پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے!

پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے!
پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے!

  


میری لکھاری برادری کے لوگ جب ہر صبح بیدار ہوتے ہیں تو ناشتہ کرتے ہوئے بھی ان کی سوچ کا فوکس اس بات پر ہوتاہے کہ آج کس خبر پر کالم لکھا جائے۔ خبریں تو بہت سی ہوتی ہیں اور ان کی نسلیں بھی چند در چند ہوتی ہیں مثلاً ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی وغیرہ…… لیکن میرے ہم قبیلہ لوگ اسی خبر کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کے نقطہ ء نظر سے مطابقت رکھتی ہو۔ نقطہ ء ہائے نظر کا یہ اختلاف ایک فطری امر ہے اور اس بات سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ اسی کثرت (Diversity) میں وحدت (Unity) کا راز پنہاں ہے۔

جہاں تک میرے موضوعات (بین الاقوامی تعلقات و معاملات اور دفاع وغیرہ) کا تعلق ہے تو یہ موضوعات ”دیسی“ (اردو) میڈیا میں کم کم رپورٹ ہوتے ہیں، اس لئے ”ولائتی“ (انگریزی) میڈیا کا دامن پکڑنا پڑتا ہے۔ لیکن اس ولائتی گلوبل میڈیا کی بھی اپنی ترجیحات ہیں۔ وہ لوگ یا تو اپنے ملک / خطے پر قلم فرسائی کرتے ہیں یا ان گلوبل موضوعات کو زیرِ بحث لاتے ہیں جن میں ان کی قوم اور ان کے ملک کا فائدہ ہو۔ ان کے عوام کی طلب بھی چونکہ یہی ہوتی ہے اس لئے رسد بھی اسی تناسب سے فراہم کی جاتی ہے…… یعنی یہ ڈیمانڈ اور سپلائی کا معاملہ ہے۔ان لوگوں کے سوچنے کا انداز زمینی سے اٹھ کر آفاقی تک جاتے جاتے ایک ہو جاتا ہے۔ ان کا یہی افلاکی انداز، ان کو ساری دنیا کی حکمرانی کی طرف لے گیا تھا۔ اقبال یاد آ رہا ہے:

دلوں میں ولولے، آفاق گیری کے نہیں اٹھتے

نہ ہوں پیدا نظر میں جب تلک انداز، افلاکی

میں ہر شام جب اپنے الیکٹرانک میڈیا کو کھولتا ہوں تو مقامی اور ملکی خبروں کا ایک گھمسان کا رن پڑا ہوتا ہے۔ بچوں کو اغوا کرکے قتل کر دینا، کراچی کے بعد اسلام آباد میں کچرے کے انباروں کا مسلسل سیاپا کرنا، کسی ٹریفک حادثے کی غم ناک تفصیل کا ذکر کرنا، کسی جگہ بارشیں زیادہ ہو جائیں تو ان پر موسلا دھار گفتگو کرنا اور کسی گاؤں میں اگر سر پھٹول ہو جائے تو اس کی فوٹیج ٹی وی پر دے کر اس مقدمے کو ہائی لائٹ کرنے والے صحافی کی جیب بھاری کرنے کا سامان کرنا وغیرہ وغیرہ …… یہ سب ٹیکٹیکل اہمیت کے موضوعات ہیں جو لوکل کھپت کے لئے تو موزوں کہے جا سکتے ہیں لیکن اس سے آگے اگر نیم سٹرٹیجک یا سٹرٹیجک موضوعات کا ذکر مقصود ہو تو ٹاک شوز کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں دو درجن سے زیادہ نیوز چینل ہیں تو سارے کے سارے پرائم ٹائم (سات بجے شام سے بارہ بجے شب تک)الاّ ماشا اللہ ایک ہی موضوع پر ”باجماعت“ تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ تذکار بالعموم آبادی کے سارے طبقاتِ فکر (میرا اشارہ سیاسی طبقاتِ فکر کی طرف ہے) کی نمائندگی کے دعویدار ہوتے ہیں۔

اس لئے اگر ایک شریکِ بحث مبصر، کسی خبر کی تحسین و تعریف کرتا ہے تو دوسرا فی الفور اس کی تضحیک و تردید پر کمربستہ ہو جاتا ہے…… تنقید کرنے والا کوئی کوئی ہوتا ہے…… ان شرکائے پرائم ٹائم شوز کی اکثریت خود بخود پردۂ سکرین پر نہیں آتی، لائی جاتی ہے۔ سیاسی اکابرین یا اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو تو چھوڑیں کہ ان کی ’روٹی روزی‘ کا پنج سالہ منصوبہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی لائن ٹو (Tow) کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن ان مباحثوں میں کئی بظاہر غیر جانبدار مبصر بھی غیرجانبداری کی حدود سے باہر نکل نکل جاتے ہیں۔

