کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے
 کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے

  

 کشمیر پاکستان کے بغیر اور پاکستان کشمیر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس موقع پر قائد اعظمؒ کے الفاظ یاد آتے ہیں کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔جسے دنیا کی کوئی طاقت ہم سے جداء نہیں کر سکتی۔ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی سے پاکستان کی تکمیل ہوگی۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنی روایتی مکاری کا انمٹ ثبوت دے چکا ہے۔ پاکستانیوں اور کشمیریوں کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور سماجی ہم آہنگی کی پہچان ہے۔

کشمیری مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا۔ ہمیں اس تاریخی فیصلے پر فخر ہے کیونکہ اہل پاکستان نے آزمائش اور مشکل کے ہر لمحے میں کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔  دنیا کو بتا دیں کہ کشمیر کل بھی ہمارا تھا اور کشمیر آج بھی ہمارا ہے۔کشمیری عوام کے ساتھ تھے،ہیں اوررہیں گے۔کشمیر کا بچہ بچہ پاکستان کے شانہ بشانہ ہے۔

چونکہ پاکستان کے کار پردازوں کوبھارت پر کبھی اعتماد نہیں رہااور ایک قسم کاخوف بھی طاری رہا۔اس لیے انھوں نے کوشش کی کہ کوئی تیسرا فریق مداخلت کر کے مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد دے۔کشمیر کے تنازعہ کی ابتدا میں ہی یعنی 1947ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے جو پاکستان کے پہلے گورنرجنرل تھے،برطانیہ سے مداخلت کی درخواست کی کہ وہ اس مسئلہ میں مداخلت کرے تاکہ دولت مشترکہ کے ممبر دو ممالک کے درمیان اختلافات طے ہو سکیں۔لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کہ وہ کسی تیسری قوت کی مداخلت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا کیونکہ ملک بھارت چاہتا تھا کہ یہ معاملہ جوں کاتوں رہے۔جو کہ اْس وقت سے لے کر آج تک کشمیر کا معاملہ لٹکاہوا ہے جبکہ بھارت کشمیر کے مسئلہ کا حل نہیں چاہتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم و استبداد انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور جموں و کشمیر کی الگ حیثیت ختم کرکے مودی سرکار اپنی ہٹ دھرمی کا انمٹ ثبوت دے چکی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے تحریک پاکستان کے جذبے کی ضرورت ہے۔ 7 194 ء  کے بعد قوم آج پھر اسی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ ہمیں آج پھر اپنے ذاتی اختلافات کو بھلا کر ایک ہونا ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے ظلم وجبر کا ایسا کوئی ہتھکنڈہ نہیں چھوڑا جو بے گناہ اور بے سروسامان کشمیری عوام پر آزمایا نہ گیا ہو لیکن کشمیری عوام جرات، پامردگی اور حوصلے سے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے اپنے نصب العین کونہیں چھوڑا۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہونگے۔ برہان مظفر وانی شہید کے مشن کو لے کر نوجوان نسل سر بکف ہو گئی ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کامکروہ فعل بند کرے۔گجرات کا قصائی نریندرمودی مقبوضہ کشمیر کا قصاب بن چکا ہے۔

کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کے بعد اب وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمان ہر روز بھارتی ظلم وستم کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ”کشمیر بنے گا پاکستان“۔ بھارت کے حالیہ انتہاپسندانہ اقدامات کے بعد نہ صرف مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزادی ملے گی بلکہ بھارت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، اس کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور ایسا ہونے میں کوئی زیادہ عرصہ بھی نہیں لگے گا۔ بھارت کے اندر ایسی تحریک شروع ہو چکی ہے جو اب اس کے قابو میں نہیں آ رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 200سے زائد دن ہو چکے ہیں مگر بھارت اپنے مقاصد کے حصول میں ایک فیصد بھی کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ کشمیریوں کا جذبہئ حریت جواں ہے اور وہ اپنی تحریک اسی شدت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ کشمیریوں کی تحریک جلد کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔ بھارت نے 13 ماہ سے زائد عرصہ سے  لاکھوں کشمیریوں کو کرفیوکے ذریعے بھوکا پیاسا قید کر رکھا ہے لیکن بہادر کشمیری آج بھی آزادی کے لیے دس لاکھ بھارتی فوج کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔

 ہم بھارت پر واضح کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حق،حق خودارادیت میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرے۔ کشمیری عوام ریاست جموں و کشمیر کو ناقابل تقسیم وحدت سمجھتے ہیں۔ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام کیلئے وہی حل قابل قبول ہو گا جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحد ہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا اور یہی اس کادیر پا اور پائیدار حل ہو گا۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کشمیر کو پاکستان کے حوالے کر دیا جائے بلکہ پاکستانی عوام اور حکومتوں کا تو ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی رائے معلوم کر لی جائے کہ وہ اپنا مستقبل کیسا چاہتے ہیں مگر دہلی کا بالا دست طبقہ چونکہ بخوبی جانتا ہے کہ کشمیری عوام ہر قیمت پر بھارت سے نجات کے خواہاں ہیں اسی وجہ سے بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نہیں مان رہا اور امریکہ سمیت عالمی برادری کے اکثر حلقے سب کچھ جانتے ہوئے بھی چشم پوشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایسٹ تیمور،جنوبی سوڈان،لیبیا،عراق اور شام کی بابت تو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نام پر ہر قسم کا سخت رویہ روا رکھا جاتا ہے مگر بھارتی حکمرانوں سے ان کے دوہرِیمعیار کی بابت کوئی باز پرس نہیں ہوتی۔

 اقوام متحدہ بھی اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔ کشمیر کا جو حصہ آزاد نہیں ہوا کشمیریوں کا ان کا بنیادی حق خود ارادیت دیا جائے۔تاکہ کشمیری آزادی سے زندگی بسر کر سکیں۔اقوام متحدہ یہودیوں کی ایجنٹ بننے کے بجائے اپنی قراردادوں پو عملدرآمد کروائے۔  مقبوضہ کشمیر میں جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اسرائیل میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی۔عالمی برادری فوری نوٹس لے۔

مزید :

رائے -کالم -