ابراہیمی معاہدہ اور عرب اسرائیل تعلقات 

ابراہیمی معاہدہ اور عرب اسرائیل تعلقات 
ابراہیمی معاہدہ اور عرب اسرائیل تعلقات 

  

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے امریکہ کی سر پرستی میں ابراہیمی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں اس طرح اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد چار ہو گئی ہے 1979ء میں مصر نے 1994ء میں اُردن نے پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے معاہدے پر دستخط کئے یہ معاملات طے کرانے میں امریکہ کی قیادت نے بنیادی کردار ادا کیا ڈونلڈ ٹرمپ اعلانیہ صہیونی عیسائی ہیں جو عیسیٰ ابن مریم کی آمد ثانی پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی آمد ثانی سے قبل تھرڈ ٹمپل یعنی ہیکل سلمانی کی تیسری تعمیر ہونا ضروری ہے عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کے مطابق مسیح کی آمد ثانی کی نشانیاں پوری ہوتی چلی جا رہی ہیں دنیا کے معاملات بڑی تیزی سے اسی سمت جا رہے ہیں، جس طرف ان کتب میں اشارات موجود ہیں یہودی بھی اپنے مسیحا، یعنی نجات دھندہ کے منتظر ہیں جو انہیں دنیا میں نجات دے گا۔ریاست اسرائیل کا قیام (یہودیوں کے مطابق) اسی وعدہ خدا وندی کے مطابق ہے جس میں ان کی نجات کے لئے ایک مسیحا کے آنے کی باتیں کی گئی ہیں ویسے ہمارا موضوع عیسائیت اور یہودیت کا تقابل نہیں ہے اس لئے تفصیلات میں جائے بغیر یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ یہودیوں کے جس نجات دہندہ کاتوریت و زبور میں ذکر ہے وہ مسیح ابن مریم تو کب کے آ چکے۔اللہ رب العزت نے انہیں یہودیوں میں، یہودیوں کی اصلاح احوال کے لئے یہودمیں سے ہی اٹھا یا تھا، لیکن یہودیوں نے ان کا انکار کیا ان کی تکذیب کی۔انہیں تکلیفیں پہنچائیں اور باآخر صلیب پر چڑھا دیا۔عیسوی دنیا میں یہودی اسی لئے راندہِ درگار تصور کئے جاتے تھے عیسائی انہیں دھتکارتے تھے ان سے نفرت کرتے تھے انہیں گھٹیا تصور کرتے تھے دوسر ی جنگ عظیم تک عیسائی یہودیوں پر نفریں بھیجتے تھے انہیں آبادیوں میں گھلنے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ ایک عیسائی حکمران کا طرز فکر و عمل تھا ایڈولف ہٹلر نے اپنی خود نوشت ”میری جدوجہد“ میں اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے کہ یہودی کس طرح عیسائی یورپ کو معاشی،معاشرتی اور سماجی طور پر برباد کرتے رہے ہیں مغربی دنیا میں، عیسائی دُنیا میں یہودی نا پسند یدہ قوم کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں یہ تو تھیوڈ و رہرزل کی صہیونی تحریک تھی، جس نے یہودیوں کے لئے کام کرنا شروع کیایہ اسی تحریک کا نتیجہ تھا کہ جنگ عظیم اول کے بعد برطانیہ نے ان کے لئے ایک ریاست کے قیام کی راہیں ہموار کیں۔اعلان بالفور کے ذریعے دنیا بھر میں ذلیل و خوار پھرنے والے یہودیوں کے لئے عربوں کے سینے میں لگے ایک خنجر کی طرح ریاست اسرائیل تخلیق کی گئی۔ صہیونیوں نے گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے جدو جہد شروع کی تھی بالفور ڈیکلریشن اسی تحریک کے نتیجے میں سامنے آ یا تھا موجودہ اسرائیل اسی صہیونی تحریک کے وژن کی عملی تعبیر ہے 1948ء میں بننے والا اسرائیل اور آج کا اسرائیل دونوں مختلف ہیں 1948میں قائم کئے جانے والا اسرائیل دراصل گریٹر اسرائیل کے قیام کا ابتدائیہ تھا صہیونی تحریک کا اخذ کردہ اسرائیل کا نقشہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشانی پر کندہ ہے انہوں نے اس کی یعنی گریٹر اسرائیل کی جن سرحدوں کا تعین کیا تھا وہ گزرے 72سال کے دوران اس کی تکمیل کے لئے کوشاں رہے ہیں وہ بتدریج اسرائیل کی سرحد یں پھیلاتے رہے ہیں۔ یہودی بستیاں بساتے رہے ہیں انہوں نے یروشلم پر قبضہ کر کے اسے ریاست اسرائیل کا دارلخلافہ بھی قرار دے دیا ہے سلامتی کونسل کے 16میں سے 15اراکین اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کر چکے ہیں، لیکن امریکی سر پرستی میں صہیونی ریاست کی سرحد یں طے شدہ نقشے کے مطابق پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی طرف سے ریاست فلسطین کے قیام کی قرار دادیں بظاہر اپنی موت آپ مر چکی ہیں اسرائیل اپنی پوری طاقت و قوت کے ساتھ عربوں کے سینے پر کھڑے ہو کر مونگ دل رہا ہے امریکی منصوبہ بندی کے مطابق عربوں کو اسرائیل کے سامنے سر بسجود کرنے کی کاوشیں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہیں ابراہیمی معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ویسے کیا اب یہ بحث ختم نہیں ہو نی چاہئے کہ فلسطین کسی جہادی تحریک کے نتیجے میں قائم ہو سکتا ہے؟ ہم ایٹمی قوت ہو کر بھی کشمیریوں کی خواہشات ہی نہیں،بلکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق انہیں حقوق دلوانے میں ناکام رہے ہیں ہم نے 72سال کے دوران ہندو ستان کے ساتھ جنگیں کر کے کیا حاصل کیا؟ایسا ہی کچھ فلسطینیوں کی طرف سے کی جانے والی مسلح تحاریک سے حاصل ہوا ہے۔آج لاکھوں فلسطینی کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگیاں گزار رہے ہیں کشمیریوں پر9 لاکھ بھارتی سپاہ مسلط کر دی گئی ہیں نہ عرب فلسطینیوں کے لئے کچھ کر سکے اور نہ ہی ہم کشمیریوں کے لئے۔

جہاں تک عرب دنیا کا تعلق ہے موجودہ عرب ریاستوں کا قیام اقوام مغرب کی سازشوں کا نتیجہ ہے جنگ عظیم اول میں ترک خلافت کے خاتمے کے بعد عظیم مسلم سلطنت کو ٹکڑ وں میں تقسیم کر دیا گیا اور انہوں نے  پھر درجنوں ریاستوں پر اپنے ایجنٹ مسلط کر دئے ان عرب شیخوں نے اہل حرم کے مفادات کے لئے کچھ نہیں کیا سنہری سیال کی دولت عیاشیوں پر ہی خرچ کی جاتی رہی ہے یہی حکمران، کسی بھی عوامی تحریک کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے تھے عرب حکمرانوں نے اخوان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ تاریخ کا شرمناک باب ہے اب پورے عرب میں کوئی تحریک یا تنظیم ایسی موجود نہیں ہے،جو صہیونی ریاست کی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھا سکے پورے خطہ عرب میں کوئی بھی ایسی قوت موجود نہیں ہے جو اسرائیل کو گریٹر اسرائیل بننے سے روک سکے تھرڈ ٹمپل تعمیر ہو کر رہے گا، لیکن عرب ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتے ہی چلے جائیں گے ابراہیمی معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -