دوست ہوں تو…… کی ضرورت نہیں!

دوست ہوں تو…… کی ضرورت نہیں!
دوست ہوں تو…… کی ضرورت نہیں!

  

حزبِ اختلاف کی مختلف جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس کل(اتوار) کو اسلام آباد میں ہو رہی ہے،جس کی میزبانی پیپلزپارٹی کے سپرد کر دی گئی، اطلاع ہے کہ اس میں تمام جماعتوں کے سربراہ بھی شرکت کریں گے،اصول کے مطابق صدارت میزبان کے حصے آتی ہے،لیکن آثار یہ ہیں کہ یہ فرض جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن ہی اور کریں گے، اگر میزبان والی روائت پر عمل ہوا تو یہ خدمت بلاول کے سپرد ہی ہو گی اور شاید پہلی بار فرزند ِ راولپنڈی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید مسلسل انگیخت کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) دو حصوں میں بٹ جائے اور م۔ش میں تقسیم ہو،لیکن ان کی یہ بات ابھی تک پوری نہیں ہوئی اور نہ ہی محمد شہباز شریف نے ان کی پیشگوئی کو پورا کیا ہے، بلکہ محترم شیخ صاحب کو شاید کچھ مایوسی ہو اور وہ پھر سے نیا پینترا بدلیں کہ خبروں کے مطابق اس کل جماعتی کانفرنس میں م اور ش بھی ہو گی،چچا محمد شہباز شریف اور بھتیجی مریم نواز شریف بھی شرکت کر رہی ہیں، یوں یہ اے پی سی نمائندگی کے حوالے سے موثر ہو گی کہ بلاول کے علاوہ آصف علی زرداری بھی اسلام آباد ہی میں ہیں۔

ہم نے گذارش کی تھی اور اپنے ایک کالم میں بہت پہلے لکھا تھا کہ ”یہ پہلوان“ (تحریک انصاف کی حکومت) کسی مقابلے سے نہیں خود اپنے زور سے گرے گا یا پھر گونگا پہلوان کی طرح انگوٹھے کے اشارے پر عمل پیرا ہو گا، کیونکہ اس کے سامنے برابر کا جوڑ نہیں اور سرپرستی بھی پورے طور پر ہے، اِس امر کو مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی بخوبی جانتی اور مولانا فضل الرحمن بھی سمجھتے ہیں، اسی لئے ان کی سرگرمیاں اسی دائرے میں گھومتی ہیں اور اسی بنا پر شیخ رشید پیش گوئیاں ہی نہیں ”بدخوہیاں“ بھی کرتے رہتے ہیں، تاہم ہم نے گذشتہ روز یہ بھی دہرایا تھا کہ یہ اپوزیشن منتشر ہے اور اس کے متحد ہونے کے امکانات کو کم کیا جا رہا ہے،لیکن اگر حزبِ اختلاف نے ان کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری رکھا تھا تو یہ یقینا متحد ہو جائے گی کہ ان کے پاس اور کوئی چارہ کار نہیں کرے گا اور محترم وزیراعظم کے مہربانوں نے ان کے مزاج کو جانتے ہوئے یہی کیا ہے۔محترم بابر اعوان ان کے معاون خصوصی ہیں اور اسی حیثیت سے پارلیمان میں موجود تھے کہا جاتا ہے کہ یہ ”مہربان“ جو پیپلزپارٹی میں آصف علی زرداری کے گن گاتے تھے، وزیراعظم کو قائل کرنے میں کامیاب رہے کہ پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں کسی بحث کے بغیر بل منظور کرا لئے جائیں کہ ان کو بھی اس یقین دہانی کا علم تھا کہ قوانین کی منظوری میں رکاوٹ نہیں ہو گی، خواہ خود حزبِ اختلاف اپنا ”اخلاقی پہلو“ دکھائے یا پھر منتر جنتر سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سین ری پلے کیا جائے، چنانچہ جناب قائد ایوان کو اور کیا چاہئے تھا وہ مان گئے اور پھر سب کچھ ہو گیا اور سینیٹ والی فوٹیج غیر حاضری کی صورت میں چل گئی،

اکثریت والے ہار گئے، ہمارے خیال میں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اسلام آباد کے تمام ”باخبر“ اور ثقہ صحافی یہی بتا رہے تھے کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے حوالے سے بریف کی جا چکی ہے اور اس نے قومی اسمبلی میں خود کو ”نیک پُت“ ثابت بھی کیا تھا، لیکن شاید یہاں آخری کیل ٹھونکنے والی بات تھی اور حزبِ اختلاف کو ذرا بھی موقع نہ دیا گیا کہ وہ عوامی سطح پر یا نصیحت کرنے والوں کے سامنے ”سماجی سدھار“ والے رویے کو ثابت کر سکے، حالانکہ اگر جمہوری انداز اور عالمی رائے کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بحث ہو کر کسی ایک آدھ ترمیم کے ساتھ یہ قوانین منظور ہوتے تو ان کی اہمیت اور زیادہ ہو جاتی،کیونکہ ایف اے ٹی ایف والوں کو بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پارلیمینٹ میں واضح ترین اکثریت نے کھلے دِل سے یہ سب کیا ہے،لیکن بھلا ہو ”عقابوں“ کا کہ انہوں نے وزیراعظم کی تقریر کے لئے مرزا یار والی کیفیت پیدا کرا دی اور قائد حزبِ اختلاف بھی اپنی تقریر میں ایسے جملے کہہ گئے جو ہمارے خیال میں ان کے منصب کے شایانِ شان نہیں ہیں کہ ان کے ”سوشل میڈیا ترجمان“ عرصہ سے کہتے چلے آ رہے اور مخاطبین بھی سننے کے عادی ہیں کہ یہ واحد حضرات نہیں جو ایسا کہہ رہے ہیں، ماضی میں بھی بہت کچھ ہو چکا۔

ہم نے تو اپنے مشاہدے کے مطابق عرض کیا اور اب ملک میں برپا ہونے والی تحریکوں کے عینی شاہد ہونے کی وجہ سے یہ عرض مکرّر کرتے ہیں کہ وزیراعظم کو اپنے ”دوستوں“ کے ہوتے ”دشمنوں“ کی ضرورت نہیں، اور کل(اتوار) اس کا نتیجہ بھی نکلے گا کہ اب واقعی اپوزیشن دیوار کے ساتھ ہے اور پھر اس پوری اپوزیشن کو جمعرات کو بہت حوصلہ ملا کہ پاکستان بار کونسل نے جو اے پی سی منعقد کی وہی اپوزیشن کی اے پی سی ثابت ہو گئی اور جو اعلامیہ جاری ہوا وہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کل اتوار والی اے پی سی کا ہو گا۔یوں اب وکلاء نے بھی پہل قدمی کی جو بہت اہم ہے، ہم اپنے طویل مشاہدے کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ وکلاء میں بھی تحریک انصاف اور اس کے مراعات یافتہ حضرات موجود ہیں،لیکن وقت نے ہمیشہ ثابت کیا کہ ایسے حضرات کی تعداد کم ہوتی اور یہ کچھ کر نہیں سکتے،اس کے علاوہ جس میڈیا کو ”تھلے“ لگا لیا گیا، اسے بھی تو موقع کا انتظار ہے۔ خبردار، ہوشیار!

مزید :

رائے -کالم -