ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت فنڈ ختم(مریضوں کا بڑا حال)

ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت فنڈ ختم(مریضوں کا بڑا حال)

  

لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں واقع ٹیچنگ اور ڈسٹرکٹ اینڈضلعی حکومت کی ماتحت ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت میں منٹیننس فنڈز ختم ہو گئے ہیں جس کے باعث مریضوں کو سہولیات دینے والے یہ ہسپتال خود بیمار ہو گئے فنڈز نہ ہونے سے ایئر کنڈیشنر جو کہ اربوں روپے کے لگائے گئے تھے ان کی سروس نہیں ہوسکی الیکٹرک واٹر کولر مرمت نہیں ہو سکے جس سے ہسپتالوں میں زیر علاج مریض ٹھنڈے پانی سے محروم ہوگئے اس طرح 60 فیصد وارڈوں میں پنکھے خراب ہیں شدید گرمی شروع ہونے کے باعث مریضوں کو دشواری کا سامنا ہے اسی طرح بلب اور ٹیوبوں کو تبدیل بھی نہیں کیا جا رہا فنڈز نہ ہونے کے باعث عملے کے پاس سٹیشنری بھی ختم ہو چکی ہے اور ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کو نسخہ لکھنے کے لئے سرکاری کاغذ دستیاب نہیں رہے ضلعی حکومت کی ماتحت ڈسپنسریوں اور بنیادی مراکز صحت میں سفیدی تک نہیں ہوسکی بتایا گیا ہے کہ 70 فیصد مراکز صحت کے اندر تعمیر و مرمت فنڈز ختم ہو چکے ہیںجس سے ہسپتال مزید مسائل کا شکار ہیں گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے مگر فنڈز نہ ہونے سے ہسپتال میں وارڈوں کو ٹھنڈا کرنے کیلئے لگائے گئے ایئر کنڈیشنرز کی سروس بھی نہیں ہو سکی جس سے گرمی سے مریضوں کو مسائل کا سامنا ہے ضلعی حکومت نے جن ہسپتالوں میں ایئر کولر لگائے گئے ہیں ان میںخسیں ڈالنے کے فنڈز بھی نہیں ہیں اس طرح تمام ہسپتالوں میں لگائے گئے الیکٹرک کولرز کی اکثریت خراب ہو چکی ہے۔ اور ٹھیک نہیں کرایا جا سکایہاں تک کہ پانی کے فلٹر تبدیل کرنے تک کے پیسے نہیں ہیں معمولی نقائص واے پنکھوں کو بھی ٹھیک نہیں کروایا گیا۔ 50 فیصد پنکھے خراب پڑے ہیں وارڈز آگ کی بھٹیاں بنتے جا رہے ہیں اور مریضوں کو وارڈوں کے اندر ہوا بھی میسر نہیں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ برے حالات ضلعی حکومت کے ماتحت ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ہیں جہاں سٹیشنری تک نہیں ہے جس سے اکثر ڈسپنسریاں بھوت بنگلہ بن چکی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈسپنسریوں میں مریضوں کو ٹھنڈا پانی فراہم کرنے کیلئے ضلعی حکومت نے برف کے لئے فنڈز بھی جاری نہیں کئے اور نہ ہی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈز جاری کئے اس حوالے سے سیکرٹری صحت کیپٹن عارف ندیم کا کہنا تھا کہ ایسے حالات نہیں ہیں مگر مسائل کے حوالے سے ہسپتال کی انتظامیہ کو نگران وزیراعلیٰ حکم صادر کر چکے ہیں کہ ان مسائل کو ختم کریں اور کہا ہے کہ ایک میٹنگ کا انعقاد کریں گے اور خفیہ دورے کریں گے۔ 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -