نوے روز خلا میں قیام کے بعد چینی خلانوردوں کی واپسی 

نوے روز خلا میں قیام کے بعد چینی خلانوردوں کی واپسی 
نوے روز خلا میں قیام کے بعد چینی خلانوردوں کی واپسی 
سورس: Twitter/@GoJiangsu

  

خلا میں قیام کا نوے روزہ  طویل ترین مشن مکمل کرنے کے بعد چینی خلانورد بحفاظت زمین پر واپس لوٹ آئے۔ یہ تاریخی واقعہ چین میں مڈآٹم فیسٹیول تہوار کی چھٹیوں کے آغاز سے محض ایک روز قبل پیش آیا ہے۔ چین میں وسط خزاں کا تہوار اپنے گھروں کو واپسی اور اپنوں سے ملنے کا اہم موقع ہوتا ہے۔ لہذا اپنوں کی بحفاظت زمین پر واپسی پر تمام چینی مسرور دکھائی دیتے ہیں۔  چینی مشن میں شریک عملے کے ارکان جمعے کے روز شمالی چین کے اندرون منگولیا خود اختیار علاقے کے صحرائے گوبی میں واقع ڈونگ فینگ لینڈنگ سائٹ پر بحفاظت اترے۔ 

چین کی انسان بردار خلائی ایجنسی (سی ایم ایس اے) کے مطابق ، شینزو -12 کا ریٹرن ماڈیول جمعہ کی رات 12:43 بجے مدار کے ماڈیول سے الگ ہوا ، اور اس کے بعد پروپیلنٹ کی مدد سے اس کی ہموار علیحدگی ہوئی۔تینوں خلابازوں جن میں  مشن کمانڈر نی ہائی شینگ اور ان کے ساتھی عملے کے ارکان لیو بومنگ اور تانگ ہونگ بو شامل ہیں  کو لے کر  واپسی کا کیپسول دوپہر 1:34 بجے لینڈنگ سائٹ پر چھو گیا۔ 

 واضح رہے کہ چین کا شینزو 12 انسان بردار خلائی جہاز نے سولہ جون کو  کامیاب اُڑان بھرنے کے سات گھنٹے بعد 3 چینی خلا نوردوں کو خلائی اسٹیشن ’’تھیان حے‘‘ میں پہنچایا تھا۔ اس مرحلے کو چینی خلائی اسٹیشن کی تعمیر میں ایک اور بڑی پیش رفت بھی قرار دیا گیا سولہ جون کی صبح 9 بج کر 22 منٹ پر چین کا شینژو 12 انسان بردار خلائی جہاز تین خلا نوردوں کے ساتھ ’’جیوچھوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر‘‘ سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔ اس کے بعد یہ خلائی جہاز طے شدہ مدار میں داخل ہوا اور تین خلا نوردوں کو خلا میں لے گیا۔شینژو 12 انسان بردار خلائی جہاز چین میں اب تک تیار ہونے والا، اعلی ترین معیار والا انسان بردار خلائی جہاز ہے۔ یہ مداروی (آربٹر) ماڈیول، واپسی کے (ریٹرن) ماڈیول اور پروپلشن ماڈیول پر مشتمل ہے جبکہ جہاز میں مجموعی طور پر 14 ذیلی نظام ہیں۔ موجودہ خلائی مشن، خلائی اسٹیشن کی کلیدی ٹیکنالوجی کے تصدیقی مرحلے میں چوتھا مشن ہے اور خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے مرحلے میں پہلا انسان بردار مشن بھی تھا۔ 

لینڈنگ سائٹ پر موجود سرچ اینڈ ریسکیو اسٹاف نے قومی ہیروز کے زمین پر پہنچتے ہی فوری ردعمل کا مظاہرہ کیا اور خلانوردوں جسمانی اور ذہنی صحت کی تصدیق کی۔ انسان برادر خلائی مشنز کے حوالے سے چین کی تازہ ترین کامیابی چین کی سائنسی میدان میں ترجیحات اور کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ 

ریسکیو ٹیموں نے خلانوردوں کو لینے کے بعد ہر خلانورد کو الگ الگ میڈیکل ٹیموں کے حوالے کیا۔ ریٹرننگ کیپسیول کی زمین پر واپسی کے ایک گھنٹہ چالیس منٹ بعد خلا نورود کیپسیول سے باہر آئے۔ 

خلانورد لیو بونگ کے لئے یہ لینڈنگ اس حوالے سے بھی یادگار اور تاریخی ہوگئی کہ یہ ان کی سالگرہ کا دن تھا۔ اس موقع پر لیو بومنگ نے کہا کہ سالگرہ کے دن زمین پر واپسی نے میری خوشی کو دوبالا کردیا ہے اور میرے لئے ایک بار پھر وسیع خلا میں پہنچنا خوشی اور اعزاز کا باعث تھا۔ 

شینزو 12 کا عملہ تقریباً 8:40 پر بحفاظت بیجنگ پہنچا۔ اس موقع پر ہوائی اڈے پر ایک مختصر استقبالیہ تقریب ہوئی۔ یہ مناظر سی سی ٹی وی نے براہ راست نشر کئے۔ تینوں خلانورد اب معمول کے قرنطین اور آرام سے گزریں گے۔ 

یہ سارا عمل اتنا ہموار تھا کہ تانگ ہونگ بو کو زمین پر لوٹنے کے عمل کے دوران قلم سے کھیلتے ہوئے دیکھا گیا۔ 

جب ریٹرن کیپسول زمین کے ماحول میں داخل ہورہا تھا تو چینی خلانورد نی ہائی شینگ نے اپنے ساتھی کو ازراہ مذاق ایک چینی کہاوت سنائی، "اصلی سونے کو آگ سے ڈر نہیں لگتا۔ 

جلد ہی چین کا ایک اور انسان بردار مشن شینزو 13 خلا کی جانب روانہ ہوگا اور چینی خلائی اسٹیشن کی تعمیر کے کاموں میں خدمات سرانجما دے گا۔ آئندہ جانے والا عملہ خلا میں چھ ماہ تک قیام کرے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس عملے کے ہمراہ چینی خلائی اسٹیشن میں داخل ہونے والی پہلی خاتون خلانورد بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ 

واضح رہے کہ ڈونگ فینگ سائٹ نے پہلی مرتبہ خلا سے آنے والے مہمانوں کو موصول کیا۔  سائٹ کی تبدیلی کا مقصد چینی مشن کی   واپسی صلاحیتوں اور کنٹرول کو  جانچنا تھا۔  

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -