وسیم کی آواز وسیم

وسیم کی آواز وسیم
 وسیم کی آواز وسیم

  


پاکستان کے نامور باکسر محمد وسیم نے دبئی میں اپنے کیرئیر کی ایک اور پروفیشنل فائٹ میں فلپائن کے باکسر کو چند منٹوں میں ناک آؤٹ کر دیا اور اپنے اعزاز کے دفاع میں کامیاب بھی رہے۔ وطن کے اس بیٹے نے اپنی جیت کشمیر کے نام کرتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو یہ باور کروایا کہ کشمیر کے لیے ہم علاقائی،سرحدی،ثقافتی محاظ پر ہر حال میں لڑیں گے اور کشمیر کو آزادی دلوا کر رہے گے، ملک واپسی پر اس ہیرو کے استقبال کے لیے ائیر پورٹ کے لاؤنچ میں کوئی بھی باکسنگ فیڈریشن کے اعلیٰ عہدیدار و سیاسی شخصیات موجود نہ تھی۔

قوم کے اس ہیرو نے اپنا استقبال دیکھ کر میڈیا سے چند منٹ کی رسمی گفتگو کر کے پرائیویٹ ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر کی جانب راہ ِفرار اختیار کرنے میں ہی غنیمت جانی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے عظیم کھلاڑی و سابق کپتان وسیم اکرم بنے محمد وسیم کی آواز اور انہوں نے باکسنگ فیڈریشن و عوام کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں یہ باور کروایا کہ محمد وسیم اس ملک کے سپر سٹار ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں پیش پیش ہیں۔ہمیں ایسے ہیروز کے ساتھ اس طرح کا رویہ روا رکھنے کا کوئی حق نہیں اگر ہم معاشی طور پر ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم ایسے ہیروز کی وطن واپسی پر ان کا شاندار استقبال کر کے ان کا حوصلہ بلند کر سکتے ہیں۔

گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ان سے ملاقات کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں اپنے ہیروز پر فخر ہے اور ہم ایسے نوجوانوں کی رہنمائی و مسائل کے حل کے لیے ہر وقت حاضر ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ محمد وسیم کے بھاگ کب جاگتے ہیں۔کب فیڈریشن اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کرے گی۔

دوسری جانب سری لنکا کے مجوزہ دورہ پاکستان کے پیش ِنظر پاکستان کرکٹ ٹیم کے 20ممکنہ کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ کا آغاز ہو چکا ہے اور کھلاڑی کیمپ میں اپنی بھر پور شرکت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ سری لنکا نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران جس ٹیم کا اعلان کیا ہے وہ تقریباً بی ٹیم ہے کیونکہ بوجہ سکیورٹی سری لنکا کے سینئر کھلاڑیوں نے دورے میں شرکت سے معذرت کرلی ہے جس کے بعد ان کھلاڑیوں کو موقع دیاجا رہا ہے جو اس سے قبل صرف بی ٹیم کے لیے دستیاب تھے۔

تو اگر یوں کہا جائے تو غلط نا ہو گا کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنے کے لیے ٹیم بھی بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے اور آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی شرکت کو بھی یقینی بنا لیا ہے اسے کہتے ہیں ”ایک تیر سے دو شکار کرنا“ اس سیریز کو باؤلنگ کوچ وقار یونس اور کھلاڑیوں کی بجائے کوچ مصباح الحق کا امتحان قرار دیا جائے تو اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ بطور کوچ یہ ان کی پہلی سیریز ہو گی جس میں انہیں بطور کوچ اپنی صلاحیتیں جانچنے کا موقع ملے گا۔

اس کے ساتھ پاکستان کے نئے ڈومیسٹک نظام کے تحت ہونے والے میچز میں 6ریجنز کے مابین کھیلے جانیوالے تما م میچز مردہ اور بے جان پچز کے باعث بے نتیجہ اختتام پذیر ہو ئے۔ان تمام ٹیموں میں شامل کھلاڑیوں کو سالانہ بیس لاکھ روپے بورڈ کی جانب سے ادا کیئے جائیں گے جبکہ پاکستان کے لیے ٹائٹل جیتنے والے محمد وسیم باکسنگ فیڈریشن کے ناقص رویہ کے باعث نالاں ہیں۔اگر پی سی بی باقی ماندہ کھلاریوں کی طرح محمد وسیم کو سپورٹ کرنے کا بیڑہ اٹھا لے تو ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں قوم کے لیے بے شمار اعزازات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں یہ تب ممکن ہے جب پی سی بی اس بارے میں کوئی عملی اقدام اٹھائے گا ۔

اور اس کا آغاز وسیم اکرم نے کر دیا ہے اب باقی ماندہ کھلاڑیوں کو چاہیے کہ محمد وسیم کی آواز بنیں اور ان کے کیرئیر کا شاندار بنانے کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ہمیں ورلڈ باکسنگ چیمپئن ہی مل جائے اور ملک و قوم کا نام اس کھیل میں بھی بلند ہو جائے۔

اگلے سال آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے پیشِ نظر آسٹریلوی سکیورٹی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا جنہیں ملک کے مختلف سینٹرز کا دورہ کروایا گیا۔ ایک بات جو بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ابھی سے ایسی اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے کہ آسٹریلیا کے ساتھ باقی ٹیمیں بھی پاکستان کا رخ کرنے میں فخر محسوس کریں۔

کیونکہ ہمارے ملک میں امن و امان کی صورتحال سری لنکا،بنگلہ دیش،بھارت کی نسبت بہت بہتر ہوچکی ہے بس ہمیں ٹیموں کی مکمل سکیورٹی کی یقین دہانی کروانے کی ضرورت ہے کیونکہ بھارت جیسا ملک جہاں سب سے زیادہ انسان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے وہاں بھی آئی پی ایل کے میچز اور دیگر ممالک کی ٹیمیں آکر ان کے سٹیڈیم کو آبا کرتی ہیں لیکن ہمارے بورڈ نے ابھی تک اس پالیسی پر عمل نہیں کیا جس کے باعث ہمیں اس محاظ پر شکست کا سامنا رہتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...