ٹکراﺅ کا کوئی خدشہ نہیں، پرویز مشرف ادارہ تو نہیں

ٹکراﺅ کا کوئی خدشہ نہیں، پرویز مشرف ادارہ تو نہیں
ٹکراﺅ کا کوئی خدشہ نہیں، پرویز مشرف ادارہ تو نہیں

  

! تجزیہ: چودھری خادم حسینملکی حالات کے حوالے سے کئی مواقع آئے جب اداروں کے ٹکراﺅ کے آثار یا خدشات محسوس کئے گئے لیکن ایسا کبھی ہوا نہیں کہ برداشت کے جذبے نے اثر دکھایا، ماضی قریب میں پیپلزپارٹی اور اتحادی حکومت دباﺅ کا شکار رہی، کئی فیصلے اس کے خلاف گئے احتجاج بھی ہوا لیکن بات ٹکراﺅ یا محاذ آرائی تک نہ گئی اور بالآخر عام انتخابات کا وقت آ گیا، اب میدان بھی موجود اور گھوڑے بھی تیار ہیں، اب بھی خدشات اور خطرات ہیں۔ خاص طور پر اے این پی اور پاکستان پیپلزپارٹی نشانے پر ہیں، اے این پی کے جلسوں پر خودکش حملے ہوئے اور بم دھماکے کئے گئے اب بات کچھ آگے بڑھی اور مظفر گڑھ میں پیپلزپارٹی کے صوبائی امیدوار کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا گیا اور ایک کو جان سے مار دیا گیا، اس کے باوجود نہ تو اے این پی اور نہ ہی پیپلز پارٹی میدان چھوڑنے کو تیار ہے۔ البتہ مجبوراً صدر مملکت آصف علی زرداری کو نوٹس لینا پڑا، انہوں نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی۔ابراہیم کو یاد دلایا کہ عام انتخابات کے حوالے سے اب الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں ہیں اور الیکشن کمیشن کو تمام سیاسی قائدین اور امیدواروں کے تحفظ کا انتظام کرنا چاہئے اور ان کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جائے، صدر زرداری نے اے این پی اور پیپلزپارٹی کا نام لئے بغیر سب کے لئے بات کی کہ یہی اب ان کے منصب کا تقاضا ہے، بہرحال انہوں نے باور کرایا ہے کہ وہ ابھی ہیں۔ایک طرف یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف نہ ڈرنے والے بے خوف شخص نے ایک ہی جھٹکا لگنے کے بعد دہائی دینا شروع کردی اور اداروں کے ٹکراﺅ کی بات کردی ہے، جنرل (ر) پرویز مشرف کے نزدیک انصاف شاید یہی ہے کہ ان کو پوچھا ہی نہ جائے اور اگر ان کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے تو یہ انصاف نہیں ہوگا اور یوں انصاف نہ ہوا تو اداروں کا ٹکراﺅ ہو گا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنا دور اقتدار بڑے ٹھسے سے گزارا ہوا ہے اور وہ اس وقت اوپر رب اور نیچے سب والی پوزیشن میں تھے۔ ان دنوں واقعی کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور پاکستان آتے ہی انہوں نے یہ نعرہ بھی لگایا تھا لیکن پہلے ہی جھٹکے میں ہوا نکل گئی اور وہ اداروں کی بات کرنے لگے ہیں شاید وہ اب بھی خود کو ادارہ ہی سمجھتے ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ گزشتہ پانچ سالہ دور مفاہمت کا رہا اور جس ادارے کی طرف وہ اشارہ کر رہے ہیں اس نے ہر اہم موقع پر تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا اور حالات کے مطابق مفاہمت کی پالیسی سے ہی اتفاق بھی کیا چنانچہ کسی بھی مرحلے پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، محترم پرویز مشرف اگر گم شدہ افراد کی بازیابی کے کیس ہی کو لیں تو ان کو اندازہ ہو جائے گا کہ دو اہم اداروں کے درمیان بھی کسی قسم کے ٹکراﺅ یا پیچیدگی کی نوبت نہیں آئی اور اب بھی نہیں آئے گی کہ معروضی حالات اجازت نہیں دینے دوسرے قانون تو سب کے لئے برابر ہے۔ انصاف کی توقع بالکل درست ، یہ بھی تو قانون اور آئین کے دائرہ کار کے مطابق ہی ہو گا۔ حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ یہ خدشہ ظاہر کرکے خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جو بیکار جائے گی۔ جہاں تک ملک میں انتخابی ماحول کا تعلق ہے تو خدشات پائے جا رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر سبھی انتخابات چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر نگران حکومتوں کو اپنے فرائض ادا کرنا ہیں تو سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو بھی کھیل کے قواعد کے مطابق ہی کھیلنا ہو گا۔ پنجاب کی انتظامیہ نے یہ اہتمام کیا ہے کہ ہر شہر میں انتخابی جلسوں کے لئے مقامات مختص کر دیئے اور درخواست کی ہے کہ انتخابی جلسے ان مقامات پر پیشگی اطلاع دے کر کئے جائیں تاکہ معقول تر حفاظتی انتظامات ہو سکیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ یہ بہتر صورت ہے اس لئے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو تعاون کرنا چاہئے اس کے علاوہ امیدوار حضرات کو میل ملاپ اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم پر جانے کے لئے خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہئیں۔ دعا ہے کہ انتخابات ہوں اور خیریت سے ہوں وفاقی اوربلوچستان کی نگران حکومتوں کو بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے انتخابی جلسے میں بم دھماکے کا سخت ترین نوٹس لینا چاہئے۔ ادھر پشاور اور خیبر پختون خوا کے دوسرے علاقوں میں تخریبی کارروائیاں غالباً وادی تیراہ میں پڑنے والے دباﺅ سے بچاﺅ کے لئے ہوں اب یہ عسکری قیادت کے غور کرنے کا مقام ہے کہ یہاں آپریشن کو اور توسیع دی جائے یا موجودہ صورت ہی ان کے مطابق حالات کو درست کر دے گی۔ انتخابات کا ذکر ہوا تو ایک دلچسپ انکشاف اور سامنے آیا، اتفاق سے بجلی نے مہربانی کی تو دو روز قبل ٹیلی ویژن دیکھنے کا موقع ملا، جناب مجیب الرحمان شامی کے پروگرام ”نقطہ نظر“میں پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد سے کئے جانے والے سوالات کے جواب سننے کا موقع مل گیا۔ ان سے پولنگ کے روز امیدواروں کو ووٹروں کے لئے ٹرانسپورٹ کی ممانعت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب چشم کشا تھا، وہ بولے! یہ پابندی الیکشن کمیشن نے تو نہیں لگائی۔ کمیشن نے تو صرف اعادہ کیا ہے۔ یہ تو پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ہے جو خود پارلیمان نے لگائی اگر یہ غلط ہے تو پھر پارلیمان والوں کو اس میں ترمیم کر لینا چاہئے تھی۔ اس جواب سے واضح ہو گیا کہ جو سیاسی رہنما اور جماعتیں معترض ہیں انہوں نے خود بھی قانون کا مطالعہ نہیں کیا، اب اگر یہ پابندی ہے تو پھر یہ خود منتخب نمائندوں کے بنائے گئے قانون کے مطابق ہے مجبوری ہے، ضمنی انتخابات میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی پارلیمان کو تبھی ترمیم کر لینا چاہئے تھی نہیں کی تو اب برداشت کریں۔ 

ٹکراﺅ کا کوئی خدشہ نہیں، پرویز مشرف ادارہ تو نہیں! تجزیہ: چودھری خادم حسینملکی حالات کے حوالے سے کئی مواقع آئے جب اداروں کے ٹکراﺅ کے آثار یا خدشات محسوس کئے گئے لیکن ایسا کبھی ہوا نہیں کہ برداشت کے جذبے نے اثر دکھایا، ماضی قریب میں پیپلزپارٹی اور اتحادی حکومت دباﺅ کا شکار رہی، کئی فیصلے اس کے خلاف گئے احتجاج بھی ہوا لیکن بات ٹکراﺅ یا محاذ آرائی تک نہ گئی اور بالآخر عام انتخابات کا وقت آ گیا، اب میدان بھی موجود اور گھوڑے بھی تیار ہیں، اب بھی خدشات اور خطرات ہیں۔ خاص طور پر اے این پی اور پاکستان پیپلزپارٹی نشانے پر ہیں، اے این پی کے جلسوں پر خودکش حملے ہوئے اور بم دھماکے کئے گئے اب بات کچھ آگے بڑھی اور مظفر گڑھ میں پیپلزپارٹی کے صوبائی امیدوار کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا گیا اور ایک کو جان سے مار دیا گیا، اس کے باوجود نہ تو اے این پی اور نہ ہی پیپلز پارٹی میدان چھوڑنے کو تیار ہے۔ البتہ مجبوراً صدر مملکت آصف علی زرداری کو نوٹس لینا پڑا، انہوں نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی۔ابراہیم کو یاد دلایا کہ عام انتخابات کے حوالے سے اب الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں ہیں اور الیکشن کمیشن کو تمام سیاسی قائدین اور امیدواروں کے تحفظ کا انتظام کرنا چاہئے اور ان کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جائے، صدر زرداری نے اے این پی اور پیپلزپارٹی کا نام لئے بغیر سب کے لئے بات کی کہ یہی اب ان کے منصب کا تقاضا ہے، بہرحال انہوں نے باور کرایا ہے کہ وہ ابھی ہیں۔ایک طرف یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف نہ ڈرنے والے بے خوف شخص نے ایک ہی جھٹکا لگنے کے بعد دہائی دینا شروع کردی اور اداروں کے ٹکراﺅ کی بات کردی ہے، جنرل (ر) پرویز مشرف کے نزدیک انصاف شاید یہی ہے کہ ان کو پوچھا ہی نہ جائے اور اگر ان کے خلاف قانون حرکت میں آتا ہے تو یہ انصاف نہیں ہوگا اور یوں انصاف نہ ہوا تو اداروں کا ٹکراﺅ ہو گا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنا دور اقتدار بڑے ٹھسے سے گزارا ہوا ہے اور وہ اس وقت اوپر رب اور نیچے سب والی پوزیشن میں تھے۔ ان دنوں واقعی کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور پاکستان آتے ہی انہوں نے یہ نعرہ بھی لگایا تھا لیکن پہلے ہی جھٹکے میں ہوا نکل گئی اور وہ اداروں کی بات کرنے لگے ہیں شاید وہ اب بھی خود کو ادارہ ہی سمجھتے ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ گزشتہ پانچ سالہ دور مفاہمت کا رہا اور جس ادارے کی طرف وہ اشارہ کر رہے ہیں اس نے ہر اہم موقع پر تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا اور حالات کے مطابق مفاہمت کی پالیسی سے ہی اتفاق بھی کیا چنانچہ کسی بھی مرحلے پر کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، محترم پرویز مشرف اگر گم شدہ افراد کی بازیابی کے کیس ہی کو لیں تو ان کو اندازہ ہو جائے گا کہ دو اہم اداروں کے درمیان بھی کسی قسم کے ٹکراﺅ یا پیچیدگی کی نوبت نہیں آئی اور اب بھی نہیں آئے گی کہ معروضی حالات اجازت نہیں دینے دوسرے قانون تو سب کے لئے برابر ہے۔ انصاف کی توقع بالکل درست ، یہ بھی تو قانون اور آئین کے دائرہ کار کے مطابق ہی ہو گا۔ حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ یہ خدشہ ظاہر کرکے خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جو بیکار جائے گی۔ جہاں تک ملک میں انتخابی ماحول کا تعلق ہے تو خدشات پائے جا رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر سبھی انتخابات چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر نگران حکومتوں کو اپنے فرائض ادا کرنا ہیں تو سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو بھی کھیل کے قواعد کے مطابق ہی کھیلنا ہو گا۔ پنجاب کی انتظامیہ نے یہ اہتمام کیا ہے کہ ہر شہر میں انتخابی جلسوں کے لئے مقامات مختص کر دیئے اور درخواست کی ہے کہ انتخابی جلسے ان مقامات پر پیشگی اطلاع دے کر کئے جائیں تاکہ معقول تر حفاظتی انتظامات ہو سکیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ یہ بہتر صورت ہے اس لئے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو تعاون کرنا چاہئے اس کے علاوہ امیدوار حضرات کو میل ملاپ اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم پر جانے کے لئے خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہئیں۔ دعا ہے کہ انتخابات ہوں اور خیریت سے ہوں وفاقی اوربلوچستان کی نگران حکومتوں کو بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے انتخابی جلسے میں بم دھماکے کا سخت ترین نوٹس لینا چاہئے۔ ادھر پشاور اور خیبر پختون خوا کے دوسرے علاقوں میں تخریبی کارروائیاں غالباً وادی تیراہ میں پڑنے والے دباﺅ سے بچاﺅ کے لئے ہوں اب یہ عسکری قیادت کے غور کرنے کا مقام ہے کہ یہاں آپریشن کو اور توسیع دی جائے یا موجودہ صورت ہی ان کے مطابق حالات کو درست کر دے گی۔ انتخابات کا ذکر ہوا تو ایک دلچسپ انکشاف اور سامنے آیا، اتفاق سے بجلی نے مہربانی کی تو دو روز قبل ٹیلی ویژن دیکھنے کا موقع ملا، جناب مجیب الرحمان شامی کے پروگرام ”نقطہ نظر“میں پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد سے کئے جانے والے سوالات کے جواب سننے کا موقع مل گیا۔ ان سے پولنگ کے روز امیدواروں کو ووٹروں کے لئے ٹرانسپورٹ کی ممانعت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب چشم کشا تھا، وہ بولے! یہ پابندی الیکشن کمیشن نے تو نہیں لگائی۔ کمیشن نے تو صرف اعادہ کیا ہے۔ یہ تو پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ہے جو خود پارلیمان نے لگائی اگر یہ غلط ہے تو پھر پارلیمان والوں کو اس میں ترمیم کر لینا چاہئے تھی۔ اس جواب سے واضح ہو گیا کہ جو سیاسی رہنما اور جماعتیں معترض ہیں انہوں نے خود بھی قانون کا مطالعہ نہیں کیا، اب اگر یہ پابندی ہے تو پھر یہ خود منتخب نمائندوں کے بنائے گئے قانون کے مطابق ہے مجبوری ہے، ضمنی انتخابات میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی پارلیمان کو تبھی ترمیم کر لینا چاہئے تھی نہیں کی تو اب برداشت کریں۔ 

مزید :

تجزیہ -