’میں نے اس دن اپنے شوہر کا لیپ ٹاپ اُٹھایا تو معلوم ہوا اس کا ایک اور لڑکی سے چکر چل رہا ہے جس سے وہ شادی کے منصوبے بنارہاہے، اس کے بعد میں نے۔۔۔‘ خاتون نے شوہر سے بدلہ کیسے لیا؟ جان کر ہی ہر مرد سیدھا ہوجائے

’میں نے اس دن اپنے شوہر کا لیپ ٹاپ اُٹھایا تو معلوم ہوا اس کا ایک اور لڑکی سے ...
’میں نے اس دن اپنے شوہر کا لیپ ٹاپ اُٹھایا تو معلوم ہوا اس کا ایک اور لڑکی سے چکر چل رہا ہے جس سے وہ شادی کے منصوبے بنارہاہے، اس کے بعد میں نے۔۔۔‘ خاتون نے شوہر سے بدلہ کیسے لیا؟ جان کر ہی ہر مرد سیدھا ہوجائے

  

سڈنی(نیوز ڈیسک)شوہر کی بے وفائی کا سامنا تو بے شمار خواتین کو کرنا پڑا ہوگا مگر ان میں سے شاید ہی کسی نے بے وفا شوہر کو ایسا دردناک سبق سکھایا ہو جو ایک آسٹریلوی خاتون نے اپنے بدکردار شوہر کو سکھایا۔ بلکہ یوں کہئیے کہ اس خاتون نے تو دیگر خواتین کے سامنے بھی ایک مثال پیش کر دی کہ خفیہ معاشقے چلانے والے شوہروں سے کیسا سلوک ہونا چاہیئے۔ 

ویب سائٹ whimn.com پر یہ خاتون اپنے اور شوہر کے درمیان پیش آنے والے معاملات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’’ مارٹی (خاتون کا سابق شوہر) سے پہلی ملاقات سے لے کر اگلے کئی سال تک ہمارے درمیان تعلق بہت اچھا رہا ہے۔ شادی کے بعد بھی ہمارے تعلقات بہت خوشگوار تھے لیکن جب اسے پروموشن ملی تو صورتحال کچھ بدلنا شروع ہوگئی۔ اب اسے اکثر اپنے کام کے سلسلے میں شہر سے باہر سفر کرنا پڑتا تھا اور اکثر وہ آسٹریلیا سے باہر اور خصوصاً کینیڈا جاتا تھا۔ 

اگلے ایک سال کے دوران ہمارے درمیان فاصلہ بڑھتا گیا۔ اب تو ایسا ہونے لگا کہ وہ گھر پر بھی ہوتا تو ہمارے درمیان بہت زیادہ قربت نہیں ہوتی تھی۔ مارٹی اپنا اکثر وقت کمپیوٹر کے سامنے گزارتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ بہت مصروف ہے۔ وہ میرے ساتھ بات چیت سے بھی گریز کرتا تھا۔ ایک دن وہ سورہا تھا لیکن اتفاق سے اس کا لیپ ٹاپ اس کے قریب ہی آن پڑا ہوا تھا۔ میں اسے بند کرنے کے لئے اُٹھی لیکن سکرین پر مجھے ایک دلخراش میسج نظر آیا، جس میں لکھا تھا ’تمہاری بہت یاد آرہی ہے، جلدی گھر آجاؤ!‘ 

مجھے اپنے دل میں کوئی چیز ٹوٹتی محسوس ہوئی۔ میں تو خود کو اس کی گھر والی سمجھ رہی تھی لیکن یہ کوئی اور عورت تھی جو اسے جلدی گھر آنے کو کہہ رہی تھی۔ جب میں نے خاموشی سے اس معاملے کی تحقیق کی تو مجھے پتہ چلا کہ وہ کینیڈا میں رہنے والی خاتون چانٹل سے صرف معاشقہ نہیں چلارہا تھا بلکہ اس کے ساتھ رہ بھی رہا تھا۔

یہ میرے لئے بہت اندوہناک انکشاف تھا لیکن میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ میں انتظار کرنے لگی اور اگلے ہی ہفتے میرا شوہر ایک بار پھر 10 دن کے لئے کینیڈا جانے کے لئے تیار تھا، اور میں بھی ایکشن کے لئے تیار تھی۔ ہم جس گھر میں رہ رہے تھے وہ میرے نام تھا۔ جیسے ہی وہ کینیڈا کے لئے رخصت ہوا میں نے ایک معروف اسٹیٹ ایجنسی سے رابطہ کیا اور گھر بیچ ڈالا۔ چونکہ یہ میرے نام تھا تو مجھے اس کی فروخت میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ 

اُس کی واپسی سے پہلے ہی تمام رقم میرے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکی تھی۔ جب وہ آسٹریلیا واپس پہنچا تو میں پہلے ہی اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیرون ملک سیر کے لئے روانہ ہو چکی تھی۔ وہ گھر جہاں اُس نے ایک زندگی گزاری تھی، وہاں اجنبیوں کو دیکھ کر اُس کی کیا حالت ہوئی ہو گی، یقیناً اس کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال، میں تو اس وقت اپنی سہیلیوں کے ساتھ موج مستی کر رہی تھی۔ چند ماہ بعد طلاق کی قانونی کاروائی مکمل ہو گئی اور پھر میں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا اور اب وہ کس حال میں ہے۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس