پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ،پھر بھی لوڈشیڈنگ!

پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ،پھر بھی لوڈشیڈنگ!

  

خبر ہے کہ ارسا نے ڈیم سے پانی کے اخراج میں اضافے کی اجازت دی، جو معمول کے مطابق ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ پن بجلی کی پیداوار میں بھی ساتھ ہی اضافہ ہوگیا، اس کے علاوہ یہ توقع بھی ہے کہ موسم میں تبدیلی کے باعث برف پگھلنا شروع ہو جائے گی تو پانی کے ذخائر کی صورت حال مزیدبہتر ہوگی۔ ارسا کے فیصلے کے بعد پانی کے اخراج میں اضافے سے کسانوں کو تو فصل کی بوائی کے لئے پانی ملے ہی گا اس سے بجلی کی پیداوار بھی بڑھی لیکن اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا کہ لوڈشیڈنگ کے دورانئے میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ حالات اور بھی خراب ہو گئے ہیں، اب تو شہر کے ارد گرد کے گرڈ سٹیشنوں پر بیک وقت تین، تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، اور یوں حساب لگایا جائے تو کل دورانیہ سولہ سے انیس گھنٹے کا بنتا ہے صارفین کو چوبیس گھنٹوں میں پانچ سے آٹھ گھنٹے ہی بجلی ملتی ہے۔ خبر یہ ہے کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کے انتظامی ادارے نے نجی پاور کمپنیوں سے حاصل کی جانے والی بجلی میں ایک ہزار ساٹھ میگا واٹ کمی کردی ہے۔ دوسرے معنوں میں پن بجلی کا اضافہ تھرمل کم کرکے غیر مفید کردیا گیا ہے۔ اس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بجلی کی پیداوار اتنی زیادہ کم نہیں جتنی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے اور یہ سب صارفین کو پریشان کرنے کے لئے ہے تاکہ احتجاج ہو اور حکومت سے مزید رقم حاصل کی جا سکے کیونکہ عذر یہی پیش کیا جاتا ہے کہ نجی پاور کمپنیاں اور پی، ایس، او واجبات مانگتے ہیں۔ اس کے لئے حساب تو سینکڑوں اربوں کا بتایا جاتا ہے لیکن مانگے30۔ ارب روپے جا رہے ہیں کہ ایک ماہ کے لئے کافی ہوں گے۔ اس کے بعد آنے والی حکومت خود انتظام کرے گی۔ نگران حکومت نے نوٹس تو لیا ہے لیکن محکمے کی اس حرکت کے بارے میں غور بھی نہیں کیا ۔ سوال یہ ہے کہ پن بجلی کی پیداوار بڑھی تو تھرمل میں ایک ہزار ساٹھ میگاواٹ کی خریداری کیوں کم کی گئی؟ نگران حکومت کو اس کا سختی سے نوٹس لینا ہو گا عوام بہت زیادہ پریشان ہیں کہ رات کو سو نہیں سکتے۔ یو، پی،ایس جواب دے گئے۔ فریج اور فریزر کام نہیں کرتے اشیا بھی خراب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ٭

مزید :

اداریہ -