مولوی فضل نے پنجاب پر حملوں کیلئے راستہ مانگا انکار کیا تو ہم زد میں آگئے

مولوی فضل نے پنجاب پر حملوں کیلئے راستہ مانگا انکار کیا تو ہم زد میں آگئے

  

اسلام آباد(ثنا نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی نے ایک عجیب انکشاف کیا ہے جس سے نیا سیاسی مباحثہ شروع ہوسکتا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ مسلح تنظیم کے رہنما مولوی فضل اللہ نے فون کرکے ان سے کہا تھا کہ انہیں پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے صوبہ خیبر پختونخوا سے راستہ دیا جائے۔ ان کے انکار پر اے این پی کے رہنماﺅں پر حملے شروع ہوگئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ پنجا میں دہشت گردی تو 2008ءسے پہلے بھی ہوتی رہی ہے جبکہ کسی دہشت گرد کا کسی سیاسی رہنما سے راستہ مانگنا غیر منطقی لگتا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں اسفندیار ولی نے کہا کہ ان کے ساتھیوں پر حملے پنجاب کو بچانے کی پاداش میں شروع ہوئے ورنہ ہمارا طالبان سے کوئی جھگڑا نہیں صرف نظریاتی اختلاف ہے اے این پی کارکن نڈر ہیں وہ حملوں سے خوفزدہ نہیں موت کا ایک دن معین ہے، موت کے خوف سے ہم ملک و قوم کی خدمت سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے اسفند یار ولی نے کہا کہ دیر آید درست آید کے مصداق کم از کم ایک ڈکٹیٹر کو پکڑ تو لیا گیا ہے جن لوگوں نے ججز کو گرفتار کیا آج وہ قید میں ہیں اور جس وزیر اعظم نے ججز کو رہا کیا وزیراعظم ہاﺅس سے ”رہا “کر دیا، اب عدلیہ کا بہت بڑا امتحان ہے دیکھتے ہیں پرویزمشرف کے ساتھ کیا کرتی ہے، پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل کا اثر انتخابات پر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے موجودہ حالات کا سلسلہ جہاد افغانستان سے شروع ہوا ان حالات کے بڑے ذمہ دار جنرل ضیاءالحق ہیںاے این پی پر حملوں کا سلسلہ 2008ءسے شروع ہوا جب ہماری خیبرپختونخوا میں حکومت بنی تو کچھ دنوں کے بعد میں پشاور سے اسلام آباد آرہا تھا توفضل اللہ کا فون آیا اور مجھ سے کہا کہ تم 1947ءسے آج تک کوشش کر رہے ہو مگر پنجاب تمہیں حقوق نہیں دے رہا ہمیں تم سے کوئی کام نہیں ہے مگر ہمیں پنجاب کو سبق سکھانے کے لیے راستہ دے دو جس پر میںنے مولانا سے پوچھا کہ تم پنجاب میں کیا کروگے وہاں جاکرعام آدمی کو مارو گے اس لیے میں راستہ نہیں دے سکتا ۔ میں نے کہا کہ جب تک ہم اقتدار میں ہیں تمہیں پنجاب جانے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے اس کے جواب میں فضل اللہ نے کہا کہ اگر تم ہمیں اجازت نہیں دو گے تو ہم پنجاب جانے کے لیے اپنا راستہ خود بنائیں گے جس کے جواب میں میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر تم راستہ بنانا چاہتے ہو تو بنا لو اگر تم نے پنجاب جانے کا راستہ بنا لیا تو دنیا پر کم از کم یہ ثابت ہو جائے گا کہ اے این پی نے تمہیں راستہ نہیں دیا تم نے زبردستی بنایا یہاں سے اے این پی پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا حالانکہ اس سے قبل طالبان رہنما کہہ چکے تھے کہ اے این پی سے ہمارے صرف نظریاتی اختلافات ہیں۔اسفندیار ولی نے کہا کہ حملوں کی پرواہ کئے بغیر اے این پی انتخابی مہم چلائے گی اور انتخاب میں بھر پور حصہ لے گی کیونکہ ہم الیکشن کو سیاسی قوتوں کے لیے بہت ضروری سمجھتے ہیں پشاورمیں پمفلٹ تقسیم ہوئے ہیں کہ کوئی آدمی اپنے گھر پر اے این پی کا جھنڈا نہیں لگائے گا اور نہ ہی اس کے سٹکرز لگائے گا جو ایسا کرے گا اس کا ذمہ دار خود ہوگا۔اسفندیار ولی

مزید :

صفحہ اول -