عثمان بزدار کا دورۂ ملتان اور پروٹوکول وائرس

عثمان بزدار کا دورۂ ملتان اور پروٹوکول وائرس
عثمان بزدار کا دورۂ ملتان اور پروٹوکول وائرس

  

گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں پروٹوکول وائرس کا مسئلہ جاری ہے۔ ہر حکمران نے آتے ہی جو سب سے پہلا نعرہ لگایا وہ پروٹوکول ختم کرنے کا تھا، وزیراعظم عمران خان نے تو کچھ زیادہ ہی شد و مد سے یہ اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی پروٹوکول کلچر کا خاتمہ کر دیں گے، مگر قصہ یہ ہے کہ پروٹوکول کچھ اور بڑھ گیا ہے۔پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی آتے ہی اعلان کیا تھا کہ پروٹوکول نہیں لیں گے، تاہم اس وقت حالت یہ ہے کہ ان کا پروٹوکول سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف سے بھی بڑھ گیا ہے۔ کہنے کو رات گئے انہوں نے ملتان کی سڑکوں پر بغیر پروٹوکول کے اپنی گاڑی چلائی، لیکن جو دن بھر خلقِ خدا ان کے دورے کی وجہ سے ذلیل و خوار ہوتی رہی اس کا مداوا اب نہیں ہو سکتا۔ یہ انتظامیہ اور پولیس بھی بڑی ظالم شے ہے، اچھے بھلے حکمران کی عزت کو عوام کی نظروں میں اتار کے رکھ دیتی ہے۔ ملتان میں وزیراعلیٰ ایک عرصے کے بعد مختلف منصوبوں کا افتتاح اور اعلان کرنے آئے۔

اصولاً تو ان کے اعلانات پر واہ واہ ہونی چاہیے تھی، مگر ہوا یہ کہ انہیں عوامی نفرت کا نشانہ بنا دیا گیا، کیونکہ بے تدبیر انتظامیہ اور عقل سے عاری ٹریفک پولیس نے خوامخواہ ایسی سڑکیں بھی بند کر دیں،جہاں سے وزیراعلیٰ نے گزرنا ہی نہیں تھا، حتیٰ کہ خطے کے سب سے بڑے ہسپتال نشتر کو جانے والی سڑک بھی بند کر دی، حالانکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس کا دورہ کرنا تھا اور نہ ہی اس سڑک کو کھولنے کی وجہ سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔ ڈسٹرکٹ جیل روڈ کو بند کرکے وزیراعلیٰ کے سرکٹ ہاؤس اور ڈسٹرکٹ جیل کے دورے کو بآسانی گزارا جا سکتا تھا، مگر احمقانہ فیصلہ نشتر روڈ کو بند کرکے کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایمبولینس میں موجود نوجوان دم توڑ گیا۔ اس کی وڈیو وائرل ہوئی تو انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں۔ پولیس نے کھینچ تان کے ایمبولینس کے ڈرائیور کو ”سیدھا“ کیا اور وہ اپنے پہلے بیان سے مکر گیا، اس نے کہا کہ ایمبولینس میں زخمی نوجوان نہیں،بلکہ اس کی لاش تھی۔ پولیس نے اس کا یہ بیان اور اپنی وضاحتی پریس ریلیز جاری کی، جو پہلے سے بھی بدتر صورتِ حال کی تصویر کشی ہے۔ گویا ایک ایسی ایمبولینس کو روکے رکھا گیا، جس میں ایک ڈیڈ باڈی موجود تھی۔ سنا ہے عثمان بزدار نے اس واقعہ کی آر پی او سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حالانکہ انہیں رپورت یہ طلب کرنی چاہیے کہ ان کے روٹ کو کس نے ڈیزائن کیا اور پروٹوکول کے نام پر شہریوں کو گھنٹوں عذاب میں کیوں مبتلا رکھا گیا۔

شہری حیران ہیں کہ ملک میں اس وقت کوئی دہشت گردی کی فضا نہیں، امن و امان کی صورت حال بھی خاصی بہتر ہے، پھر وی وی آئی پی موومنٹ پر اس قدر اذیت ناک انتظامات کیوں کئے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال شائد لاہور میں نہ ہوتی ہو کہ وہاں ہر وقت گورنر یا وزیراعلیٰ کا کہیں نہ کہیں سے گزر رہتا ہے، مگر ملتان جیسے شہر میں جب کوئی حکمران شخصیت آتی ہے، تو گویا انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں، وہ ایسے احمقانہ بلکہ ظالمانہ فیصلے کرتی ہے کہ جن کی کوئی  توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ اگر وزیراعلیٰ یا وزیراعظم نے میلوں دور سے بھی گزرنا ہو تو اردگرد کی ساری سڑکیں گھنٹوں پہلے ٹریفک کے لئے بند کر دی جاتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی کہ جب پل پل کی خبر ہوتی ہے، گھنٹوں پہلے سڑکیں بند کرنے کا کیا جواز ہے۔ جب وی وی آئی پی شخصیت ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے نکلے تو اس روٹ کو چند منٹوں کے لئے بند کیا جا سکتا ہے۔ پھر اس کا التزام تو بہر صورت ہونا چاہیے کہ ایمبولینس کو ہر حال میں راستہ ملے، اسے ایک منٹ کے لئے بھی روکنا ممنوع قرار دیا جائے۔ کسی مہذب ملک میں ایمبولینس کو کسی وی آئی پی کے لئے نہیں روکا جاتا، بلکہ ساری ٹریفک روک کر اسے راستہ دیا جاتا ہے۔ یہ کیسی ظالمانہ سوچ ہے کہ ایمبولینس میں کوئی زندہ مریض ہے اس کی تصدیق کے بعد جانے دیا جائے گا اور اگر وہ مر گیا ہے تو بے شک اس کی نعش گھنٹوں ایمبولینس میں پڑی رہے، اسے راستہ نہیں ملے گا۔ یہی ملتان میں ہوا اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا یہ بڑا دورہ تلخ یادیں چھوڑ گیا۔

کیا ہی اچھا ہو کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم ہاؤس میں ایک ایسا سیل قائم کیا جائے جس کا کام اس امر کا جائزہ لینا ہو کہ ان کے کسی شہر کا دورہ کرنے سے کون کون سے علاقے بند ہوں گے۔ متعلقہ ضلع کی انتظامیہ سے ایک پورا ٹریفک پلان منگوا کر اس پر غور و فکر کیا جائے اور جس روٹ سے لوگوں کو کم دشواری ہو وہ استعمال کیا جائے، اب ہوتا کیا ہے وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے دورے کا شیڈول آجاتا ہے اور یہ معاملہ ضلعی انتظامیہ کی صوابدید پر چھوڑ دیاجاتا ہے کہ وہ اس کے لئے کیا پلان بناتی ہے، جس طرح ایک خوفزدہ افسر کمزور فیصلے کرتا ہے، اسی طرح ضلعی انتظامیہ اور پولیس بھی کسی سانحے سے بچنے کے لئے میلوں دور سے سڑکیں بند کر دیتی ہے، حالانکہ ان کا دورے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان حاکم وقت کو ہوتا ہے،  لوگ اسے جھولیاں اُٹھا اُٹھا کے بددعائیں دیتے ہیں، انہیں کسی افسر سے کوئی غرض نہیں ہوتی، یہی کچھ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے حالیہ دورے میں بھی ہوا۔ یہاں کے انتظامی اور پولیس افسران تو دورہ بھگتا کر نہال بیٹھے ہیں، لیکن لوگوں کو اس دوران جس اذیت سے گزرنا پڑا، اس کا سارا غصہ وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر نکال رہے ہیں، حالانکہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ انتظامیہ نے ان کے دورے کے لئے کتنے عوام دشمن اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے لئے اتنے سخت اقدامات اور بیسیوں گاڑیوں کا پروٹوکول عوام کو اس لئے بھی چبھتا ہے کہ وہ انہیں اپنے طبقے کا وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں، جو اب صوبے کے منصبِ اعلیٰ پر فائز ہے۔ وہ یہ توقع نہیں کرتے کہ عثمان بزدار شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ گھومیں، انہیں وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار بہت اچھا لگتا ہے جو اکیلے بغیر پروٹوکول کے شہر کے دورے پر نکل پڑتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -