مضبوط معیشت ،مضبوط پاکستان

مضبوط معیشت ،مضبوط پاکستان
مضبوط معیشت ،مضبوط پاکستان

  

پاکستان مسلم لیگ(ن)نے عوام کے احساسات و جذبات کے مطابق منشور کا اعلان کردیا ہے، ملک کو درپیش سنگین بحرانوں سے نکالنے کاعزم کیا ہے اور عوامی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے ۔مسلم لیگ(ن)کے صدر محمد نواز شریف نے منشور کا اعلاپاکستان مسلم لیگ(ن)نے عوام کے احساسات و جذبات کے مطابق منشور کا اعلان کردیا ہے، ملک کو درپیش سنگین بحرانوں سے نکالنے کاعزم کیا ہے اور عوامی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے ۔مسلم لیگ(ن)کے صدر محمد نواز شریف نے منشور کا اعلان کر کے قوم سے وعدہ کیا کہ اقتدار ملنے کی صورت میں توانائی کے بحران کا خاتمہ ، مضبوط معیشت ،تعلیمی اصلاحات ،روزگار کے مواقع ، فوری انصاف ،زرعی ترقی،جدید انفراسٹرکچر،منصفانہ احتساب کا نظام ،زرعی برآمدات،امن وامان قائم کرنا ، بین الصوبائی ہم آہنگی اور گڈ گورننس پاکستان مسلم لیگ (ن)کی اولین ترجیحات ہوں گی۔ منشور میں مزدور کی تنخواہ کم سے کم 15ہزار روپے ،توانائی بحران کا 2سال میں خاتمہ،کوئلے سے 5ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے اور اقتدار ملنے کی صورت میں 6ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانا ،ہزارہ،بہاولپور اور جنوبی پنجاب سمیت 3نئے صوبے بنانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے 30لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرنے کااعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ(ن)کا اعلان کردہ انتخابی منشور 2013ءانتہائی متاثر کن ہے، جس میں ملک کو درپیش تمام مسائل حل کرنے کا عزم کا اظہار کیاگیا ہے ۔ملک میں اس وقت امن وامان کا قیام یقینا بڑا چیلنج ہے، جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہو گا، معیشت میں بہتری نہیں آسکتی ۔فاٹا میں امن کا قیام ملک میں امن کے قیام سے مشروط ہے اورمسلم لیگ(ن)کے منشور میں امن کی بحالی اولین ترجیح ہے، جبکہ کراچی کو پھرسے روشنیوں کا شہر بنانے کا عزم بھی کیاگیا ہے ۔ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کر کے ان کے مطالبات منظور کئے جائیں گے اور بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لئے مسلم لیگ(ن)بلوچ بھائیوں کو ساتھ لے کر چلے گی ۔مسلم لیگ(ن)کے صدر محمد نواز شریف نے منشور کا حصہ بنایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آکر ڈرون حملے بند کرائے گی ۔قبائلی علاقوں کو پاکستان کے دیگر شہریوں کے برابر سیاسی حقوق دے کر ان علاقوں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا اور ان علاقوں میں سکول ،ٹیکینکل تربیت کے ادارے قائم کئے جائیں گے، تاکہ لوگوں کو نہ صرف مقامی سطح پر روزگار ملے، بلکہ انہیں بیرون ممالک روزگار حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے اور قبائلی علاقوں میں چھوٹی، بڑی صنعتیں بھی قائم کی جائیں گی۔قومی ادارے پی آئی اے ،سٹیل ملز، پاکستان ریلوے،واپڈا اور دیگر تجارتی اداروں کا خسارہ چار سو ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، مسلم لیگ(ن)ان اداروں کی اصلاح اور نجکاری کے ذریعے اس نقصان کو کم سے کم کرے گی اور انہیں منافع بخش ادارے بنائے گی ۔ ملک میں کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون سے 500گھروں پر مشتمل ایک ہزار بستیاں تعمیر کی جائیں گی، اس طرح پانچ لاکھ خاندانوں کو سر چھپانے کے لئے چھت مہیا ہو گی۔ مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لئے مسلم لیگ(ن)کی حکومت سادگی مہم شروع کرے گی،وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرے گی۔ قصر صدارت، وزیراعظم ہاﺅس ،گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کے رہائشی اخراجات میں کمی کی جائے گی۔ زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور زرعی تحقیقاتی اداروں کو جدید بنایا جائے گا، جس سے فصلوں، باغات وغیرہ کی پیداوار اور اقسام میں اضافہ ہو گا اور اس کا فائدہ کسانوں تک پہنچے گا، اس اقدام سے مجموعی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور ملکی معیشت میں خاصی ترقی ہو گی۔مسلم لیگ(ن) اصلاحات اراضی پروگرام کے تحت مزید اراضی کو قابل کاشت بنائے گی اور اسے بے زمین ہاری خواتین اور مزارعین میں تقسیم کیا جائے گا ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)صحت کے موجودہ بجٹ میں تین گنا اضافہ کر کے اسے 2018ءتک مجموعی قومی پیداوار کا 2فیصد کردے گی ۔انتہائی نادار افراد کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لئے ملک بھر میں ”نیشنل ہیلتھ انشورنس سکیم“شروع کی جائے گی، جسے بعد میں ملک بھر میں وسعت دی جائے گی۔ خواتین کی تعلیم، بالخصوص پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مالیاتی اداروں ،اعلیٰ عدلیہ،صحت و تعلیمی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بالخصوص انتظامی سطح پر خواتین کی شمولیت کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔ حق دار خواتین کے لئے وراثت اور جائیداد میں حق کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔کارکن خواتین کو دفاتر اور کام کرنے کے دیگر مقامات پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف محتسب تعینات کئے جائیں گے ۔کاروبار کرنے والی خواتین کی ترقی کے لئے ”ویمن انٹر پرینیور شپ فنانس سکیم “کا اجراءکیا جائے گا ۔پولیس کو غیر سیاسی اور انتہائی تربیت یافتہ، فرض شناس اور قانون نافذ کرنے والی فورس بنایا جائے گا، نیز پولیس کو تفتیش کے لئے جدیدسائنسی آلات سمیت تمام سہولتیں مہیا کی جائیں گی ۔تھانہ کلچر میں بھی اصلاحات کی جائیں گی اور پولیس میں گریڈ 11 سمیت تمام بھرتیاں متعلقہ صوبوں کے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں گی۔پانچ سال کے اندر تمام تھانوں کو مثالی پولیس سٹیشن بنا دیا جائے گا۔ایس ایچ او اور دیگر عملے کو مظلوموں کی دادرسی کے لئے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)ایک فعال انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی وضع کرے گی، جس کے تحت براہ راست اور بالواسط 10 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی ۔صحافیوں کے لئے ایک جامع انشورنس سکیم کا آغاز کیا جائے گا تاکہ اگر کوئی صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے خدانخواستہ حادثاتی موت کا شکار یا زخمی ہو جائے، تومعقول معاونت کی جا سکے۔ صحافیوں کی تربیت کے لئے بھی فنڈ قائم کیا جائے گا ۔پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو خود مختار ادارہ بنایا جائے گا ۔

محمد نواز شریف ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، جہاں پرعدل و انصاف کا نظام ہو،جہاں کرپشن کا خاتمہ ہو، جہاں مظلوموں کو انصاف ملے، جہاں ظالم کو سزا ملے ، جہاں گڈ گورننس ہو ،جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں عدلیہ آزاد ہو ،جہاں ڈرون حملے نہ ہوں ،جہاں بلوچ عوام کو بھی انصاف ملے ،جہاں معیشت مضبوط ہو ،جہاں توانائی اور گیس بحران نہ ہو،جہاںاسلامی نظام کا نفاذ ہو، جہاں غربت کا خاتمہ ہو،جہاں ترقی اور خوشحالی ہو ،جہاں سبز پاسپورٹ کی عزت ہو ،جہاں پسماندگی اور ناخواندگی کا خاتمہ ہو ،جہاں ہر بچے کے ہاتھ میں قلم ہو ،جہاںامن ہو ،جہاںماﺅں، بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوں،جہاں فرقہ ورانہ فسادات نہ ہوں ،جہاںدانش ماڈل سکول بنیں، جہاںذہین طلبہ کو لیپ ٹاپ ملیں،جہاں میٹرو بسیں چلیں،جہاںبلٹ ٹرینیں چلیں،جہاں موٹر وے بنے، جہاں بے گھر افراد کو چھت ملے ،جہاں نوکریاں میرٹ پر ملیں،جہاں نوجوانوں کو روزگار ملے،جہاں خودکشیوں کا خاتمہ ہو،جہاںمہنگائی کا خاتمہ ہو ،جہاںکشکول کا خاتمہ ہو،جہاں مزدور خوشحال ہو،جہاںکسان خوشحال ہو، جہاں یتیموں،بیواﺅں کی کفالت ہو ،جہاں اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہو،جہاں وزرائے اعلیٰ عوام کے خادم ہوں،جہاں قومی خزانہ عوام کی امانت ہو ،جہاں اقرباءپروری کا خاتمہ ہو،جہاں خارجہ پالیسی آزا د اور خودمختار ہو،جہاں امریکی ڈکٹیشن کا خاتمہ ہواور جہاں قوم کے مستقبل کے فیصلے منتخب پارلیمنٹ میں ہوں ۔ ٭