ریٹائرڈ ملٹری آفیسرز کو دیکھتا ہوں تو وہ بھی اسی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں …… فوج کی وردی کا رنگ پہلے خاکی ہوتا تھا بلکہ فوجیوں کو ’خاکی‘ کہہ کر بھی پکارا اور لکھا جاتا تھا لیکن جب سے ملٹری یونیفارم کا رنگ تبدیل ہوا ہے اور وہ رنگ برنگی ہوئی ہے تب سے فوجیوں کی سوچ بھی ”ہمہ رنگ“ ہو گئی ہے۔اب یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ان کے وابستہ مفادات نہیں ہوں گے…… ضرور ہوں گے…… کیونکہ روٹی تو کما کھائے کسی طور مچھندر…… اگر نپولین بونا پارٹ نے یہ کہا تھا کہ ”فوج خواہ کتنی بھی بڑی ہو، وہ اپنے پیٹ پر چلتی ہے“ تو آج نپولین دور کی جنگوں کی تین صدیوں بعد بھی اس کا یہ مقولہ اس لحاظ سے حرف بحرف درست ہے کہ آج کی ”ریٹائرڈ فوج“ بھی پیٹ کے بل چلنے پر مجبور ہے(لیفٹیننٹ کرنل (ر) جیلانی شامل!)

چلیں اب تمہید کافی لمبی ہو چکی…… آمدم برسرِ مطلب!…… آج پرنٹ میڈیا کی فائل دیکھتا ہوں تو سب سے بڑی ’ملکی خبر‘ جو ہمارے سب سے بڑے انگریزی اخبار نے لگائی ہے وہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے تحریک انصاف کے قانون سازوں کی وہ درخواست مستردکر دی ہے کہ جس میں مریم نواز صاحبہ کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر تعینات کرنے کے خلاف اپیل کی گئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار احمد رضا (ریٹائرڈ)کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ بھی سنایا کہ مریم نواز صاحبہ جو آج کل نیب کی تحویل میں ہیں وہ آئندہ اپنے خلاف مقدمے کا فیصلہ ہونے تک پارٹی کا کوئی بڑا عہدہ (مثلاً صدر یا سیکرٹری جنرل) نہ تو خود قبول کریں گی اور نہ ہی ان کو اس قسم کی کوئی پیشکش کی جائے گی…… یہ عجیب طرح کا تضاد ہے کہ ہرچند کہیں کہ ہے، نہیں ہے……حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف قانونی / عدالتی چارہ جوئی کرے گی!……

اب ایک علاقائی خبر کی طرف آتے ہیں جو یہ ہے کہ افغانستان میں کل (منگل وار) دو خودکش حملوں میں درجنوں شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے…… ایک حملہ طالبان کی طرف سے صوبہ پروان میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کیا گیا جس میں 26لوگ مارے گئے اور 42زخمی ہوگئے۔ افغان ٹی وی ”طلوع“ کے مطابق صوبہ پروان کے شہر چاریکار میں یہ حملہ اس وقت کیا گیا، جب صدر اشرف غنی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ وہ خود تو بال بال بچ گئے لیکن ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی آہ و بکا سے سارا جلسہ تادیر عرصہء محشر بنا رہا……دوسرا خودکش حملہ بھی طالبان کی طرف سے کیا گیا جس میں 22لوگ مارے گئے اور 38زخمی ہوئے۔ یہ حملہ کابل کے نزدیک اس جگہ کیا گیا جہاں امریکی سفارت خانہ واقع ہے۔ افغانستان کے ”خامہ پریس“ نے یہ خبر بھی دی ہے کہ اس حملے میں ایک امریکی بھی مارا گیا جو حملے میں شدید زخمی ہو گیا تھا اور ہسپتال میں جا کر دم توڑ گیا…… یہ اس برس (2019ء میں) ہلاک ہونے والا 17 واں امریکی سولجر تھا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر ایک امریکی سولجر کے مارے جانے کا غم امریکیوں کو اتنا ہو گا تو افغانوں کو اپنے 48(22+26) افرادکے مارے جانے اور 80((38+42 کے زخمی ہونے کا کتنا ہوگا……امریکہ میں زندگی کتنی مہنگی اور افغانستان میں کتنی ارزاں ہے!

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

اور اب ایک بین الاقوامی خبر کی طرف آتے ہیں …… یہ خبر اگلے روز سعودی عرب کی دو آئل فیلڈز (ابقیق اور ال خریث) پر ڈرون حملوں کے تناظر میں تھی۔ اس خبر کے نشر ہوتے ہی امریکی وزیر خارجہ نے ایران کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔اس موضوع پر دو روز پہلے کالم لکھ چکا ہوں جس میں استدلال کیا تھا کہ اس حملے میں سعودیوں کا کافی مالی نقصان ہوا اور اس کے کروڈ آئل کی پیداوار آدھی رہ گئی جس کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے (خیال کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں بھی فی لیٹر 10،12روپے اضافہ ہوگا) ہم اس سانحے میں سعودی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ لیکن یہ کہنے کی اجازت بھی دیجئے کہ جب حال ہی میں کشمیری مسلمانوں پر عرصہ ء حیات تنگ ہو گیا،ہزاروں بچے، بوڑھے، خواتین اور مرد اس سے یکساں متاثر ہوئے اور پاکستان نے اس سانحے کو اجاگر کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تو سعودی عرب اور امارات کے وزرائے خارجہ نے بھی پاکستان کے ساتھ ’ہمدردی‘ کے اظہار کے لئے اسلام آباد کا رخ کیا۔ لیکن کسی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے کسی ابلاغی ادارے پر آکر یہ کہنا ”گوارا“نہ کیا کہ انڈیا، کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ وہ دونوں حضرات جس طرح چپ چاپ آئے تھے، اسی طرح چپ چاپ چلے گئے۔ ہم پاکستانیوں نے نہ جانے کیا کیا امیدیں لگا رکھی تھیں …… ہم پاگل جو ٹھہرے!……اور ہاں سچ…… آج ہمارے وزیراعظم ریاض جا رہے ہیں:

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

ایران پر چونکہ امریکیوں نے الزام لگایا تھا کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہے اس لئے صدر ٹرمپ نے ایک ایسا جملہ ٹویٹ کیا جو ”مختصر ترین بھی تھا اور خطرناک ترین“ بھی۔ اس جملے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم Locked and Loaded بیٹھے ہیں اور جانتے ہیں کہ حملہ کس نے کیا ہے۔ ہمیں صرف سعودیوں کا انتظار ہے کہ وہ کیا فرماتے ہیں، ان کا Stance کیا ہے اور ان کا اشارہ کس طرف ہے۔ انگریزی لفظ Lockکا مطلب ہے ٹکٹکی لگا کر نشانہ باندھنا…… اور Loadedکا مفہوم یہ ہے کہ گولیاں ہمارے چیمبر میں ہیں اور گولے بریچ لاک میں بھرے ہوئے ہیں۔

ایران نے جونہی یہ دھمکی سنی، ماسکو میں صدر پوٹن سے رابطہ کیا اور انقرہ میں ترکی کے صدر رجب اردوان سے بات کی۔ فوراً ہی انقرہ میں ”تینوں بڑے“ (پوٹن، اردوان، حسن روحانی) اکٹھے ہو گئے۔ میڈیا پر جو تصویر جاری کی گئی ہے اس میں میزبان (اردوان) کے دائیں طرف حسن روحانی کھڑے ہیں اور بائیں طرف پوٹن ہیں اور تینوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ملائے ہوئے ہیں۔ خبر کے الفاظ یہ ہیں:

”ایجنسی فرانس پریس (AFP) 17ستمبر 2019ء …… سعودی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے کے تناظر میں روسی صدر پوٹن نے سعودی عرب کو اپنے ”میزائل ڈیفنس سسٹم“ کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے: ’ہم سعودی عرب کی امداد کے لئے تیار ہیں، تاکہ وہ اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکے، سعودی عرب بھی ایران کی مانند ایس۔300رشین میزائل ڈیفنس سسٹم خرید سکتا ہے۔ ترکی بھی ایران سے پہلے یہ سسٹم خرید چکا ہے جو ایس۔400 کہلاتا ہے‘…… صدر پوٹن نے انقرہ میں ایرانی اور ترک قائدین سے تفصیلی ملاقات کرتے ہوئے اس پیشکش کا اعلان کیا جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے یمن کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ”یمن پر روزانہ بم برسائے جا رہے ہیں، اس لئے یمن کے عوام ردعمل پر مجبور ہوئے ہیں اور ڈرون حملہ کرکے اپنی خود حفاظتی کا سامان کیا ہے۔…… حوثی باغیوں نے سوموار کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ مزید حملے کریں گے اور اسی لئے غیر ملکی باشندوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ سعودی آئل فیلڈز سے دور رہیں“۔

قارئینِ محترم! پنجابی محاورے کے مطابق سو ہاتھ رسّے کے سرے پر گانٹھ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی ہمدردیاں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ ہم اس تنازعہ میں سعودیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہم ایران سے بھی کوئی مخاصمت نہیں چاہتے۔ ایران اگر حوثی باغیوں کا حمائتی ہے تو یہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے جس میں ایرانی، سعودی اور حوثی برابر کے سٹیک ہولڈرز ہیں۔ پاکستان یمن کی جنگ میں نواز حکومت کے دور میں بھی شریک نہ تھا۔ پاکستانی پارلیمنٹ کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ہماری فوج کے بوٹ یمن کی سرزمین پر نہیں جائیں گے۔ بین الاقوامی تنازعات میں کسی ایک طرف کی سائڈ نہ لینے کے باوجود بھی تو باہمی تعلقات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں ……اس لئے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی جو نوعیت انڈیا کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں ہے، پاکستان اس سے اختلاف کرنے کے باوجود ان دونوں اسلامی ملکوں سے بہتر تعلقات رکھتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...