکھا ”ہا ہا ہا۔۔ عمر سیف آئی ایس آئی چیف!“

احمد اقبال کا کہنا تھا”عمر سیف آئی ایس آئی کے سربراہ بن گئے؟ مبارک ہو جناب!“

اگرچہ بالی وڈ فلم میں کی گئی اس احمقانہ حرکت نے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو بہت محظوظ کیا ہے مگر بھارت میں پاکستان کے متعلق گھڑی جانے والی جھوٹی کہانیوں کی یہ واحد مثال نہیں ہے۔ پاکستان پر جعلی سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے سے لے کر بھارتی سائنسدان کی جانب سے پاکستان کو ایٹمی راز فروخت کئے جانے کی جھوٹی کہانی تک، بھارتی حکومت بھی مضحکہ خیز کہانیاں تخلیق کرنے میں اپنی فلم انڈسٹری سے کسی طور پیچھے نہیں ہے۔ لگتا ہے دونوں کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پاکستان کے متعلق زیادہ مزاحیہ کہانی گھڑ سکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /پنجاب /لاہور