نئے انتخاب: پیپلزپارٹی کے نئے نعرے!

نئے انتخاب: پیپلزپارٹی کے نئے نعرے!

  

عام انتخابات میں تقریباً تین ہفتے رہ گئے،جب یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ ملک پر آئندہ کس جماعت کی حکومت ہوگی اور عوام کسے یہ اعزاز بخشیں گے۔ابھی تو کاغذات نامزدگی کی حد تک مرحلہ مکمل ہوا اور امیدواروں کو انتخابی نشان مل گئے۔آج حتمی فہرست بھی سامنے آجائے گی۔اس وقت ملک میں جو اہم جماعتیں حصہ لے رہی ہیں ان میں پاکستان پیپلزپارٹی، پاکستان مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف وہ جماعتیں ہیں جن کے امیدوار چاروں صوبوں میں ہیں، ان کے بعد جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی ،ایم کیو ایم اور جمعیت علماءاسلام(ف) کا نمبرآجاتا ہے،جبکہ پاکستان مسلم لیگ(فنکشنل)سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کے امیدوار بھی انتخاب لڑ رہے ہیں، اس مرتبہ آزاد امیدواروں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، ان میں ایسے امیدوار بھی ہیں جو اپنی اپنی جماعتوں سے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے برہم ہو کر آزاد حیثیت سے میدان میں اترے ہیں اور ایسا احساس ہوتا ہے کہ مستقبل میں شاید آزاد حیثیت سے جیتنے والے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ جماعتوں کی مقبولیت اور امیدواروں کے حوالے سے تجزیئے ہوتو رہے ہیں، تاہم انتخابی مہم موثر طور پر شروع نہ ہو سکنے کے باعث یہ تجزیئے جماعتوں اور امیدواروں کی حیثیت اور مقبولیت کے حوالے ہی سے ہیں، چند روز کے بعد تصویر کچھ زیادہ واضح ہو سکے گی۔تمام سیاسی جماعتوں نے مستقبل کے لئے اپنے اپنے پروگرام بھی پیش کردیئے ہیں اور ان کی تشہیر بھی کی جارہی ہے۔ برادرم ضیاءکھوکھر نے پاکستان پیپلزپارٹی کے منشور کا اختصار یہ بھیجا ہے جو منشور کے اہم نکات پر مشتمل ہے۔اس پر نظر ڈالتے ہوئے آخری صفحے پر آئے تو اچانک تعجب سا ہوا۔ پیپلزپارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کو تو اپنائے ہی رکھا ہے، لیکن اس میں شاعرانہ قسم کا اضافہ کردیا ہے۔اب کچھ یوں کہا گیا۔ روٹی،کپڑا اور مکان، علم صحت سب کو کام، دہشت سے محفوظ عوام اور اونچا ہو،جمہور کا نام،پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے قیام کے وقت جو بنیادی نکات مرتب کئے ۔وہ کچھ یوں تھے، اسلام ہمارا دین ہے۔جمہوریت ہماری سیاست ہے۔سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ پھر بات آگے بڑھی تو مولانا کوثر نیازی اور محمد حنیف رامے کے ذہن رسا کے باعث سوشلزم کو مساوات محمدی سے تبدیل کیا گیا اس سے پہلے اسلامی مساوات بھی کردیا گیا تھا،بہرحال پھرذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کے بعد شہادت ہماری منزل ہے کا اضافہ بھی ہوا اور یوں پھر بی بی بھی شہید ہوگئیں۔اس پورے عرصے میں روٹی،کپڑا اور مکان کی بات ہمیشہ کی گئی،تاہم اب اس میں یہ شاعرانہ اضافہ معروضی حالات کی بناءپر کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی کو اے این پی سمیت شدت پسندوں کی عملی نوعیت کی دھمکیوں کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ایک طرف انتخابی عمل جاری ہے اور دوسری طرف انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ کارروائیاں ہورہی ہیں۔

ان حالات میں جماعتوں کی طرف سے جو منشور پیش کئے گئے وہ سب تحریر اور کتابچوں کی شکل میں ہیں اور پارٹی کے رہنما اپنی تقریروں میں ذکر کرتے ہیں، لیکن ایسا ماحول نہیں بن پا رہا ،جس میں عوام منشوروں کا موازنہ کر پائیں، پھر بھی ہر جماعت نے اپنے پروگرام کی تشہیر ضرور کی ہے اور کررہی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے جو منشور دیا وہ بھی معروضی حالات ہی کے مطابق ہے اس میں جمہوری حکومت کا پانچ سال تک چلنا، مفاہمت کی پالیسی ،1973ءکے آئین کی بحالی اور صدر کی طرف سے پارلیمنٹ کو اختیارات کی منتقلی کا ذکر کیاگیا ہے، اس کے ساتھ ہی عوام کے لئے کچھ نہ کچھ کرنے کا عزم ہے اور خاص طور پر توانائی کے بحران پر قابو پانے اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے کا وعدہ ہے۔ پیپلزپارٹی کے منشور میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ذکر ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام سے آبادی کا 18فیصد حصہ مستفید ہوا۔آئندہ اسے مزید توسیع دی جائے گی۔وظیفہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر دو ہزار روپے ماہانہ کردیا جائے گااور اسی پروگرام کے تحت نوجوانوں کو صحت، انشورنس،تعلیم اور روزگار کی فراہمی کا انتظام بھی کیا جائے گا،جبکہ کارکن کی کم از کم تنخواہ اگلے پانچ سال میں 18ہزار روپے تک کردی جائے گی۔منشور میں مستقبل کے ڈھانچے کے حوالے سے یہ خوش کن اطلاع دی گئی کہ کم ازکم 12ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے لئے پانی، کوئلے اور گیس سے استفادہ کیا جائے گا، یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ سیوریج کے نظام کو وسیع کرکے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا عمل ہوگا،جبکہ صوبوں کو موٹرویز کے ذریعے آپس میں ملایا جائے گا۔منشور کی زیادہ تفصیلات کے لئے کالم میں گنجائش نہیں، بہرحال منشور سابقہ منشوروں کی جدید شکل ہے اور بنظرظاہر اچھا ہے،تاہم عوام تک تو نعرے ہی پہنچتے ہیں اور پیپلزپارٹی آج بھی زندہ ہے۔بھٹو زندہ ہے، زندہ ہے بی بی زندہ ہے اور مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی ،کپڑا اور مکان ہی کی بات کررہی ہے اسی طرح دوسری جماعتیں بھی اپنے پروگرام کی تشہیر کررہی ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ پروگرام اپنی جگہ ہیں، انتخابات میں تو کچھ اور بھی عناصر کام آتے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -