وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے کنڈیکٹ پر تحفظات کا اظہار کردیا

وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے کنڈیکٹ پر تحفظات کا اظہار کردیا
وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے کنڈیکٹ پر تحفظات کا اظہار کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آ ن لائن ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ میں جو بھی بات کرتا ہوں و ہ حکومت اور کابینہ کی بات ہوتی ہے،میں یہاں جو بھی بیان کر رہا ہوتا ہوں وہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ حکومت یا کابینہ کی سوچ ہوتی ہے،آج کی پریس کانفرنس کا مقصدیہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر دو مختلف چیزیں ہے،ہمیں الیکشن کمیشن سے کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم جو الیکشن کمشنراب آئے ہیں اور جس قسم کا ان کا کنڈیکٹ رہا ہے اس پر ہمیں بہت سے تحفظات ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ اب جو تازہ مسئلہ سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنی جو رپورٹس بنائیں اس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) کے حق میں جو ڈیٹا تھا اس کو غائب کردیا گیا ہے،اور ایسے اعتراضات رپورٹ میں لگائے گئے جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ فیصلہ کرچکے تھے ہم نے ای وی ایم کے خلاف ووٹ دینے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سماٹ میٹک نام کمپنی نے الیکشن کمیشن کو پریزنٹیشنز دی جس میں انہوں نے ای وی ایم استعمال کرنے والے مختلف ممالک کا ڈیٹا انتخابی ادارے کے سامنے رکھا، فلپائن کی رپورٹ کے مطابق 2007کا الیکشن پیپر بیس الیکشن تھا جس کے نتائج آنے میں چھ ہفتے لگے تھے، 2010میں انہوں نے اپنا پہلا الیکشن ای و ی ایم کے ذریعے کیا اور چند گھنٹوں میں ان کا رزلٹ ڈکلیئر ہوگیا اور پھر انہوں نے 2019میں دوبارہ ای وی ایم کے اوپر الیکشن کیا اور  چند گھنٹوں میں رزلٹ آگیا، 2007کے انتخابات میں عوام کی 35فیصد تعدادنے الیکشن پر اعتماد کیا جبکہ 2010میں عوام کا اعتماد 75فیصد ہوگیا اور 2019میں یہ اعتماد 89فیصد ہوگیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نے ایسی اہم معلومات کو اپنی رپورٹس میں شامل نہیں کیا اور اس کو نکال دیا گیا، 2011سے مسلسل الیکشن کے نظام کو شفاف بنانے کے لئے ای وی ایم کے استعمال پربحث ہورہی ہے اور اس حوالے سے پائلٹس پراجیکٹس ہوئے ، چکوال اور پشاور کے اندر انتخابات اسی طریقہ کار کے تحت کرائے گئے اور وہاں تمام لوگوں نے کہا کہ یہ انتخابات بہت شفا ف ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے 37اعتراضات میں سے 10اعتراضات ای وی ایم سے متعلق ہیں جو کہ بہت ہی بھونڈے قسم کے ہیں، چیف الیکشن کمشنر ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ و ہ اپوزیشن کی زبان بول رہے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے، ہر ادارے کا ایک کردار ہوتا ہے، سیاستدان اوپن جاسکتا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ کوئی ادارہ اپنے آپ کو اپوزیشن کے طور پر پیش کرنا شروع کردے،اور اس مقصد کے لئے ای وی ایم کو فلا پ کرنے کے لئے ایک مہم چلائی جارہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر انتخابات سے  متعلق  حکومتی اصلاحات کے مخالف ہیں، الیکشن کمیشن نے جو بھی انتخابات کرائے ہیں وہ متنازع رہے ہیں اور ہارنے والے نے اپنی شکست تسلیم نہیں کی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -