سیاست کا مستقبل اور ”آزادی مارچ“

سیاست کا مستقبل اور ”آزادی مارچ“
سیاست کا مستقبل اور ”آزادی مارچ“

  


وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے وائس چیئرمین بھی ہیں، گزشتہ ایک برس کے دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا سیاسی ونگ بھی انہوں نے سنبھالا ہوا ہے،خصوصاً اپوزیشن سے کوئی بات کرنا ہو تو وہی آگے آتے ہیں، جبکہ ایوان میں بھی اعتراضات کا مسکت جواب دینے کی کوشش کرتے بظاہر جو وجہ نظر آتی ہے وہ یہی ہے کہ خود وزیراعظم عمران خان ”کرپشن زدہ“ حضرات اور ان کی جماعتوں سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی یہ کہا جانے لگا کہ مولانا فضل الرحمن اور حزب اختلاف کی دوسری جماعتیں اور قائدین تنازعہ کشمیر کے حوالے سے لاتعلق ہیں، حالانکہ پوری قوم مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حوالے سے ایک ہے۔

اب مولانا فضل الرحمن ”آزادی مارچ“ پر تلے ہوئے ہیں تو مخدوم صاحب نے ان پر الزام لگا دیا اور سوال پوچھا کہ کشمیریوں پر مظالم کے حوالے سے وہ احتجاج کیوں نہیں کرتے اور ابھی تک بیان کیوں نہیں دیا، جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو وضاحت احسن اقبال نے کی اور شکوہ بھی کر دیا کہ وزیراعظم جو قائد ایوان ہیں، اپوزیشن کو ساتھ لے کر نہیں چلنا چاہتے اگر ایسا ہوتا تو وہ مظفر آباد والے جلسہ کے لئے قائد حزب اختلاف، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی دعوت دیتے،تاکہ دنیا میں مکمل یکجہتی کا پیغام جاتا، ان کے ساتھ ہی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما اکرم درانی خان نے اپنے مرکزی امیر کی صفائی میں کہا کہ مولانا نے اپنے دور کشمیر کمیٹی میں حتی الامکان تنازعہ کشمیر پر کوشش کی حتیٰ کہ اسلامی کانفرنس کو بھی آمادہ حمایت کیا۔ ان پر اعتراض کرنے والے وزیر خارجہ بتائیں کہ خود انہوں نے 5اگست کے ظالمانہ اقدام کے بعد کتنے ممالک کا دورہ کیا اور وزیراعظم کون کون سے ملک میں گئے، وزیرخارجہ کو تو پوری دنیا میں جانا اور وزیراعظم کے لئے لازم تھا کہ وہ سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اور دوست ممالک کے دورے کرتے اور سربراہان کی حمایت کے لئے دلائل سے بات کرتے۔

یہ مناظرہ کی سی کیفیت ہے اور اس میں کسی کی چونچ اور کسی کی دم جانے کا خدشہ یا خطرہ بھی موجود ہے تاہم ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ تاحال حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کسی جمہوری مفاہمت کی گنجائش پیدا نہیں ہوئی۔ ہماری اطلاع کے مطابق شاہ محمود قریشی اب مولانا کو روک نہیں سکیں گے۔ ممکن ہے کہ دونوں کے درمیان ملاقات ہو جائے اور اسی موقع پر مثبت اور منفی ریمارکس بھی سامنے آجائیں کہ مولانا اب کافی دور جا چکے ہیں اور ان کو روکنے کے لئے ”کچھ کرنا“ پڑے گا۔

جہاں تک حکومت مخالف تحریک کے لئے آزادی مارچ کا تعلق ہے تو رکاوٹیں پیدا ہونا اور ان کو دور کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بلاول بھٹو نے واضح طور پر دھرنے سے الگ رہنے کا اعلان کر دیا، تاہم تحریک کی حمایت کی۔ اسی طرح مسلم لیگ(ن) میں محمد شہبازشریف کی مصالحانہ روش کا بار بار ذکر ہوا، حتیٰ کہ اب باخبر ذرائع نے یہ تک بتا دیا کہ جب سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے ملنے والے رہنماؤں کو مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت اور شرکت کی اجازت دی تو قائد حزب اختلاف نے ان سے کہا ”سوچ لیں، پھر واپسی ممکن نہیں ہو گی“ بہرحال یہ باخبر ذرائع ماضی سے بے خبر رہے کہ ان دونوں بھائیوں کے درمیان ایک صفحہ والا معاملہ دوسروں سے کہیں زیادہ ہے کہ چھوٹے بھائی خاندانی روایت کے حوالے سے بڑے بھائی کا احترام کرتے ہیں اور خلاف مزاج بھی بات مان لیتے ہیں، ورنہ اس ملک میں محمد نوازشریف کو دوسری باری نہ ملتی اورمحمد شہباز شریف وزیراعظم ہوتے کہ ان کو امریکہ اور چین کے ساتھ ترکی اور سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل تھی، لیکن انہوں نے بڑے بھائی سے بے وفائی قبول نہ کی،آج بھی وہ اتنا ہی احترام کرتے ہیں کہ مصالحت کا نظریہ رکھتے ہوئے بھی وہ سابق وزیراعظم کی بات ماننے ہی کو سعادت مندی جانتے ہیں اور یقینا جب 30ستمبر کو مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہو گا تو فیصلہ محمد نوازشریف کی ہدایت کے مطابق ہو گا۔

ہم نے اپنے گزشتہ کالموں میں وقتاً فوقتاً ذکر کیا کہ کسی نہ کسی ”مرکز“ پر کوئی بات ہو رہی ہے اور رابطے ہیں، آصف علی زرداری بھی مصالحت پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے گزشتہ دنوں صاحبزادے کو روکا اور وہ محرم الحرام کے پہلے عشرے کے احترام میں گم سے ہو گئے، پھر ”دوستوں“ کے تعاون کا بھی ذکر ہوا اور بظاہر یہ احساس پیدا ہوا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ منصوبہ سازوں میں بھی شاید اب نہیں تو پھر نہیں والا رجحان بھی کہیں موجود ہے اور حکمران طبقے کو تو یہ منظور ہی نہیں، اسی طرح جو حلیف ہیں وہ کب چاہیں گے کہ ان کا حصہ اقتدار اور ”دباؤ“ ختم ہو جائے کہ بار بار طعنہ بھی دیتے ہیں۔ ہم نے ہی تو آپ کو اقتدار دلایا اور اگر ہم نہ ہوں گے تو ”اذان“ نہیں ہو گی، تاہم ابھی تک وہ اپنا مرغا بغل میں دبا کر کہیں نہیں گئے۔

بظاہر حالات بہتری کی طرف مائل نظر آئے اور میڈیا کے ”باخبر دوست“ پکارپکار کر ڈیل کی بات کرنے لگے اور یوں خان صاحب اور ڈاکٹر صاحبہ نے بلند آہنگ میں نو ڈیل کا نعرہ بھی لگوایا، اس کے باوجود زیر زمین مسئلہ موجود رہا تو مزید رخنہ سامنے آ گیا، محترم وزیر قانون نے ایک طرف تو سندھ میں مداخلت کا ذکر کیا اور آرٹیکل 140-149 کی بات کی، یار لوگوں نے پڑھے اور تشریح جانے بغیر واویلا شروع کر دیا حالانکہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور سعید غنی بہت واضح تھے تاہم بلاول بھٹو کا خون جوش مار گیا وہ نوجوان ہیں اور ترقی پسند سیاست کے قائل بھی ہیں، انہوں نے ایسی تقریر کی اور بعد میں بھی بات کرتے رہے کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں کو وضاحتیں دینا پڑیں،ان کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا، یوں بظاہر درون خانہ ”مصالحانہ کارروائی“ کو زک پہنچی اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ بلاول کو "Cut To Size" کے لئے ان کی گڑھی خدا بخش کی تقریر کو چند منٹ کے بعد ہی لائیو سے بالکل ہی غائب کرا دیا گیا۔ یوں احساس ہوا کہ پھر سے شکوہ اور شکائت کا دفتر کھلے گا۔

اب معاملہ رہا مولانا فضل الرحمن کے ”آزادی مارچ“ کا تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو اس میں شامل ہونے کے لئے مجبور بھی کیا جا رہا ہے۔آج جمعیت علماء (ف) (18ستمبر) اور پیپلز پارٹی کا الگ الگ اور 30ستمبر کو مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک کچھ نہ کچھ سامنے آ چکا ہو گا۔

بات ختم کرنے سے پہلے مرحوم نوابزادہ نصراللہ کی ایک راز کی بات بتا دیں۔ انہوں نے بتایا: ”ہم فیصلے کرنے کے لئے الگ الگ ملاقاتیں کرتے اور اتفاق رائے پیدا کر لیتے ہیں۔ میڈیا اختلاف کی خبریں پھیلاتا ہے۔ ہمارا فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے، اعلان کو اچانک سمجھا جاتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...