اسلام آباد کا جوبھی ایشو اٹھائیں وہاں قانون کی خلاف ورزی نظرآئے گی ، چیف جسٹس اسلام آ باد ہائیکورٹ کے نیوی سیلنگ کلب تعمیر کیس میں ریمارکس

اسلام آباد کا جوبھی ایشو اٹھائیں وہاں قانون کی خلاف ورزی نظرآئے گی ، چیف جسٹس ...
اسلام آباد کا جوبھی ایشو اٹھائیں وہاں قانون کی خلاف ورزی نظرآئے گی ، چیف جسٹس اسلام آ باد ہائیکورٹ کے نیوی سیلنگ کلب تعمیر کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)راول جھیل کے کنارے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کیخلاف کیس میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ تو بہت بڑا مفادات کا ٹکراﺅ ہے ،اسلام آباد کا جوبھی ایشو اٹھائیں وہاں قانون کی خلاف ورزی نظرآئے گی ۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں راول جھیل کے کنارے پاکستان نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ نیول کلب والا پراجیکٹ زون تھری، فارم ہاﺅسز والا پراجیکٹ زون فور میں ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ماسٹر پلان میں کیا ہے ،چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد نے کہاکہ ماسٹرپلان میں زون فور مکمل گرین ایریا تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر 30 سال بعد کسی متاثرہ شخص کو ادائیگی ہوئی بھی تو اس کا کیا فائدہ؟،سی ڈی اے کے پاس آج پیسے آسکتے ہیں تو پہلے کیوں نہیں آسکتے تھے ۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا آپ بتائیں کس نے عام آدمی کیلئے کوئی ہاﺅسنگ سوسائٹی بنائی ؟ ، چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ سی ڈی اے کا سیکٹرآئی 15 ایلیٹ کا نہیں بلکہ عام آدمی کیلئے تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے اور آئی بی رئیل سٹیٹ کے بزنس میں ملوث ہیں ؟، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ تو بہت بڑا مفادات کا ٹکراﺅ ہے ،اسلام آباد کا جوبھی ایشو اٹھائیں وہاں قانون کی خلاف ورزی نظرآئے گی ۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے وفاقی کابینہ یا وزیراعظم کو اس حوالے سے بتایا؟، عدالت نے کہا کہ اگر آپ دوسروں کو پلاٹ دے سکتے ہیں تو مزدور کو کیوں نہیں ؟،ایسا کیوں ہے کوئی ہاﺅسنگ سوسائٹی بنا لیتا ہے پھر آپ کے پاس اپلائی کرتے ہیں ؟۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ کیلئے تو بہت اچھا ہے اس کی اونر شپ ڈائریکٹ وفاقی کابینہ کو چلی جاتی ہے ، وزیراعظم کا جو اپنا وژن ہے سارا کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے، روزانہ کی بنیاد پر ہمارے پاس پٹیشنز بھی آرہی ہیں ،ایساکیوں ہوتا ہے لوگ سوسائٹی بنا لیتے ہیں، پھر این او سی کیلئے اپلائی کرتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے چیئرمین سی ڈی اے سے استفسار کیاکہ کیا آپ کا کوئی اہلکار یول فارم میں جا کر چھاپہ مار سکتا ہے؟،کیا آپ نے کبھی وزیراعظم کو مفادات کے ٹکراﺅ سے متعلق بتایا؟، چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے وزیراعظم کو نہیں بتایا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے کبھی ان اقدامات کا کسی افسر کو ذمہ دار ٹھہرایا؟، ریونیو افسر یا ایس ایچ او متعلقہ لوگ ہوتے ہیں ، یا آپ نے ان کیخلاف کوئی ایکشن لیا؟، کتنے لوگوں کو نوکری سے نکالا گیا؟، چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ ہم نے نوکری سے کسی کو نہیں نکالا لیکن معطل کیا، جب تک پولیس افسر ملوث نہ ہو ریونیو افسر کچھ نہیں کر سکتا، پولیس کا افسر ریاست کی علامت ہے جب وہ وردی میں ہو تو پھر پریشر پڑتا ہے ۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ سیلنگ کلب اسلام آباد میں پہلے بھی تھالیکن سٹرکچر ایسا نہیں تھا،چیف جسٹس نے کہا کہ دستاویز دکھائیں جہاں سی ڈی اے نے سیلنگ کلب بنانے کی اجازت دی ہو؟، چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ سیلنگ کلب موجود تھا لیکن اس کی کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی ، سیلنگ کلب کو نوٹس جاری کئے لیکن عمارت تیزی سے تعمیر کرلی گئی ،وفاقی کابینہ نے معاملہ سی ڈی اے بورڈ کو بھیجا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ہم نے قانون کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے اور کچھ نہیں کرنا،وکلا ،بار ممبرز کو کلب وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہم بھی وہاں کچھ بنا لیں ، جب قانون پر عملدرآمد ہی نہیں تو پھر یہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ ایک سٹرکچر بن چکا تو ہمارے پاس2 آپشن ہیں اسے گرا دیں یا ریگولرائز کردیں ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس کو ریگولرائز کر دینگے تو جو عام آدمی کا گھر بن گیا تو پھر اس کو کس طرح گرا سکتے ہیں ؟، حب الوطنی اس ملک کے آئین کی پاسداری ہے۔

عدالت نے پاکستان نیول فارمز کی تعمیرات روکنے کے حکم امتناع میں 26 ستمبر تک توسیع کردی اورراول جھیل کے کنارے نیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے حکم میں بھی 26 ستمبر تک توسیع کردی۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے چیئرمین سی ڈی اے کو عدالتی حکم امتناع پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوے کہاکہ آپ اپنی ٹیم بھیج کر چیک کریں اور رپورٹ پیش کریں ،چیئرمین سی ڈی اے قانون کی عملدرآمدی یقینی بنانے کے بیان حلفی جمع کرائیں ،عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کو کیسز سے متعلق تفصیلی جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 26 ستمبر تک ملتوی کردی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -