موٹروے پر سفر آسان نہیں رہا

موٹروے پر سفر آسان نہیں رہا
موٹروے پر سفر آسان نہیں رہا

  

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہونے والا بد ترین اخلاقی سانحہ جہاں من حیث القوم، ہماری اخلاقی، تعلیمی اور معاشرتی تربیت کو بے لباس کرتا ہے وہاں موٹروے پر حفاظتی اقدامات اور مختلف ایجنسیوں کے ان باہمی رابطوں پر سوال اٹھاتا ہے جو محفوظ سفر کی ضامن ہیں۔ یہ مکروہ واقعہ بیت گیا۔ خدا معلوم اس سے پہلے کتنے ایسے ہولناک واقعات رونما ہو چکے ہوں، کتنوں کوبقدرِ جرم سزا ملی ہو اور کتنوں نے ”کزن سوسائٹی“ کے ثمرات کی بدولت خود کو محفوظ کر لیا ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واقعہ کی مظلوم خاتون کا معاملہ قانون اور انصاف کی دقیق اور کٹھن راہوں کا شکار تو نہیں ہوجاتا، ملزمان در حقیقت قانون کی دسترس میں آجاتے ہیں اور اپنے گھناؤنے فعِل کے حجم کے برابر ”اجر“ پاتے ہیں یا ”کزن سو سائٹی“ کی عنایات کی بدولت فعلِ مکرّر کا خاموش اجازت نامہ وصول پاتے ہیں۔

جب موٹر وے زیر ِ تعمیر تھی تو تمام ذرائع رسل و رسائل سُبک، آرام دہ  اور محفوظ سفر کی نوید ِمسلسل سنا رہے تھے اور ایسا عملاً دو دہائیوں تک دیکھنے کو ملا۔ وقت گزرتا گیا، موٹروے پرسفر کے جملہ اجزائے ترکیبی زوال کا شکار ہوتے گئے۔ جنگلی جانوروں اورپیادہ افراد کی رسائی کو روکنے کے لئے موٹروے کے اطراف میں جو لوہے کی جالی نصب کی گئی تھی، وہ جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے یا توڑ دی گئی ہے، جس کے باعث نہ صرف آوارہ کتوں کے غول،بلکہ موٹر وے کے نزدیک ڈیروں اور آبادیوں سے لوگ موٹروے پر آرام سے پہنچ جاتے ہیں اور خود کو مجبور اور ضرورت مند مسافر ظاہر کر کے ہر گزرنے والی گاڑی کو لفٹ کے لئے متوجہّ کرتے ہیں۔اس تناظرمیں یوں لگتا ہے جیسے موٹروے پولیس کا اوّل آخر کام صرف گاڑیوں کی رفتار کو حد میں رکھنا ہے۔

موٹروے آہستہ آہستہ جی ٹی روڈ کا منظر پیش کرنے لگی ہے۔صبح کے وقت بالخصوص اور دن کے دیگر اوقات میں بالعموم کسی بھی ٹال پلازہ سے آگے بڑھیں تو آپ کو پنجاب پولیس کے باوردی جوان  لفٹ مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑاتماشہ بابو صابو انٹر چینج پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں سیکیورٹی پر مامور پولیس گارڈ کے سامنے لفٹ کے خواہشمند باوردی جوان ایک ایک گاڑی کوروک کر جھٹ سے گاڑیوں کے دروازے کھولتے ہیں۔ ٹارچ کی روشنی سے گاڑی کے اندر خالی جگہ دیکھتے ہیں اور فیملی کے ساتھ سفر کرنے والے مسافروں کو زچ کرتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی امید ِ لفٹ میں عام مسافر بھی رکاٹوں سے چار پانچ فرلانگ اندر تک ٹولیوں میں کھڑے ہونے لگے ہیں۔علاوہ ازیں مختلف اوقات میں موٹروے پر کام کرنے والی ایجنسیوں کے افراد پیلی،سبز اور دیگر رنگوں کی جیکٹیں پہنے لفٹ کے لئے فراٹے بھرتی گاڑیوں کو آگے بڑھ کر روکنے کی مشق کرتے ہیں۔ اگر یہ طرزِعمل اسی حوصلہ افزائی کے ساتھ بڑھتا رہا تو امید ِ واثق ہے لوہے کی جالی کی ضرورت نہیں رہے گی اور عام سڑک اور موٹر وے پر سفرمیں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

موٹر وے پولیس کی ہنگامی صورت میں فوری پہنچ پر بھی بڑے سوالیہ نشانات ہیں۔ جولائی کے حبس بھرے مشکل ترین موسمی مہینے میں لاہور اسلام آبا د موٹروے پر سُکھیکی گزر کر میری گاڑی یک دم بند ہو گئی، معائنہ کرنے پر پتہ چلا کہ گاڑی کا انجن اُڑ چکا تھا۔ میں نے بڑے اعتماد کے ساتھ ایمرجنسی کال نمبر130پر کال ملائی،پھر کال ملائی، کال پہ کال ملائی، مگر آدھ گھنٹہ کی جُہدِ مسلسل کے باوجودبار آوری نہ ہوئی۔ سورج کی تمازت اور روح فرسا گرمی میں کھلے آسمان تلے مَیں تو بے حال تھا ہی، مگر ساتھ بوڑھی والدہ کو دیکھ کر میری جان پر بنی ہوئی تھی۔ اس مشکل گھڑی میں، مَیں نے ذہن کو تلاشِ دوستاں پر مرکوز کیا تو اسلام آباد میں تعین ایک افسر دوست جن کے اچھے معاشرتی روابط ہیں،کا خیال آیا اُنہیں اپنی بپتا سنائی،ان کی کوشش سے پندرہ منٹ بعد موٹروے پولیس کی گاڑی آ پہنچی، موٹروے پولیس کے جوان نے لوڈر گاڑی کا بندوبست کرنے کے لئے فون کیا،اس گاڑی کے آنے تک ان سے موٹروے پر سفر کرنے والے مسافروں کے لئے ایمرجنسی کال کی سہولت، حفاظتی اقدامات اور موٹر وے پولیس کی کارکردگی پر بات ہوئی، اس جوان نے بتایا کہ جہاں تک موٹروے پولیس کی کارگردگی کا تعلق ہے، جوانوں میں بد دلی پائی جاتی ہے۔ اُن کی مراعات اور اعلیٰ افسرون کی مراعات میں مایوس کُن فرق ہے۔ جوانوں کو شروع میں حوصلہ افزائی کے انعامات ملتے تھے، شاباش ملتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ جاتا رہا۔ جوانوں کو ڈیوٹی کے لئے آگ برساتے سورج اور لوہا پگھلاتے موٹروے کے درمیان بغیر ائیر کنڈیشنر گاڑیوں میں رہنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی تربیتی کورس آجائے تو ہر بار افسر ہی اس کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ یہ اور اس طرح کی دیگر وجوہات نے جوانوں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ میرے اس سوال پر کہ پنجاب پولیس، ٹریفک پولیس کے جوانوں کے علاوہ دوسرے باوردی لوگ کون ہیں،جو لفٹ کے لئے موٹروے پر کھڑے ہوتے ہیں۔جو ان نے بتایا کہ موٹروے پر NHA،FWO،MORR، ECO Greenایجنسیاں مختلف کام کے لئے مختص ہیں۔ ان ایجنسیوں کے افرادمزدور کی جیکٹ پہنے لفٹ کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں۔

موٹروے پولیس کے جوان سے گفتگو کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موٹروے کے سفر کو اس کے بنیادی تعمیری نصب العین کے مطابق لے کر چلنے کے لئے ضروری ہے کہ:۔

1۔ موٹروے پولیس کے اَفسران ِ بالا اپنے جوانوں کے ساتھ رابطوں میں بہتری لائیں۔اُن کو اپنے مسائل بیان کرنے کا موقع دیں جو حل طلب ہیں ان کو حل کرنے کا بندوبست کریں اور جو مسائل کم اور خواہشات زیادہ ہیں اُن پر ان کی مشاورت کریں۔ ایمر جنسی کال نمبر130 پر وقتاً فووقتاً خود کال کر کے اس کی کارکردگی کو چیک کرتے رہیں، ہرٹال پلازہ پر ایک شکایت و تجاویز بکس رکھوائیں اور اُن شکایات، تجاویزکو ہر اگلے روز لازماً خود پڑھیں اور جہاں ضروری اور ممکن ہو بہتری کا قدم اٹھائیں۔

2۔ NHA نے چونکہ ایک معاہدے کے تحت موٹروے سے متعلق معاملاتFWOکے سپرد کر رکھے ہیں اس لئے موٹروے پولیس کے فرائض کے علاوہ موٹروے سے متعلق تمام معاملات FWO کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جسے چاہئے کہ وہ اپنی نگرانی میں موٹروے پر کام کرنے والی ماتحت ایجنسیوں سے اپنے روابط پر نظر ثانی کرے اور جہاں خلا نظر آئے اُ س کوپُر کر کے بہتری کی جانب گامزن ہو۔

بالعموم جن جن محکموں کے لوگ موٹروے تک بلا خوف و خطر پیدل رسائی کرتے ہیں،FWO نہ صرف اُن محکموں کے اَفسران ِ بالا تک اِن کے معاملات کو اٹھائے بلکہ اِن کی ویڈیوز بنا کر ساتھ بھیجے۔ علاوہ ازیں موٹر وے لفٹ لینے والوں کے لئے بھاری جرمانے کا قانون بنائے اور روزانہ کی بنیاد پر دیکھیں کہ آج کتنے لوگوں کو جرمانہ ہوا، موٹروے پر پیادہ لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے، ٹال پلازہ پر بیٹھے ملازمین پر زور دیں کہ پیادہ شخص کو خواہ وہ کسی وردی میں یا کسی بھی لباس میں ہو اُسے ٹال پلازہ کے راستے موٹروے تک رسائی سے باز رکھیں۔

مزید :

رائے -کالم -