”مرے مہرباں، مرے چارہ گر“

”مرے مہرباں، مرے چارہ گر“
”مرے مہرباں، مرے چارہ گر“

  


حسن عباس رضا غزل کے نہایت عمدہ شاعر ہیں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ مقبولیت میں بھی اپنے ہم عصروں سے بہت آگے ہیں۔ منی بیگم نے ان کی غزل ”آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے“ گائی تو ان کی شاعری اور شہرت کو گویا پر ہی لگ گئے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”خواب عذاب ہوئے“ 1992ء میں چھپا دیگر چار شعری مجموعے ”نیند مسافر“ (1995ء) تاوان (2005ء) دریا تمام شد (2011ء) عشق بدوش (2015ء) چھپے جو ان کی شاعرانہ حیثیت اور مقام و مرتبہ کا تعین کرتے ہیں میں اسلام آباد جاؤں تو وہاں حسن عباس رضا سے ہمیشہ ملاقات ہوتی ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ باربار ہوتی ہے۔ حسن عباس رضا مجھے اس لیے اچھا لگتا ہے کہ میری طرح یہ بھی ایک سیماب صفت آدمی ہے۔ چھلاوے کی طرح ادھر سے ادھر بھاگتا پھرتا ہے۔ ان تھک ہے۔ ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس میں مزید توانائی بھر گئی ہے۔

چند روز پہلے یہ خبر مجھ تک زبانی طیور کی پہنچی کہ حسن عباس رضا کی ایک نئی کتاب ”مرے مہرباں، مرے چارہ گر”آئی ہے جس میں عہد جدید کے کچھ نام وران ادب کے بارے میں اس کی یادیں درج ہیں تو میرے دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ یہ کتاب پڑھی جائے اور دیکھا جائے کہ غزل کا ایک شاعر نثر کیسی لکھتا ہے؟ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ میں کتاب منگوانے کے لیے کسی شاعر یا ادیب سے فون پر رابطہ کروں اور اسے اپنی کتاب بھیجنے کوکہوں۔سبب اس کا یہ ہے کہ میرے دوست احباب پہلے ہی مجھ پر اتنے ”مہربان“ ہیں کہ اپنی کتابیں اور رسالے کبھی بذریعہ ڈاک بھیج دیتے ہیں،کبھی خود لے کر آ جاتے ہیں اور کبھی کسی کے ہاتھ ارسال کر دیتے ہیں،لیکن حسن عباس رضا کا معاملہ کچھ الگ ہے۔مجھے یقین تھا کہ جس طرح وہ غزل نہایت عمدگی سے کہتے ہیں،نثر بھی اسی طرح لکھتے ہوں گے۔سو مَیں نے انھیں فون پر درخواست کی کہ اپنی نئی کتاب مجھے بھیج دیں۔

.دوسرے تیسرے دن یہ کتاب میرے ہاتھ میں تھی۔ایک دور تھا کہ لوگ،خط کا مضمون، لفافہ دیکھ کر بھانپ لیا کرتے تھے،لیکن حسن عباس رضا نے بات لفافے سے کہیں آگے پہنچا دی ہے۔اس کی کتاب کا سرورق دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس میں فیض احمد فیض، احمد فراز،ملکہ ترنم نور جہاں، احمد ندیم قاسمی، گلزار، امرتا پریتم، کشور ناہید، پروین شاکر اور احمد داؤد سے ہونے والی ملاقاتوں اور باتوں کی یادیں شامل ہیں۔ حسن عباس رضا نے واقعاتی مثالیں دے کر ثابت کیا ہے کہ کون اس کا مہربان تھا اورکون چارہ گر؟ مہربانوں اور چارہ گروں کا ذکر آئے تو ستم گروں کا بھی خیال آ ہی جاتا ہے۔سو حسن عباس رضا نے اپنے مہربانوں اور چارہ گروں کے پردے میں اپنے بعض ستم گروں کا ذکر بھی کر دیا ہے تاکہ سند رہے۔

حسن عباس رضا نے فیض صاحب سے وابستہ اپنی یادیں احترام کے ساتھ بیان کی ہیں۔میڈم نورجہاں کا تذکرہ مزے لے لے کر کیا ہے،احمد فراز اور پروین شاکر کی یادیں نہایت دیدہ دلیری سے بیان کی ہیں …… یہ کتاب اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ہمارے عہد کے کئی بڑے آدمیوں کی بڑی بڑی اور چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کی گئی ہیں۔میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی شخص کو اچھی طرح پہچاننا اور جاننا چاہتے ہیں تو اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور کریں۔حسن عباس رضا نے فیض صاحب، نور جہاں، احمد فراز، احمد ندیم قاسمی، امرتا پریتم، گلزار، کشور ناہید، احمد داؤد اور پروین شاکر کی شخصیت کے ان پہلوؤں کو بھی محدب عدسے کے ذریعے دیکھنے کی کوشش کی ہے،جنھیں کوئی دوسرا لکھنے والا معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کر سکتا تھا۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو خودبخود پڑھواتی ہے۔آپ پڑھنے کا آغازکریں گے تو آخری صفحہ پڑھ کر ہی کتاب رکھیں گے۔حسن نے دلچسپی کا عنصر کہیں ختم نہیں ہونے دیا۔

جس شخص کی میڈم نور جہاں اور احمد فراز سے بے تکلفی ہو، وہ بھلا کیا کچھ نہیں لکھ سکتا لیکن حسن نے پھر بھی احتیاط برتی ہے۔اس نے لکھا ہے: ”میڈم نور جہاں اور جناب احمد فراز سے میری دوستی بہت زیادہ بے تکلفانہ تھی۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہر قسم کے لطائف،واقعات اور جملے شیئر کرتے تھے۔مَیں نے کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں اُن کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں ہومیو پیتھک قسم کے لطائف آپ کے ساتھ بھی شیئرکر دوں“۔

حسن عباس رضا نے فیض صاحب کی اُن محفلوں کا ذکر بھی کیا ہے، جو اسلام آباد میں بیگم سرفراز اقبال کے ”غریب خانے“ میں برپا ہُوا کرتی تھیں۔ان محفلوں میں رونما ہونے والے گرما گرم واقعات،لاہور تک پہنچتے تھے لیکن تب تک یہ ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔حسن نے کچھ گرما گرم واقعات بیان کرکے سچی اور کھری گواہی دینے کی کام یاب کوشش کی ہے۔فیض صاحب ہی نے حسن کو اپنا پہلا شعری مجموعہ مرتب کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کا فلیپ بھی لکھا تھا۔یہاں یہ بات بیان کرنا شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ حسن کا یوم پیدائش وہی ہے جو فیض صاحب کا یوم وفات ہے۔ یہ بات خود حسن کے لیے اہم ہے کہ اس کی کتاب کا ”فلیپ“ فیض صاحب کی آخری نثری تحریر ہے۔

میڈم نور جہاں سے متعلق حسن عباس رضا کی یادیں خاص دلچسپ ہیں جو ہم شاعروں ادیبوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے لیے بھی اپنے اندر خاصی کشش رکھتی ہیں۔اسلام آباد کے اشاعتی ادارے دوست پبلی کیشنز کی یہ کتاب آپ تک،خدا جانے کب پہنچے؟ اس لیے میڈم نور جہاں کے بارے میں حسن عباس رضا کی کچھ یادیں انھی کی زبان ملاحظہ کیجیے: ”کوئی بیس برس ادھر کی بات ہے کہ احمد فراز، ثروت محی الدین، نیلو فر اقبال اور میں پہلی بار میڈم نور جہاں سے ملنے ان کے گھر گئے۔ فراز صاحب سے میڈم کی پہلے ہی سے یاد اللہ تھی، لیکن ہم تینوں کا یہ پہلا پھیرا تھا۔ ہم شام سات بجے وہاں پہنچے۔ میڈم جس محبت اور پیار سے ہمیں ملیں، اس کا لمس آج بھی دل پر نقش اور یادیں زندہ و تابندہ ہیں۔ چائے کا دور بہت دیر تک چلتا رہا۔ جس کے دوران شاعری بھی ہوتی رہی۔ فراز صاحب، ثروت اور میں نے اشعار سنائے اور اس شام انکشاف ہوا کہ میڈم بھی شعر کہتی ہیں۔ بہ صد اصرار انہوں نے کچھ اشعار سنائے۔ خیر، شاعری کے بعد ہلکے پھلکے واقعات اور لطیفوں کا دور شروع ہوا، ابتداء میں بہت ہو میو پیتھک قسم کے لطیفے چلے اور پھر حسب معمول فراز صاحب نے ”چوتھے رنگ“ کا ایک لطیفہ اُچھالا، بس پھر کیا تھا، چراغ سے چراغ جلتا گیا۔ اس دوران ماضی کی ممتاز فن کارہ نیلو بیگم بھی آ گئیں۔ اتفاق سے میرے پاس بھی لطائف کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ تھا، کبھی فراز صاحب، کبھی میں اور کبھی میڈم لطیفے سناتے رہے اور محفل ست رنگی ہوتی گئی، سوائے نیلوفر اقبال کے، سب کے قہقہے بکھرتے گئے، نیلوفر اقبال نے محض شرمانے پر اکتفا کیا تھا۔

اس دوران میڈم نے چوتھے رنگ کے کئی ایسے لطیفے بھی سنائے جو ہم نے پہلے سن رکھے تھے مگر میڈم کے انداز بیان اور پرفارمنس نے ان لطیفوں کا نا قابل بیان لطف دیا۔ اس دوران میں نے ایک ایسا لطیفہ سنایا جس کا ٹیپ کا جملہ تھا، نی الماس، تَھلّے آ، اج اک فرشتہ آیا ای ”لطیفہ“ سن کر میڈم اور نیلو بیگم ہنستے ہنستے دُہری ہو گئیں۔ (حالانکہ نیلو بیگم کا دُہرا ہونا خاصا مشکل تھا) خیر اس کے بعد میڈم نے میرا نام ہی بدل دیا اور کہنے لگیں، فرشتے!ہور کچھ سنا! وہ دن اور پھر ان کی وفات سے چھ ماہ قبل تک، جب بھی میڈم سے ملاقات یا فون پر بات ہوتی وہ مجھے فرشتہ ہی کہہ کر بلاتی تھیں۔“

حسن عباس رضا کی یہ کتاب اگر آپ نے نہیں پڑھی تو کچھ نہیں پڑھا۔

مزید : رائے /کالم


loading...