ن کر کے قوم سے وعدہ کیا کہ اقتدار ملنے کی صورت میں توانائی کے بحران کا خاتمہ ، مضبوط معیشت ،تعلیمی اصلاحات ،روزگار کے مواقع ، فوری انصاف ،زرعی ترقی،جدید انفراسٹرکچر،منصفانہ احتساب کا نظام ،زرعی برآمدات،امن وامان قائم کرنا ، بین الصوبائی ہم آہنگی اور گڈ گورننس پاکستان مسلم لیگ (ن)کی اولین ترجیحات ہوں گی۔ منشور میں مزدور کی تنخواہ کم سے کم 15ہزار روپے ،توانائی بحران کا 2سال میں خاتمہ،کوئلے سے 5ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے اور اقتدار ملنے کی صورت میں 6ماہ میں بلدیاتی انتخابات کرانا ،ہزارہ،بہاولپور اور جنوبی پنجاب سمیت 3نئے صوبے بنانے کے عزم کا اظہار کیا ۔ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے 30لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرنے کااعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ(ن)کا اعلان کردہ انتخابی منشور 2013ءانتہائی متاثر کن ہے، جس میں ملک کو درپیش تمام مسائل حل کرنے کا عزم کا اظہار کیاگیا ہے ۔ملک میں اس وقت امن وامان کا قیام یقینا بڑا چیلنج ہے، جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہو گا، معیشت میں بہتری نہیں آسکتی ۔فاٹا میں امن کا قیام ملک میں امن کے قیام سے مشروط ہے اورمسلم لیگ(ن)کے منشور میں امن کی بحالی اولین ترجیح ہے، جبکہ کراچی کو پھرسے روشنیوں کا شہر بنانے کا عزم بھی کیاگیا ہے ۔ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کر کے ان کے مطالبات منظور کئے جائیں گے اور بلوچستان میں حالات کی بہتری کے لئے مسلم لیگ(ن)بلوچ بھائیوں کو ساتھ لے کر چلے گی ۔مسلم لیگ(ن)کے صدر محمد نواز شریف نے منشور کا حصہ بنایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آکر ڈرون حملے بند کرائے گی ۔قبائلی علاقوں کو پاکستان کے دیگر شہریوں کے برابر سیاسی حقوق دے کر ان علاقوں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا اور ان علاقوں میں سکول ،ٹیکینکل تربیت کے ادارے قائم کئے جائیں گے، تاکہ لوگوں کو نہ صرف مقامی سطح پر روزگار ملے، بلکہ انہیں بیرون ممالک روزگار حاصل کرنے کے قابل بنایا جا سکے اور قبائلی علاقوں میں چھوٹی، بڑی صنعتیں بھی قائم کی جائیں گی۔قومی ادارے پی آئی اے ،سٹیل ملز، پاکستان ریلوے،واپڈا اور دیگر تجارتی اداروں کا خسارہ چار سو ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، مسلم لیگ(ن)ان اداروں کی اصلاح اور نجکاری کے ذریعے اس نقصان کو کم سے کم کرے گی اور انہیں منافع بخش ادارے بنائے گی ۔ ملک میں کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون سے 500گھروں پر مشتمل ایک ہزار بستیاں تعمیر کی جائیں گی، اس طرح پانچ لاکھ خاندانوں کو سر چھپانے کے لئے چھت مہیا ہو گی۔ مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لئے مسلم لیگ(ن)کی حکومت سادگی مہم شروع کرے گی،وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرے گی۔ قصر صدارت، وزیراعظم ہاﺅس ،گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کے رہائشی اخراجات میں کمی کی جائے گی۔ زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور زرعی تحقیقاتی اداروں کو جدید بنایا جائے گا، جس سے فصلوں، باغات وغیرہ کی پیداوار اور اقسام میں اضافہ ہو گا اور اس کا فائدہ کسانوں تک پہنچے گا، اس اقدام سے مجموعی زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور ملکی معیشت میں خاصی ترقی ہو گی۔مسلم لیگ(ن) اصلاحات اراضی پروگرام کے تحت مزید اراضی کو قابل کاشت بنائے گی اور اسے بے زمین ہاری خواتین اور مزارعین میں تقسیم کیا جائے گا ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)صحت کے موجودہ بجٹ میں تین گنا اضافہ کر کے اسے 2018ءتک مجموعی قومی پیداوار کا 2فیصد کردے گی ۔انتہائی نادار افراد کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لئے ملک بھر میں ”نیشنل ہیلتھ انشورنس سکیم“شروع کی جائے گی، جسے بعد میں ملک بھر میں وسعت دی جائے گی۔ خواتین کی تعلیم، بالخصوص پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مالیاتی اداروں ،اعلیٰ عدلیہ،صحت و تعلیمی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بالخصوص انتظامی سطح پر خواتین کی شمولیت کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔ حق دار خواتین کے لئے وراثت اور جائیداد میں حق کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔کارکن خواتین کو دفاتر اور کام کرنے کے دیگر مقامات پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف محتسب تعینات کئے جائیں گے ۔کاروبار کرنے والی خواتین کی ترقی کے لئے ”ویمن انٹر پرینیور شپ فنانس سکیم “کا اجراءکیا جائے گا ۔پولیس کو غیر سیاسی اور انتہائی تربیت یافتہ، فرض شناس اور قانون نافذ کرنے والی فورس بنایا جائے گا، نیز پولیس کو تفتیش کے لئے جدیدسائنسی آلات سمیت تمام سہولتیں مہیا کی جائیں گی ۔تھانہ کلچر میں بھی اصلاحات کی جائیں گی اور پولیس میں گریڈ 11 سمیت تمام بھرتیاں متعلقہ صوبوں کے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں گی۔پانچ سال کے اندر تمام تھانوں کو مثالی پولیس سٹیشن بنا دیا جائے گا۔ایس ایچ او اور دیگر عملے کو مظلوموں کی دادرسی کے لئے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)ایک فعال انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی وضع کرے گی، جس کے تحت براہ راست اور بالواسط 10 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی ۔صحافیوں کے لئے ایک جامع انشورنس سکیم کا آغاز کیا جائے گا تاکہ اگر کوئی صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے خدانخواستہ حادثاتی موت کا شکار یا زخمی ہو جائے، تومعقول معاونت کی جا سکے۔ صحافیوں کی تربیت کے لئے بھی فنڈ قائم کیا جائے گا ۔پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کو خود مختار ادارہ بنایا جائے گا ۔

محمد نواز شریف ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، جہاں پرعدل و انصاف کا نظام ہو،جہاں کرپشن کا خاتمہ ہو، جہاں مظلوموں کو انصاف ملے، جہاں ظالم کو سزا ملے ، جہاں گڈ گورننس ہو ،جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں عدلیہ آزاد ہو ،جہاں ڈرون حملے نہ ہوں ،جہاں بلوچ عوام کو بھی انصاف ملے ،جہاں معیشت مضبوط ہو ،جہاں توانائی اور گیس بحران نہ ہو،جہاںاسلامی نظام کا نفاذ ہو، جہاں غربت کا خاتمہ ہو،جہاں ترقی اور خوشحالی ہو ،جہاں سبز پاسپورٹ کی عزت ہو ،جہاں پسماندگی اور ناخواندگی کا خاتمہ ہو ،جہاں ہر بچے کے ہاتھ میں قلم ہو ،جہاںامن ہو ،جہاںماﺅں، بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوں،جہاں فرقہ ورانہ فسادات نہ ہوں ،جہاںدانش ماڈل سکول بنیں، جہاںذہین طلبہ کو لیپ ٹاپ ملیں،جہاں میٹرو بسیں چلیں،جہاںبلٹ ٹرینیں چلیں،جہاں موٹر وے بنے، جہاں بے گھر افراد کو چھت ملے ،جہاں نوکریاں میرٹ پر ملیں،جہاں نوجوانوں کو روزگار ملے،جہاں خودکشیوں کا خاتمہ ہو،جہاںمہنگائی کا خاتمہ ہو ،جہاںکشکول کا خاتمہ ہو،جہاں مزدور خوشحال ہو،جہاںکسان خوشحال ہو، جہاں یتیموں،بیواﺅں کی کفالت ہو ،جہاں اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہو،جہاں وزرائے اعلیٰ عوام کے خادم ہوں،جہاں قومی خزانہ عوام کی امانت ہو ،جہاں اقرباءپروری کا خاتمہ ہو،جہاں خارجہ پالیسی آزا د اور خودمختار ہو،جہاں امریکی ڈکٹیشن کا خاتمہ ہواور جہاں قوم کے مستقبل کے فیصلے منتخب پارلیمنٹ میں ہوں ۔ ٭

مزید :

کالم -