آل پارٹیز کانفرنس ملزمان کا اکٹھ ہے، مجرم تقریر کرے گا تو پیمرا قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، حکومت بھی میدا ن میں آگئی

 آل پارٹیز کانفرنس ملزمان کا اکٹھ ہے، مجرم تقریر کرے گا تو پیمرا قانون کے ...
 آل پارٹیز کانفرنس ملزمان کا اکٹھ ہے، مجرم تقریر کرے گا تو پیمرا قانون کے مطابق کارروائی ہو گی، حکومت بھی میدا ن میں آگئی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیرا طلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی مرزا شہزاد اکبرنے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس ملزمان کا اکٹھ ہو گا،اپوزیشن جماعتوں کی پسند کے افراد بطور جج تعینات نہیں ہو رہے ہیں  اس لئے وہ اب 19ویں ترمیم کا خاتمہ چاہتی ہیں، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے ملکی مفادمیں قانون سازی کی گئی جس کو ناکام بنانے کے لئے اپوزیشن نے تمام حربے استعمال کئے لیکن اسے منہ کی کھانا پڑی،اپوزیشن جماعتوں کے لوگ خود منی لانڈرنگ کرتے رہے ہیں اس لئے وہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قوانین سے خوفزدہ ہیں،پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے قانون سازی ضروری تھی، اپوزیشن جماعتیں حکومتی قوانین کی حمایت کے بدلے نیب قوانین میں ترامیم اور اپنی قیادت کے خلاف کیسوں کو ختم کرانا چاہتی تھی، بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہونے والا شخص اب ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا چاہتا ہے،مجرم تقریر کرے گا تو پیمرا قانون کے مطابق کارروائی ہو گی،مجرموں کو ہیرو بناکر پیش کرنے کی اجازت قانون کا مذاق اڑانا ہو گا۔

 پی آئی ڈی میں وزیر طلاعات سینیٹر شبلی فراز اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی مرزا  شہزاد اکبرنے مشترکہ پریس کانفرنس کی،اس موقع پر  وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز  نے کہا کہ پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس میں اہم قوانین منظور کیے گئے، یہ قانون سازی ملک کے لیے  نہایت اہم تھی،حالیہ قانون سازی  ملک کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے بنیادی شرط تھی، انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمران منی لانڈرنگ میں ملوث تھے،ماضی کے حکمران خود کالا دھن سفید کرتے تھے اسی لیے  قانون  نہیں بناتے تھے،اگرہم قانون سازی نہ کرتے توملک بلیک لسٹ شامل ہو سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ذاتی مفادات کے لئے  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں  منظور  ہونے والے قوانین کے خلاف پورا زور لگایا،حکومت کا ہر اچھا اقدام اور قانون سازی اپوزیشن کیلئے بری خبر ہے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہاپوزیشن کی پوری کوشش رہی کہ پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے،اپوزیشن والوں نے اگر کچھ نہیں کیا تو ان کو قوانین سے کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہوا اب یہ  شخص ویڈیو لنک کے ذریعے  پاکستان میں خطاب کرے گا۔

اس موقع پر مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کوئی ایک ادارہ یا این جی او نہیں  بلکہ مختلف ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک فورس ہے جس نے ہمارے قوانین کا جائزہ لیکر بعض ترامیم اور اصلاحات کی نشاندہی کی،اصلاحات کا مقصد منی لانڈرنگ روکنا اور دہشت گردی کیلئے رقوم کی فراہمی کا خاتمہ کرنا تھا،اپوزیشن فیٹف قوانین کی حمایت کے بدلے نیب قوانین میں من پسند ترامیم چاہتی تھی،حکومت چاہتی ہے کہ ملک جلد سے جلد گرے لسٹ سے نکلے۔معاون خصوصی شہزاداکبر اپوزیشن کا مقصد تھا کہ شہباز شریف اور انکے خاندان کا ”ٹی ٹی کیس“بند کر دیا جائے،اپوزیشن آصف زرداری اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بدعنوانی کیسز بند کرانا چاہتی تھی،اپوزیشن کی جانب سے منی لانڈرنگ کی شق 11میں ترمیم متعارف کرانے کی کوشش کی گئی،حکومت نے اپنے بل میں منی لانڈرنگ قانون کی شق 11کی ذیلی شق 16میں ترمیم کی،شہزاد اکبر نے کہا کہ اپوزیشن منی لانڈرنگ کو ناقابل دست اندازی قانون بنانا چاہتی تھی،دنیا بھر میں منی لانڈرنگ قابل دست اندازی قانون لاگو ہے،اپوزیشن چاہتی تھی کہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے نیب کا اختیار ختم کیا جائے، اپوزیشن چاہتی تھی کہ پاپڑ اور فالودے والوں کے نام پر اکاؤنٹ بنتے رہیں۔

بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ارکان کی گنتی کے حوالے سے پراپیگنڈا خفت مٹانے کی کوشش ہے،قومی اسمبلی اجلاس کی کوریج براہ راست تھی، پریس لاؤنج میں سب صحافی موجود تھے،کیمروں اور صحافیوں کی موجودگی میں غلط گنتی کیسے ممکن تھی، اپوزیشن کی اے پی سی ملزمان کا اکٹھ ہو گا،اپوزیشن جماعتوں کے اپنے جج نہیں لگ رہے اس لئے وہ اب 19ویں ترمیم کا خاتمہ چاہتی ہیں۔

 بیرسٹر شہزاد اکبر نے اپوزیشن کی اے پی سی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہر اچھا حکومتی اقدام اپوزیشن کے لیے بری خبر ہے ،کل اسلام آباد میں ملزموں اور مجرموں کا اکٹھ ہوگا، ان میں سے کوئی بھی سٹیک ہولڈر نہیں، مل بیٹھ کر ملک میں بد امنی اور لاقانونیت پھیلانے کاپلان بنایاجائے گا،  مجرم تقریر کرے گا تو پیمرا قانون کے مطابق کارروائی ہو گی،مجرموں کو ہیرو بناکر پیش کرنے کی اجازت قانون کا مذاق اڑانا ہو گا،اپوزیشن کے اپنے جج نہیں لگ رہے تو وہ اب 19 ویں ترمیم کاخاتمہ چاہتی ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -