تاریخ کے جھروکے سے

 تاریخ کے جھروکے سے
 تاریخ کے جھروکے سے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ممتاز صحافی فاروق اقدس نے کچھ دن پہلے فیس بک پر ایک تصویر بھیجی جس میں اُن کے علاوہ چوہدری قدرت اللہ، نوید معراج، ضیاء اقبال شاہد، آصف شبیر، انیق ظفر اور یہ قلمکار لیبیا کیلیجنڈ حکمران کرنل قذاتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان میں سے قدرت اللہ چوہدری اور ضیاء اقبال شاہد اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ کہتے ہیں ایک تصویر لاکھوں الفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ اِس تصویر کے پیچھے بھی ایک تاریخ پوشیدہ ہے۔ یہ مارچ 1995ء کی بات ہے  اور مقام لیبیا کا ایک شہر طروق ہے۔ کرنل قذاتی ایک تاریخ ساز اور وکھری ٹائپ کا لیڈر تھا وہ ایک فوجی انقلاب کے نتیجے میں 1969ء سے اکتوبر 2011ء تک لیبیا پر حکمران رہا۔ 2011ء میں عرب سپرنگ کا شکار ہو گیا اُن کی موت کے بعد آج تک لیبیا میں حالات نارمل نہیں ہو سکے۔ کرنل قذاتی نے بھٹو دور میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کی اور بہت سی یادیں چھوڑ گئے۔ لاہور کا قذافی سٹیڈیم ہمیشہ اُن کی یاد دلاتا ہے بعد میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے ایک دفعہ لیبیا کا دورہ کیا اور کرنل قذافی کو پاکستان آنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہیں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کئے گئے سلوک کا افسوس تھا۔


1995ء میں مجھے سرکاری ٹور پر لیبیا جانے کا موقع ملا۔ جنگ کے رپورٹر ضیاء اقبال شاہد بھی میرے ہمسفر تھے۔ سفر طویل تھا کافی وقت ہمیں قاہرہ ایئرپورٹ پر رکنا پڑا اور پھر رات مالٹا میں ہلٹن ہوٹل میں گزری اور اگلے دن ایک بحری جہاز کے ذریعے طرابلس پہنچے۔1980ء میں برطانیہ میں لاکربی کے مقام پر ایک امریکی طیارہ گرانے کے الزام میں لیبیا پر فضائی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ اِن پابندیوں کے نتیجے میں کوئی فلائیٹ لیبیا نہیں آ سکتی تھی اور نہ ہی لیبیا کا کوئی جہاز کسی ملک میں اُتر سکتا تھا لہٰذا لیبیاسمندر یا روڈ کے ذریعے جایا جا سکتا تھا۔ طرابلس میں ہمارا قیام فائیو سٹار ہوٹل المہاری میں رہا۔ تین دن ہم بے کار گھومتے رہے۔ صورتحال بالکل غیریقینی تھی لیکن یہ لیبیا میں نارمل تھا ہم سے پہلے ایک دفعہ ممتاز صحافی مرحوم شورش ملک کی قیادت میں ایک تین رکنی وفد وہاں دورے پر پہنچا وہ بھی تین دن ہوٹل میں قیام پذیر رہے کسی نے اُن کی خبرگیری نہیں کی بعد میں پتہ چلا کہ پروٹوکول آفیسر انہیں ہوٹل پہنچا کر چھٹی پر چلا گیا اور کسی کو اِس وفد کے بارے میں نہیں بتایا۔یہ واقعہ ایمبسیڈرنذرعباس مرحوم نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے۔ ہم نے بھی اتفاق سے تین دن بعد سفارتخانے سے رابطہ کیا ایمبیسیڈر آفتاب صاحب سے بات کی انہوں نے فوراً گاڑی بھیجی اور پھر چائے پر طویل بات چیت رہی۔ آفتاب صاحب سے اسلام آباد کلب میں کچھ عرصہ پہلے تک ملاقات ہو جاتی تھی اب وہ نظر نہیں آ رہے۔


چوتھے دن ہمیں بائی ایئر البیدہ پہنچا دیا گیا اور اُس سے اگلے دن بائی روڈ ہم طروق پہنچے۔ وہاں ہمیں سیدھا ایک پبلک جلسے میں پہنچا دیا گیا جہاں کرنل قذافی خطاب کر رہے تھے۔ ہمارے لئے ذرا نئی چیز یہ تھی کہ اُن کے اِرد گرد سیکورٹی وردی پوش خواتین ڈیوٹی پر تھیں۔ رات ہوٹل طبروق میں قیام رہا۔ اِس دوران صحافیوں کا ایک گروپ جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے آن پہنچا۔ اگلے دن اُسی ہوٹل میں کرنل قذافی سے ملاقات ہوئی۔ ضیاء اقبال شاہد نے اُن کا ہاتھ چوم لیا اس پر وہ مسکرائے۔ کرنل قذافی نے بات چیت میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں شورش کے پیچھے غیرملکی ہاتھ ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر حملہ کر سکتا ہے۔ امریکہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد اسلام اُن کا ہدف ہے۔

مزید :

رائے -کالم -