’ اگر ہر کسی کا احتساب ہورہا ہوتا تو یہ خوش قسمتی تھی لیکن اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ۔۔۔ ‘ جنرل امجد شعیب حکومت کی حمایت میں بول پڑے

’ اگر ہر کسی کا احتساب ہورہا ہوتا تو یہ خوش قسمتی تھی لیکن اب اس کا مطلب یہ ...
’ اگر ہر کسی کا احتساب ہورہا ہوتا تو یہ خوش قسمتی تھی لیکن اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ۔۔۔ ‘ جنرل امجد شعیب حکومت کی حمایت میں بول پڑے

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)لیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب نے کہاہے کہ اگر ہر کسی کا احتساب ہورہا ہوتا تو یہ اس ملک کی بڑی خوش قسمتی تھی لیکن اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ جن کا احتساب ہورہاہے، اس کو بھی روک دیا جائے۔

دنیا نیوز کے پروگرام ”آن دا فرنٹ“میں گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہا کہ سارے سیاستدان کرپٹ نہیں ہیں ، چند ایک لوگ بھگت رہے ہیں ، ان کی تعداد گن لیں اورباقی پارلیمان میں بیٹھے سیاستدانوں کودیکھیں تو یہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان میں ایک تاریخ ہے کہ جب بھی لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار آیا تو ان کی طرف سے بعض کام کئے گئے ہیں ، سیاستدانوں کو یہ قوانین بنالینے چاہئے تھے کہ نیب جب کسی کوگرفتار کرلے تو اتنا یقین ضرور ہو کہ یہ قصور وار ثابت ہوگا ۔

امجد شعیب کا کہنا تھا کہ جب ایک پارٹی مشکل میں ہوتی ہے تو دوسری تعاون نہیں کرناچاہتی ، یہ بات غلط ہے کہ کوئی پوری پوری پارٹی یا سیاسی جماعت غلط ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر کسی کا احتساب ہورہا ہوتا تو یہ اس ملک کی بڑی خوش قسمتی تھی لیکن اب اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ جن کا احتساب ہورہاہے، اس کو بھی روک دیا جائے۔

مزید : قومی


loading...