جنرل مشرف گرفتار؟

جنرل مشرف گرفتار؟

  

18 مارچ کو جمعرات تھی اور پیروں فقیروں کا دن تھا۔ مَیں ذاتی کام کے سلسلے میں اسلام آباد جا رہا تھا، چھوٹا بھائی بھی ہمراہ تھا۔ موٹر وے پر چڑھے تو صبح کے 9 بج رہے تھے اور گرد و نواح کی وسیع اور آبادیوں کے آزارِ ہجوم سے آزاد وسعتوں میں خنک ہوائیں چل رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد جب بائیں طرف ”کالا شاہ کاکو“ کا بورڈ نظر پڑا تو مَیں نے نجانے کس ترنگ میں غالب کا یہ مصرع گنگنایا اور ساتھ ہی سردھننا شروع کردیا:حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے۔چھوٹا بھائی بھی کہ میری طرح زاہد کے باغِ رضوان کا ستائش گر رہتا ہے، اس نے بھی یہ مصرعہ سن کر شعر کا دوسرا مصرعہ پڑھ دیا: جہاں ہم ہیں وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے.... اور ساتھ ہی کہا کہ آپ کو معلوم ہے ناں کہ آج کا دن جنرل پرویز مشرف کے لئے دار ورسن کی آزمائش کا دن ہے۔ مَیں نے اسے کہا کہ بابا مَیں تو رموزِ مملکت کی دھوپ چھاو¿ں سے آزاد ہو کر ایک کھلے میدان میں شیشم کے درخت کے نیچے بیٹھنا زیادہ پسند کرتا ہوں، بجائے اس کے کہ پوش مکانوں میں بیٹھ کر صبح یہ سنوں کہ ہمارے ایک محترم رکن قومی اسمبلی عدالت سے تین سال قید کی سزا ہونے پر میڈیا کے سامنے زار و قطار رو دئیے تو شام کو کسی اور عدالت سے رہائی پا کر رونے دھونے کا وہی پہلے والا منظر ریکارڈ کروا دیا.... ہم نے لڑکپن میں کئی فلموں میں ہیروئنوں کو روتے بھی دیکھا اور پھر فوراً بعد ہنستے بھی، مگر ایک تو یہ ہیرو صاحبان اس نعمت سے بہت کم بہرہ ور ہوتے تھے(یعنی رونے دھونے کے دونوں ورشنوں سے) اور دوسرے سیاست اور فلم کا آپس میں کیا تعلق؟.... جمشید دستی صاحب اور سلطان راہی مرحوم کی فیلڈز تو مختلف ہیں.... اس کے بعد مَیں نے پیشگوئی کی کہ دیکھ لینا آج پرویز مشرف صاحب کی اپیل مسترد ہو جائے گی اور ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا جائے گا۔میرا عزیز شایدکچھ زیادہ ہی فوج کا جانثار تھا، بولا:”بھائی جان! آپ دیکھ لینا، مشرف کو کچھ نہیں ہوگا۔ آپ کو یاد ہے ناں کہ وہ دُبئی سے جب ہوائی جہاز پر کراچی کے لئے سوار ہوئے تھے تو بازو پر امام ضامن کی سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔ آپ دیکھیں گے کہ مولا علی کے صدقے اورپنجتن پاک کی برکت سے مشرف کو اول تو بری کر دیا جائے گا یا کوئی بعد کی تاریخ دے دی جائے گی“۔میں نے جواب دیا کہ:” بھائی تاریخ دینے کا وقت گزر چکا۔ شاید آپ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نادر شاہی احکامات کی خبر نہیں۔ آج مشرف صاحب کے لئے تخت یا تختے کا دن ہے.... کئی بڑے بڑے لوگوں کی طرح میری بھی دلی تمنا ہے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ اپیل خارج ہو جائے اور جب وہ فوجی آمر، کمرئہ عدالت سے باہر آئے تو ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگی ہوں اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ منظر ساری دنیا دیکھ رہی ہو.... ماضی میں سارے آمروں کا حشر آپ نے دیکھ لیا ہے ناں.... صدام، علی بن صالح اور معمر قذافی وغیرہ آج کہاں ہیں؟.... اور آج مصر کا حسنی مبارک کس حال میں ہے؟.... وہ بھی تو انورالسادات کے قتل کے بعد جب برسر اقتدار آیا تھا تو فضائیہ کا ایئرچیف مارشل تھا....“ ”میرے عزیز! فوجی آمروں کے لئے یہ ماہ و سال بہت منحوس جا رہے ہیں۔ کل ہمارے ایک ٹی وی چینل پر ملک کے مشہور و معروف ”بنگالی بابے“ بیٹھے شستہ و رفتہ انگریزی اور اردو زبانوں میں ستاروں کی گردش دیکھ کر استدلال کر رہے تھے کہ مشرف کا ستارہ برج زحل میں آچکا ہے اور ایک دوسرے چینل پر ایک دست شناس، ٹائی بہ گلو، جنرل مشرف کی ہتھیلی کا امپریشن (نقش) ٹی وی کی سکرین پر دکھا کر دعویٰ کر رہا تھا کہ’ ان کی زندگی کی لکیر کا آخری حصہ بہت کٹا پھٹا ہے جو اس بات کی نشانی ہے کہ 60 برس کی عمر کے بعد اس شخص کے دست و بازو، بے دست و پا ہو جائیں گے اور ان کی زندگی کے آخری ایام کی لکیر تو نہایت ہی مدھم ہے.... اس بنا پر مَیں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جناب مشرف جب عدالت سے باہر نکلیں گے تو کسی بلٹ پروف گاڑی میں نہیں، بلکہ پولیس وین میں دھکیل کر بٹھا دئیے جائیں گے.... یہ لمحہ کتنا عبرت آموز ہوگا.... ماڈرن بابا بنگالی نے کہا کہ مجھے اس آمر کا انجام نوشتہءدیوار معلوم ہو رہا ہے۔ آخر مظلوموں کی بددعائیں رنگ تو لا کر رہتی ہیں.... وہ کسی کا شعر ہے ناں:‘بترس از آہِ مظلوماں کہ ہنگامِ دعا کروناجابت از درِ حق بہر استقبال می آیدترجمہ:ڈرو مظلوم کی آہوں سے جب اٹھی ہیں سینے سے قبولیت ہے کرتی خیر مقدم چرخ سے آکر  مَیں ان کی باتیں سن کر تا دیر مشرف دور کے مظالم یاد کرتا رہا۔پھر مَیں نے گاڑی کے شیشے بند کر کے AC چلا دیا تاکہ گفت و شنید میں خلل نہ پڑے.... جب بھیرہ آیا تو ہم نے دس پندرہ منٹ نیچے اتر کر ٹانگیں سیدھی کیں اور دوبارہ سوئے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔ بھائی صاحب نے جو اتنا عرصہ میرا بھاشن سنتے رہے تھے اپنا جوابی مائیک کھول دیا: ”بھائی جان! اگرجنرل صاحب کو ہتھکڑیاں لگ بھی گئیں تو کوئی بات نہیں.... سلطان راہی مرحوم ومغفور بھی اپنی کئی فلموں میں یہ تبصرہ کر کے پابند سلاسل لوگوں کو یہ مردئہ جانفراءسنایا کرتے تھے کہ ”ہتھکڑی تو مردوں کا زیور ہوتی ہے“.... پھر کہنے لگے میری ساتویں یا آٹھویں حس کہہ رہی ہے کہ مشرف کا بال تک بیکا نہیں ہوگا!“....”کون سی آٹھویں حس ؟“.... مجھے غصہ آگیا....” تم نے فارسی کا وہ محاورہ نہیں سن رکھا گا کہ .... باش، برادرِ خورد مباش.... کیا تم اس محاورے کو سچا ثابت کرنے کے لئے اس ناپاک اور منحوس جانور کی آٹھویں حس کی بات کر رہے ہو“۔اتنے میں ہم کوہستانِ نمک کو عبور کرتے ہوئے کلرکہار کراس کر آئے تھے۔ راستے میں سڑک کنارے ایک سائن بورڈ نظر آیا جس پر”چکری“ لکھا ہوا تھا۔ مَیں نے بیٹھے بیٹھے دور ایک گاو¿ں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ” وہ دیکھ رہے ہو ناں!.... وہ مسلم لیگ (ن) کے ایک عظیم اور بے باک رہنما اور گزشتہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا گاو¿ں ہے۔ کیا دھڑلے سے مشرف کے لتے لیا کرتے تھے!“۔”بھائی جان! انہیں کون نہیں جانتا؟.... پورے پانچ برس تک چکری کے یہ چکر باز، جنرل صاحب کے باہر رہنے کے دوران ”شیر“ بنے رہے، لیکن جب سے جنرل صاحب واپس تشریف لائے ہیں، تب سے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں....“”بکواس بند کر و.... چودھری صاحب ایک قومی لیڈر ہیں۔ ان کے سنہری دور میں پنجاب کے عوام کو جمہوریت کی کون کون سی نعمتیں عطا نہیں ہوئیں۔ انہوں نے واقعی ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور حکومت کو بقول کسے ”نتھ“ ڈالے رکھی.... انشاءاللہ تم دیکھ لینا ”شیر“ ایک بار پھر آئے گا۔ ان کی پارٹی کے ایک مایہءناز مقرر اور رکن قومی اسمبلی جناب عابد شیر علی نے پارٹی کو جو اُچھوتا اور ناقابلِ فراموش سیاسی سلوگن دیا تھا کہ دیکھو دیکھو، کون آیا؟.... شیر آیا، شیر آیا.... کیسا ادیبانہ، دلیرانہ اور یگانہ سلوگن تھا.... تم دیکھ لینا 12 مئی کو شیر ضرور آئے گا اور ہاں شاعر مشرق نے بھی تو کہہ رکھا ہے“: سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگااتنے میں اسلام آباد آگیا۔ استقبالیے سے ہوتے ہوئے ہم ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئے اور مَیں نے ازراہِ تجسس ٹیلی ویژن آن کر دیا.... سارے چینلوں پر خبر چل رہی تھی:” مشرف کی اپیل خارج.... ان کو گرفتار کر لیا گیا“.... مَیں یہ دیکھ کر باغ باغ ہوگیا اور چہرہ نیوز ریڈروں کا روایتی شور و غوغا سن کر گلنار ہوگیا۔ بھائی صاحب سائڈ روم سے کپڑے تبدیل کر کے باہر آئے تو مَیں ان کی طرف یوں دیکھا جیسے دہلی کے لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہراتے دیکھ لیا ہو.... جیسے دونوں جہان کی نعمتیں جھولی میں آگری ہوں.... جیسے گنجِ قارون ہاتھ آگیا ہو.... لیکن برخور دار ہونے کے باوجود بھائی کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے اور مَیں اپنے تجزئیے کی صداقت، ستارہ شناسوں کی پیشگوئی اور دست شناسوں کے علم غیب پر دسترس کا معترف ہو رہا تھا۔دریں اثنا میں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ مجھ سے آنکھیں چار کرنے سے کترا رہے ہیں اور بار بار ٹی وی کی سکرین پر نظر دوڑائے جا رہے ہیں۔ ٹی وی والوں نے مشرف کی ان تصاویر کو پردے پر پھیلایا ہوا تھا، جن میں وہ سر پکڑے کسی اداس موڈ میں بیٹھے ہیں اور سخت مایوس اور تھکے ہارے نظر آتے ہیں۔ لیکن مجھے تو انتظار تھا کہ ان کو پابندِ سلاسل دیکھوں تاکہ جمہوریت پر میرے ایمان اور جمہوریت کے انتقام کا جیتا جاگتا ثبوت مجسم ہو کے سامنے آجائے۔ پھر یہ ہوا کہ اچانک ٹیلی ویژن کی پٹیوں کی تحریریں ”باجماعت“ بدلنے لگیں....-1 مشرف کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ وہ کمرہ عدالت سے فرار ہوگئے۔-2 ان کی سیکیورٹی والے ان کو بھگا لے گئے۔-3 مشرف اپنے گھر چک شہزاد پہنچ گئے، وہاں سہ پہر پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔-4 پولیس ان کو گرفتار نہ کر سکی۔-5 جج صاحبان کی شدید برہمی-6 سیاسی پارٹیوں کے قائدین خاموش!مَیں نے بردارِ عزیز کی طرف دیکھا.... اب وہ مجھ سے آنکھ ملانے سے کترا رہے تھے۔ ان کے چہرے مہرے پر جیسے اوس پڑ گئی ہو۔اتنے میں بجلی چلی گئی.... ہم نے ٹی وی بند کیا اور اپنے کام کاج کے لئے راولپنڈی کا رُخ کیا۔ خلاف توقع کام جلد ہوگیا اور ہم وہیں سے فارغ ہو کر واپس موٹر وے پر آگئے۔ ہوٹل سے ہم نے پہلے ہی چیک آو¿ٹ کر دیا تھا۔واپسی پر مَیں نے بھائی کو کہا: ”یار! سیاست کے یہ اتار چڑھاو¿ تو ہوتے ہی رہیں گے۔ جرنیلوں کو آج نہیں تو کل اپنے کئے کی سزا مل کے رہے گی.... سیاسی رہنماو¿ں نے اپنے گزشتہ پانچ سالہ دورِ مسعود میں پاکستان کو خوشحالی کے جس زینے لا بٹھایا ہے، وہ اب انشاءاللہ اگلے پانچ برسوں میں سکینڈ فلور پر لگا دیا جائے گا اور تم دیکھنا کہ پاکستانی قوم کہاں سے کہاں نکل جائے گی۔ گزشتہ 60 مہینوں کے دورِ جمہوریت میں پاکستان نے جو اندرونی اور بیرونی کامیابیاں حاصل کی ہیں، ان کی اگلی فصل اُگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انشاءاللہ 12 مئی کو ہماری چاندنی رات میں ایک اور چاند طلوع ہو گا۔ کیا ہوا اگر آمر کو جیل نہیں بھیجا گیا.... کیا ہوا اگر پولیس والے منہ دیکھتے رہ گئے ....اور کیا ہوا کمانڈو ان کو اُچک کر لے گئے.... لیکن تم دیکھ لینا ایک دن مجرم کیفر کردار کو پہنچ کے رہے گا.... ان کے چک شہزاد والے گھر کو سب جیل (Sub Jail) قرار دے دیا گیا ہے.... سینیٹ کے محترم اراکین نے آمر کوقرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے اور نگران حکومت پر عدالتِ عالیہ کے احکام کی تعمیل نہ کرنے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے.... فوجی کمانڈو کو فرار نہیں ہونے چاہئے تھا۔ دلیری کا تقاضا تھا کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کرتے اور کلائیوں پر ہتھکڑیوں کے کنگن سجا کر باہر آتے تو قوم کے چہرے کیسے کھل اٹھتے!.... شکر ہے سپریم کورٹ نے ان کے 40 کنال کے محل کو مسمار کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے ہیں.... دیکھ لینا بہت جلد یہ سارے خواب پورے ہو جائیں گے اور ایک دن مشرف اپنی محل سرائے کے ملبے کے سامنے ایک بار اور سر پکڑ کر بیٹھے ہوں گے۔ یہ سن کر میرا عزیز سارا راستہ چپ بیٹھا رہا۔ اس نے اختتامِ سفر پر صرف ایک جملہ کہا:”بھائی جان! تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں، جو ابھی چند دنوں میں آپ کو نظر آجائے گی.... فی الحال تو جنرل صاحب اپنے ”محل“ میں رکھے اپنے ذاتی ہارمونیم کے ساتھ اس غزل کے ریاض سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں:مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیاتھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو بھیکہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام آیا

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پریہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقتِ قیام آیا

مزید :

کالم -