دبئی میں 22 سالہ غیر ملکی لڑکی کو سزا، لیکن وہ کیسے دبئی حکام کو چکمہ دے کر اپنے ملک واپس بھاگ گئی؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ بھی ممکن ہے

دبئی میں 22 سالہ غیر ملکی لڑکی کو سزا، لیکن وہ کیسے دبئی حکام کو چکمہ دے کر ...
دبئی میں 22 سالہ غیر ملکی لڑکی کو سزا، لیکن وہ کیسے دبئی حکام کو چکمہ دے کر اپنے ملک واپس بھاگ گئی؟ جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ بھی ممکن ہے

  

دبئی سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک)سنتے ہیں کہ عرب ممالک کے قوانین بہت سخت ہیں، لیکن شاید یہ قوانین غریب ممالک سے آنے والے مزدوروں کے لئے ہی بہت سخت ہیں، سب کے لئے نہیں۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی کا کیس ہی دیکھ لیجئے۔ دبئی میں اُسے تین ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن وہ جیل جانے کی بجائے سب کو چکمہ دے کر اپنے گھر جا پہنچی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق آسا ہچنسن نامی لڑکی کو سویڈن کے ایک شہری پر حملہ کرنے کے جرم میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔برطانوی شہر ایسیکس سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کو ناصرف تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی بلکہ نوفلائی لسٹ میں بھی اس کا نام شامل تھا۔ اس کے باوجود نجانے کس طرح اُس نے برطانوی پاسپورٹ حاصل کیا اور خاموشی سے ہوائی جہاز میں سوار ہوکر سیدھی گھر جا پہنچی۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ برطانوی لڑکی نے فرار ہو کر ایک اور جرم کا ارتکاب کیا، اور اس کوشش میں اگر وہ پکڑی جاتی تو ایک اور مقدمہ اس پر قائم کیا جاتا اور سزا میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا۔ اب وہ برطانیہ تو پہنچ گئی ہے لیکن دوبارہ کبھی متحدہ عرب امارات نہیں جا سکے گی کیونکہ ائیرپورٹ پر اترتے ہی اسے گرفتار کرلیا جائے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات کے کسی ہمسایہ ملک جانے پر بھی اسے ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید : عرب دنیا