چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے اور عورتوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کروانے کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا ہے ، ڈپٹی ڈائریکٹر سروپ چند مالھی

چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے اور عورتوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین پر ...
 چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے اور عورتوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کروانے کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا ہے ، ڈپٹی ڈائریکٹر سروپ چند مالھی

  

عمرکوٹ (سید ریحان شبیر ) محکمہ سوشل ویلفیر عمرکوٹ اور سماجی تنظیم کمیونٹی ورلڈ سروس ایشاء  کے مشترکہ تعاون سے عورتوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین اور چھوٹی عمر کی شادی کی روک تھام کے حوالے سے جینڈر فورم کے پلیٹ فارم کے تحت ایک نجی پارک میں ورکشاپ منعقد کیا گیا ، اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انور کوٹریو، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر دھارو مل سوتھڑ، کمیونٹی ورلڈ سروس ایشا کی پروجیکٹ منیجر میڈم کرن بشیر ، پروجیکٹ انچارج مکیش کمار، سماجی رہنما عبداللہ کھوسو، محمد بخش کنبھر، سردار بھیو، رشیدہ ساند، ڈسٹرکٹ انگیجمنٹ گروپ کے ممبران ، عمرکوٹ بار کے وکلا، محکمہ پولیس کے نمائندے اور دیگر نے ورکشاپ میں شرکت کی ۔

اس موقع پر محکمہ سوشل ویلفیر کے ڈپٹی ڈائریکٹر سروپ چند مالھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے اور عورتوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کروانے کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا ہے جس کے لیے تمام سٹیک ہولڈر ، سول سوسائٹی ، عمرکوٹ بار کے وکلا اور محکمہ پولیس کے ساتھ مل کر ایک پلیٹ فارم جینڈر فورم بنایا گیا ہے تاکہ یہ فورم مختلف منسلک محکموں اور عوام کے تعاون کے ساتھ مل کر کام کرے اور معاشرے میں ہونے والی چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ضلع عمرکوٹ میں کل 07 کیس چھوٹی عمر کی شادی کے رجسٹرڈ ہوئے ہیں جس میں ملوث پائے جانے والے افراد کو سخت سے سخت سزا کے لیے تمام اسٹیک ہولڈر اپنا بھرپور کردار ادا کریں تاکہ عوام ان سے عبرت حاصل کرسکے ، اس موقع پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے پروجیکٹ منیجر میڈم کرن بشیر نے کہا کہ سماجی تنظیم کمیونٹی ورلڈ سروس ایشا چھوٹی عمر کی شادیوں کو روکنے کے لیے اپنے حصے کا کام کر رہی ہے مگر تمام اسٹیک ہولڈروں کو چاہئے کہ وہ اپنی فیلڈ میں چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے کے لیے آگاہی دیں ، انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹی عمرکی شادی کو روکنے کے لیے بنائے گئے قانون کا سندھی میں سلیبر موجود ہے جیسے بھی عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام میں شعور پیدا ہو سکے ۔

اس موقع پر پروجیکٹ انچارج مکیش کمار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جینڈر فورم وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے اور دیگر عورتوں کے حقوق کے مسائل پر بات کی جا سکتی ہے اور ان مسائل کے حل کے لیے لائے عمل بھی جوڑا جا سکتا ہے اور اس فورم کی رہنمائی محکمہ سوشل ویلفیر کے پاس ہے ، اس موقع پر تمام سماجی رہنماوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور چھوٹی عمر کی شادی کو روکنے کے حوالے سے بھی تجویزات پیش کیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -