مشرف کیخلاف کیسی کاروائی کی گئی کال کوٹھڑی کی بجائے گھر پہنچا دیا گیا

مشرف کیخلاف کیسی کاروائی کی گئی کال کوٹھڑی کی بجائے گھر پہنچا دیا گیا

  

   کوئٹہ(ثناءنیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مشرف کو فوری طورپر گرفتار نہ کیا جانا عدلیہ کی تضحیک ہے اگر مشرف کی جگہ کسی عام آدمی نے قانون توڑا ہوتا تو اسے ہتھکڑی لگا کر کال کوٹھری میں ڈال دیا جاتا الیکشن ہی ہر مسئلے کا حل ہیں کوئٹہ ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے بعض کیسز کو ٹیسٹ کیس بنانا چاہیے جیسے ثناءاللہ زہری کا کیس پولیس اور انتظامیہ کے لیے ٹیسٹ کیس ہے ن لیگ کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان کے واقعات کی تہہ تک جانا چاہیے اور یہ جاننے کی کوشش کی جانی چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے بلوچستان کو اس نہج تک پہنچایا ہے وہ مناظر سب کے سامنے ہیں جب اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو شہید کیا جاتا رہا ہے اور پھر ان کے ورثہ اتنی ٹھنڈ میں ان کے جنازوں کو سڑکوں پر رکھ کر احتجاج کرتے رہے ہیں اور پھر بلوچستان کی نام نہاد حکومتوں نے جو کردار ادا کیا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اب عوام کو چاہیے کہ انتخابات میں ان جمہوری قوتوں کو منتخب کرنا چاہیے جو بلوچستان کے عوام کا درد رکھتے ہوں اور وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ بھر پور تعاون کریں یہاں نہایت ہی معقول انتظامیہ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ مشرف پر کس طرح کا قانون اپلائی کیا گیا ہے کہ اسے کال کوٹھری میں لے جانے کی بجائے گھر پہنچادیا گیا ہے آئی جی اسلام آباد کو یہ بتانا ہوگا کہ عدالتی حکم پر کیوں عمل نہ کیا گیا آئی جی کو پرویز مشرف کو جیل پہنچانے کی نہیں بلکہ محفوظ طریقے سے گھر پہنچانے کی فکر تھی۔ سوال پر نواز شریف نے کہا کہ ہم پہلے ہی 1990 میں تبدیلی لا چکے ہیں اور پھر 1997ءمیں تبدیلی نہیں آچکی تھی۔ملک تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا ملک میں تیزی سے ترقی ہو رہی تھی اگر اللہ نے آئندہ موقع دیا تو ترقی کے اس سفر کو جاری رکھیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -